ایبولا وائرس بھیانک شکل اختیار کرگیا جگہ جگہ رقت انگیز مناظر

ایبولا وائرس بھیانک شکل اختیار کرگیا جگہ جگہ رقت انگیز مناظر
ایبولا وائرس بھیانک شکل اختیار کرگیا جگہ جگہ رقت انگیز مناظر

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سیرالیون (نیوز ڈیسک) مغربی افریقہ کے ممالک کو خطرناک ایبولا وائرس نے شدید دہشت میں مبتلا کررکھا ہے اور صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ ایک طرف تو مسلح سپاہی بندوقوں کے زور پر متاثرہ علاقے کے لوگوں کو محصور کررہے ہیں اور دوسری جانب حکومت گورکندوں کو خصوصی اجرت دے کر ہلاک شدگان کی لاشوں کو جلانے کے کام پر مامور کررہی ہے۔ یہ گورکن وائرس سے تحفظ کیلئے خصوصی لباس پہنتے ہیں اور ہلاک شدگان کی لاشیں ان کے گھروں سے اٹھا کر دور دراز قبرستانوں میں لے جاتے ہیں جہاں انہیں جلا کر رکھ زمین میں دفن کردی جاتی ہے۔ ان لوگوں کو اس کام کے بدلے روزانہ 600 سے 700 روپے تک ادا کئے جاتے ہیں۔

ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ اب تک اس مہلک وائرس سے 2600 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔ متاثرہ علاقوں کے لوگ شدید خوف میں مبتلا ہیں اور حکومت نے ان کے علاقوں میں محدود رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ مونروویاشہر میں 20 ہزار لوگوں کو ایک علاقے میں محصور کیا گیا ہے اور ان لوگوں کو حکومت کی طرف سے چاول فراہم کئے جاتے ہیں جنہیں موصول کرنے کیلئے وہ ایک مخصوص مقام سے آگے نہیں برھ سکتے۔ ایبولا وائرس کا ابتک کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا۔ بیماری کے آغاز کے 2 سے 20 دن کے دوران متاثرہ شخص کے جسم سے خون جاری ہوجاتا ہے اور دیگر علامتیں نمودار ہوجاتی ہیں اور 90 فیصد لوگوں کی موت ہوجاتی ہے۔

مزید : بین الاقوامی