ہٹلر کے ہاتھوں مظالم سہنے والے یہودی بھی اسرائیل کے خلاف بول پڑے

ہٹلر کے ہاتھوں مظالم سہنے والے یہودی بھی اسرائیل کے خلاف بول پڑے
ہٹلر کے ہاتھوں مظالم سہنے والے یہودی بھی اسرائیل کے خلاف بول پڑے

  

نیویارک(نیوز ڈیسک)دنیا بھر کے یہودیوں کا موقف ہے کہ جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر نے ان کی نسل کشی کی جیسے وہ عظیم ظلم اور ”ہولو کاسٹ“کہتے ہیں۔قسمت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ظلم کا واو یلہ کرنے والے اسرائیلی یہودی آج فلسطین پر اس قدر ظلم ڈھا رہے ہیں کہ نصف صدی قبل ہٹلر کے ظلم کا شکار ہونے والے یہودیوں کا بھی دل پسیج گیا ہے اور انہوں نے اسرائیل کے مظالم کو ہٹلر کا ہولو سٹ قرار دے دیا ہے۔امریکہ کے مشہور اخبار ”نیویارک ٹائمز“میں ہٹلر کے ہولو کاسٹ میں زندہ بچے رہنے والے یہودیوں نے ایک بیان شائع کیا ہے جس میں اسرائیلی مظالم کو فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیتے ہوئے اسرائیل کا ہولوکاسٹ قرار دے دیا ہے اخبار میں شائع ہونے والے بیان پرہولوکاسٹ میں بچنے والے 40معمر یہودیوں اور ان کے خاندانوں کے287افراد کے دستخط ہیں جن میں معصوم فلسطینیوں کی شہادت اور غزہ کے محاصرے کو غیر انسانی اور بد ترین ظلم قرار دیا گیا ہے۔ہٹلر کے ہولوکاسٹ سے بچنے والے یہودیوں کو مغربی معاشرے میں بہت خصوصی مقام حاصل ہے اور یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ان لوگوں نے اسرائیلی مظالم کو بدترین دہشت گردی اور ہولوکاسٹ قرار دیا ہے۔

مزید : انسانی حقوق