کیا آپ کو بھی بہت زیادہ بھوک لگتی ہے ؟

کیا آپ کو بھی بہت زیادہ بھوک لگتی ہے ؟
کیا آپ کو بھی بہت زیادہ بھوک لگتی ہے ؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

گلاسگو (نیوز ڈیسک) کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بعض اوقات بار بار کھانے کی لب محسوس ہورہی ہوتی ہے جبکہ بعض دنوں میں ہم بالکل معمول کے مطابق کھاتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ سکاٹ لینڈ کی ابرڈین یونیورسٹی کی ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے روزمرہ زندگی میں اےسے کئی عوامل پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے کھانے کی طلب غیر فطری طور پر بڑھ جاتی ہے اور یہی بات موٹاپے کا باعث بنتی ہے، ہمیں زیادہ کھانے پر مجبور کرنے والی اہم باتیں مندرجہ ذیل ہیں:

تھکاوٹ

یونیورسٹی آف کولمبیا کی ایک تحقیق کے مطابق تھکاوٹ کی حالت میں جسم کا اوسطاً 300 کیلوریز اضافی توانائی محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہم زیادہ کھانا کھالیتے ہیں۔

فینوپاز

خواتین میں سن یاس کے آغاز کے ساتھ جسم میں پروجیسٹرون ہارمون کی مقدار قدرے بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے توانائی اور نتیجاً کھانے کی طلب میں افافہ ہوجاتا ہے۔

ادویات

ذہنی دباﺅ یا ’حے فیور ‘نامی الرجی کیلئے استعمال ہونے والی ادویات دماغ پر اثر انداز ہوتی ہیں جس کی وجہ سے بھوک میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

میڈیا

جی ہاں میڈیا بھی آپ کو زیادہ کھانے پرمجبور کرسکتا ہے، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب ہم غیر یقینی مستقبل یا حالات کی خرابی کی خبرین سنتے ہیں تو قدرتی طور پر جسم زیادہ توانائی جمع کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہے اور کھانے کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

موبائل فون

الیکٹرونک آلات جیسا کہ کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کی سکرین سے نیلگوں روشنی کی شعاعیں خارج ہوتی ہیں جن کی وجہ سے بھوک میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ ہمارا دماغ روشنی کو دن اور زیادہ کھانے کی ضرورت سے تعبیر کرتا ہے۔

اس کے برعکس کچھ ایسی تدابیر بھی ہیں جن سے آپ کھانے کی طلب کم کرسکتے ہیں، مثلاً پرسکون اور پرتعیش جگہ یا ریسٹورنٹ میں کھانا، سرخ برتنوں اور دسترخوان سے کھانا اور روزمرہ غذا میں انڈے شامل کرنا۔

مزید : تعلیم و صحت