چین میں اسلامی لباس پہننا ،داڑھی رکھنا ’جرم‘ بن گیا

چین میں اسلامی لباس پہننا ،داڑھی رکھنا ’جرم‘ بن گیا
چین میں اسلامی لباس پہننا ،داڑھی رکھنا ’جرم‘ بن گیا

  

بیجنگ(نیوزڈیسک)مغربی چین میں حکومت کا متعین کردہ ایک امام ایک غیر ملکی صحافی کو جوابات دینے سے کترا رہا ہے۔صحافی اس سے پوچھتا ہے کہ علاقے میں دیگر(Uighur)نسل کے مسلمان نوجوان داڑہی کیوں نہیں رکھتے۔اچانک ایک نو عمر لڑکا چلا کر امام سے کہتا ہے کہ آپ سچ کیوں نہیں بتاتے۔آپ بتاتے کیوں نہیں کہ حکومت نے ہمارے داڑھی رکھنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔یہ وہ ماحول ہے جو صوبہ سنکیانگ کے جنوبی علاقے میں پایا جاتا ہے. چین کی کمیونسٹ حکومت یہاں کے مسلمانوں پر شدت پسندکا الزام لگاتی ہے اور اس شدت پسندی کے خاتمے کیلئے نوجوانوں کے داڑھی رکھنے اور خواتین کے برقعہ یا نقاب اوڑھنے پر پابندی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے دارلخلافہ ارمکی میں پچھلے ہفتے کے دوران 1265 حجاب اور259سکاف قبضے میں لئے جبکہ 82بچوں کو مذہبی صحائف پڑھتے ہوئے پکڑا گیا،علاقے میں داڑھی والے نوجوانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔پولیس انہیں جگہ جگہ روکتی ہے اور حجاب پہننے والی خواتین کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے۔یاد رہے کہ ماہِ رواں کے آغاز میں سنکیا نگ صوبے کے شمالی شہر کارامے میں داڑھی والے مردوں اور حجاب والی خواتین کا بسوں میں داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔ان لوگوں کے ہسپتالوں،سکولوں اور کالجوں میں داخلہ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مزید : انسانی حقوق