امریکی فوجیوں کی درندگی کا نشانہ بننے والی بے بس خواتین اہلکار

امریکی فوجیوں کی درندگی کا نشانہ بننے والی بے بس خواتین اہلکار
امریکی فوجیوں کی درندگی کا نشانہ بننے والی بے بس خواتین اہلکار

  

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) اگر یہ کہا جائے کہ امریکی افواج اپنی ہی ہم وطن عورتوں کی عصمت دری کا سب سے بڑا مرکز بن چکی ہیں تو بے جانہ ہوگا کیونکہ ایوارڈ یافتہ صحافی اور فوٹوگرافر میری کیلورٹ کا کہنا ہے کہ محض پچھلے ایک سال کے دوران فوج میں کام کرنے والی خواتین کے ساتھ عصمت دری کے 26000 واقعات ہوئے۔

اس شرمناک جرم کا مزید تاریخ پہلو یہ ہے کہ ان عورتوں کو اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی شکایت کی بھی اجازت نہیں اور یہ جرا¿ت کرنے والی خواتین مزید عذاب کا شکار ہوجاتی ہے۔ میری کیلورٹ نے یہ چشم کشا انکشافات اپنے ایک تفصیلی تصویری مضمون میں کئے ہیں جو امریکہ کا دفاع کرنے والوں کی بدکرداری کی بھیانک داستاں ہے۔

ظلم کا شکار ہونے والی خواتین میں ورجینیا میسک کی کہانی بھی شامل ہے جسے اس کے افسر نے لیک لینڈ ایئرفورس بیس پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اس افسر پر 10 دیگر ماتحت خواتین کی عصمت دری کا جرم بھی ثابت ہوچکا ہے۔

نیویارک کے ایک ہسپتال میں عصمت دری کا نشانہ بننے والی فوجی خواتین کیلئے علیحدہ وارڈ قائم کرنا پڑ گیا ہے۔

امریکی میرین کے ساتھ کام کرنے والی کوریائی خاتون میریڈتھ کو اس کے ساتھی میربن نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جب اس نے اپنے افسر سے شکایت کی تو اس کا شرمناک جواب تھا کہ یہ تمہاری خواہش پر ہی ہوا ہوگا کیونکہ تم شادی شدہ ہو اور اپنے خاوند سے دور وقت گزاررہی ہو۔ اسی طرح زیر تربیت خاتون 21 سالہ نتاشا کو اس کے افسر نے درندگی کا نشانہ بنایا جبکہ اسی افسر پر چار دیگر زیر تربیت خوتین سے جنسی زیادتی کا الزام عدالت میں ثابت ہوچکا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جب نتاشا نے افسران سے شکایت کی تو ان میں سے کئی ایک نے بھی اس کے ساتھ وہی جرم کردیا جس کی وہ شکایت لے کر گئی تھی۔ میری کیلورٹ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس امریکی فوج میں جاکر عزت سے ہاتھ دھو بیٹھنے والی ہزاروں خواتین کی داستانیں ہیں جو پہلے تو ظلم کا شکار ہوئیں اور پھر انصاف سے بھی محروم رہیں جس کی وجہ سے وہ ذہنی مریض بن چکی ہیں۔

مزید : انسانی حقوق