دو نوجوان لڑکیوں کے ریپ کی تحقیقات بھارت کےلئے دنیا بھر میں شرمندگی کا باعث بن گئیں

دو نوجوان لڑکیوں کے ریپ کی تحقیقات بھارت کےلئے دنیا بھر میں شرمندگی کا باعث ...
دو نوجوان لڑکیوں کے ریپ کی تحقیقات بھارت کےلئے دنیا بھر میں شرمندگی کا باعث بن گئیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیودہلی (نیوز ڈیسک) مئی کے مہینہ میں بھارتی ریاست اترپردیش میں دو نوعمر بہنوں کو جنسی زیادتی کے بعد درخت سے لٹکا کر پھناسی دے دی گئی اور اس بھیانک جرم نے ساری دنیا میں بھارت کی اخلافزی زبوں حالی کا چرچا کردیا۔

اگرچہ اس خوفناک واقعے پر ہر جگہ غم و غصہ کا اظہار کیا گیا لیکن لگتا ہے بھارت میں اس وحشیانہ اقدام کے مجرموں کو ہیرو کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔

بدقسمتی سے عصمت دری کے بعد پھانسی پر لٹکائی گئی 14 اور 15 سالہ لڑکیوں کا تعلق بھارت میں کمترین سمجھی جانے والی شودرذات سے تھا جبکہ مجرموں کا تعلق طاقتور یادو ذات سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی انوسٹی گیشن حکام نے واضح کردیا ہے کہ گرفتار شدہ پانچ ملزمان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

بھارت کے اعلیٰ ترین تحقیقاتی ادارے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف کارروائی کیلئے کافی شواہد موجود نہیں ہیں جبکہ وہ گرفتاری کے بعد خود اپنے جرم کا اعتراف کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ جب لڑکیوں کی لاشیں درخت سے لٹک رہی تھیں اور ان کے والدین انصاف کیلئے فریاد کررہے تھے تو پولیس نے اسی وقت انہیں دھتکار دیا تھا اور ملزمان کی گرفتاری بھی شدید عوامی احتجاج کے بعد ہی عمل میں آسکی تھی۔

مزید : انسانی حقوق