وفاق کی مضبوطی کے لئے مزید صوبے بنائے جائیں، پہلے تبدیلی پھر انتخابات دیکھتا ہوں:پرویز مشرف

وفاق کی مضبوطی کے لئے مزید صوبے بنائے جائیں، پہلے تبدیلی پھر انتخابات ...
 وفاق کی مضبوطی کے لئے مزید صوبے بنائے جائیں، پہلے تبدیلی پھر انتخابات دیکھتا ہوں:پرویز مشرف

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق صدر پاکستان جنرل (ر)پرویز مشرف نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے دھاندلی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات درست ثابت ہو چکے ہیں، ملکی حالات بد سے بدتر ہو تے جا رہے ہیں اور ضرورت ہے کہ عوام کی بات سن لی جائے، وفاق کی مضبوطی کے لئے میں مزید صوبوں کی تشکیل کی حمایت کرتا ہوں،این آر او غلطی تھی۔

ایک نجی نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستا ن کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے مگر وہ جمہوریت یہ نہیں ہے جو جعلی الیکشن اور دھاندلی کے ذریعے قائم ہوئی ہے، میں ملک میں جاری سیاسی بحران کے نتیجے میں پہلے تبدیلی اور اس کے بعد شفاف انتخابات دیکھ رہا ہوں جس میں ملک کا اور اس کی عوام کا بھلا ہے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ عمران خان آج افتخار چودھری کو بے نقاب کر رہے ہیں، میں نے2007ء میں ان کو بے نقاب کیا اور ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا مگر کسی نے میری بات نہیں سنی۔ آج تک ان کے خلاف بھیجا جانے والا میرا ریفرنس پڑھا ہی نہیں گیا۔مگر آج عوام کی طاقت کا بھرپور مظاہرہ دیکھ رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جمہوری دور میں حکمرانوں نے ملک کی حالت کو بہتر نہیں کیا ، یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ طاہرالقادری آج بنیادی حقوق کا رونا رو رہے ہیں۔ امید ہے اس سارے بحران میں فائدہ صرف اور صرف عوام کا ہی ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تیسری سیاسی قوت کی ضرورت ہے، 1999ء میں لوگ آرمی چیف کی طرف دیکھ رہے تھے اور اب پھر وہی حالات ہوگئے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فوج وہی فیصلہ کرے گی جو ملک و قوم کے لئے بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ این آر او کرکے غلطی کی۔سابق صدر نے مزید کہا کہ امریکہ کو مشورہ ہے کہ وہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں دخل نہ دے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے دھرنوں کو کوئی نہیں جھٹلا سکتا، وفاق کی اتھارٹی کمزور ہو چکی ہے اور وفاق رائیونڈ تک محدود ہو گیا ہے، وفاق کو مضبوط کرنے کے لئے نئے صوبے بنانا ہوں گے۔

مزید : قومی /اہم خبریں