غیر ملک سے ڈی پورٹ ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ

غیر ملک سے ڈی پورٹ ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ
غیر ملک سے ڈی پورٹ ہونے سے بچنے کا بہترین طریقہ

  

سٹاک ہوم (نیوز ڈیسک ) سویڈن میں ایک غیر ملکی بھلکڑ شخص 10 سال سے جلاوطنی کا منتظر ہے۔ 1997ءمیں سویڈن میں ایک غیرملکی کو ڈکیتی کے الزام میں قید کی سزا ہوئی۔ قید بھگتنے کے بعد 2003ءمیں جب اسے رہا کیا گیا تو انتظامیہ نے اسے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم جب مذکورہ شخص سے ملکی بدری کے کاغذات پر دستخط کروائے گئے تو وہ بھول چکا تھا کہ وہ کہاں کا رہائشی ہے؟انتظامیہ اب اس کشمکش میں مبتلا ہو چکی ہے کہ اسے کہاں بھیجا جائے؟ سٹاک ہوم کے سرکاری وکیل پیٹر التھین نے میڈیا کو بتایا کہ ” میرے 40 سالہ پیشہ وارانہ دور میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس ہے۔ 44 سالہ بھلکڑ شخص جب 2003ءمیں رہا ہوا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ سوویت یونین کا رہنا والا ہے، لیکن حکام نے جب اس کا ڈیٹابیس چیک کیا تو اس میں سوویت یونین کا کوئی حوالہ نہیں ملا۔ اس شخص کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس نے کینیڈا سے لے کر قازقستان تک کا سفر کر چکا ہے، لیکن کسی جگہ سے بھی اس کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملا“ پیٹر التھین نے میڈیا کو مزید بتایا کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد چوں کہ مذکورہ شخص کئی سال سے جلاوطنی کے انتظار میں بھٹک رہا ہے، لہذا اب ہم چاہتے ہیں کہ اسے سویڈین کی مستقل شہریت دے دی جائے، تاکہ اسے مقامی شہریوں کے مساوی مراعات مل سکیں۔“ دوسری طرف حکام نے مائیگریشن کورٹ سے اپیل کی ہے کہ اس کیس کو ترجیحی بنیادوں پر سن کر جلد فیصلہ کیا جائے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس