دنیا کی سب سے لمبی عمارت اور سب سے بڑے ائیر پورٹ کے بعد دبئی کےلئے عنقریب ایک اور اعزاز

دنیا کی سب سے لمبی عمارت اور سب سے بڑے ائیر پورٹ کے بعد دبئی کےلئے عنقریب ایک ...
دنیا کی سب سے لمبی عمارت اور سب سے بڑے ائیر پورٹ کے بعد دبئی کےلئے عنقریب ایک اور اعزاز

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی سٹی (نیوز ڈیسک) لندن وہ شہر ہے کہ جہاں ہر سال سیاحوں کی سب سے بڑی تعداد سیر کو جاتی ہے لیکن یہ اعزاز اب صحرائے عرب کے نگینے دبئی کو منتقل ہونے والا ہے۔ یہاں نہ صرف دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ واقع ہے جو کہ 2716 فٹ بلند ہے بالکل اس شہر کا مکتوم ایئرپورٹ بھی دنیا میں سب سے بڑا ہوگا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 2020ءتک یہ شہر دنیا کا مقبول ترین سیاحتی مقام بن چکا ہوگا اور یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد دنیا کے کسی بھی اور شہر سے زیادہ ہوگی۔ اس شہر کا پھیلاﺅ بھی بہت تیزی سے ہورہا ہے اور ہر طرف چمکتی دمکتی عمارتیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ یہاں کابرج العرب ہوٹل اپنے کشتی نما ڈیزائن اور انتہائی زیادہ بلندی کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے۔ اس کا ہیلی پیڈ خصوصی شہرت رکھتا ہے اور اس پر ٹیکس کی دنیا کے دو مشہور ترین کھلاڑی آندے آگاسی اور راجر فیڈرر میچ بھی کھیل چکے ہیں۔

ہوٹل کی 27 ویں منزل پر ”المنتہا“ ریسٹورنٹ واقع ہے جہاں سے ساری دبئی کے دلکش مناظر نظر آتے ہیں۔ ”ریفلز ہوٹل“ قدیم مصر کے اہرام کی یاد تازہ کرتا ہے اور اس کی شان و شوکن طوطن خامن کے مقبرے سے کسی طرح کم نہیں۔ اس ہوٹل کی لابی میں سونے کے فانوس اور جواہرات سے مزین فرنیچر کی شان ہی نرالی ہے۔دبئی کی میٹرو ریل بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے علاوہ کہیں دیکھنے کو نہیں ملے گی یہ ریل میگ لیوٹیکنالوجی کی مدد سے ریل کی پٹریوں کو چھوئے بغیر ہوا میں اڑتی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کی جدید ترین مناظر کے ساتھ ساتھ آپ کو قدیم عرب کلچر کے نمونے بھی دیکھنے کو ملیں گے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آئندہ چند سالوں میں دبئی دنیا میں سب سے زیادہ سیاحوں کو کھینچنے والا شہر بن جائے گا۔

مزید : رئیل سٹیٹ