کیا ناشتہ کرنا واقعی انسانی صحت کےلئے انتہائی اہم ہے ؟سائنسدانوں نے حیرت انگیز دعوی کر دیا

کیا ناشتہ کرنا واقعی انسانی صحت کےلئے انتہائی اہم ہے ؟سائنسدانوں نے حیرت ...
کیا ناشتہ کرنا واقعی انسانی صحت کےلئے انتہائی اہم ہے ؟سائنسدانوں نے حیرت انگیز دعوی کر دیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ دن کا اہم ترین کھانا ناشتہ ہی ہے کیونکہ اگر آپ دن کا آغاز بھرپور غذا کے ساتھ کریں گے تو سارا دن چاق و چوبند اور توانا رہیں گے۔ یہ بات ڈاکٹر بھی بتاتے ہیں اور ہمارے بزرگ بھی، لیکن برطانیہ کی یونیورسٹی آف باتھ کے سائنسدانوں نے ہمارے بزرگوں اور ساری دنیا کے ڈاکٹروں کی بات کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ یہ تحقیق جیمز بیٹ اور ان کے ساتھیوں نے کی جس میں معلوم ہوا کہ ناشتہ نہ کرنے سے غذائی لحاظ سے ہوا کہ ناشتہ نہ کرنے سے غذائی لحاظ سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا اور یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ ناشتہ کرنے سے آپ باقی کھانے ضرورت سے زیادہ نہیں کھاتے اور لہٰذا وزن نہیں بڑھتا۔

عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرتے وہ بعد میں شدید بھوک کی وجہ سے زیادہ کھانا کھاجاتے ہیں اور یوں ان کا وزن بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ بات بھی درست ثابت نہیں ہوسکی کے ناشتہ آپ کے جسم کے نظام کو فعال کردیتا ہے اور خصوصاً نظام انہضام کو فعال کرکے توانائی کی فراہمی کو آسان بناتا ہے۔

تجربات سے معلوم ہوا کہ دن 11 بجے تک 700 حراروں پر مشتمل غذا کھانے والوں اور کچھ بھی نہ کھانے والوں کو جسمانی نظام کی فعالیت میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہوتا۔ بلکہ اس تحقیق کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ناشتہ نہ کرنے والوں کی دن بھر کی مجموعی خوراک ناشتہ کرنے والوں کی نسبت کم ہوتی ہے۔

تاہم سائنسدانوں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ باقاعدگی سے ناشتہ کرنے والوں کی صحت زیادہ اچھی ہوتی ہے اور وہ زیادہ سرگرم اور چاق و چوبند ہوتے ہیں مگر جیمز بیٹ کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ناشتہ باقاعدگی سے کرنے والوں کی غذا مجموعی طور پر زیادہ اچھی اور صحت بخش ہوتی ہے اور ان کا طرز زندگی بھی زیادہ فعال ہوتا ہے اور وہ ورزش کرنے میں بھی آگے ہوتے ہیں اس لئے مجموعی طور پر ان کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت