اس تصویر کی اصلیت جان کر آپ میٹھا کھانا ہی چھوڑدیں گے، اس میں ایسی کیا بات ہے؟ حقیقت آپ کو حیران پریشان کردے گی

اس تصویر کی اصلیت جان کر آپ میٹھا کھانا ہی چھوڑدیں گے، اس میں ایسی کیا بات ہے؟ ...
اس تصویر کی اصلیت جان کر آپ میٹھا کھانا ہی چھوڑدیں گے، اس میں ایسی کیا بات ہے؟ حقیقت آپ کو حیران پریشان کردے گی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہم کوئی بھی پھل یا کھانے کی چیز کچھ دن کے لیے رکھ دیں تو اس کو پھپھوندی لگ جاتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ وہ چیز گل سڑ جاتی ہے لیکن مٹھائیاں، بسکٹ، کیک، چاکلیٹ اور اسی طرح کے جنک فوڈ(Junk Food) سالوں بھی پڑے رہیں تو خراب نہیں ہوتے۔ یہ ان کی خوبی نہیں بلکہ ایسی خامی ہے جو انسان کی صحت کو برباد کر دیتی ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق سائیکوتھراپسٹ اور ہپنوتھراپسٹ ماریہ پیرنے ان جنک فوڈز کو 20سال تک اپنے پاس محفوظ رکھا۔ اتنے عرصے بعد بھی وہ بالکل اسی طرح تھے جیسے آج ہی بنائے گئے ہوں۔ ماریہ کا کہنا تھا کہ ”میں نے 1997ءمیں یہ اس وقت خریدے تھے جب میری بیٹی چھوٹی سی تھی اور وہ یہ چیزیں پسند کرتی تھی۔ ان مٹھائیوں اور بسکٹس کی عمر بھی میری بیٹی جتنی ہی ہے مگر یہ آج بھی اسی طرح تازہ لگتے ہیں جیسے میں نے کل ہی خریدے ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کھانوں میں ایسے کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔“

وہ 6 قدرتی غذائیں جن کا استعمال آپ کو کینسر سے بھی محفوظ رکھ سکتا ہے
ماریہ کا مزید کہنا تھا کہ ” یہ کیمیکل ان کھانوں کو بیکٹریا و دیگر جراثیموں سے تو محفوظ رکھتے ہیں اور گلنے سڑنے نہیں دیتے مگر یہ ہماری صحت کو اس سے زیادہ نقصان دیتے ہیں۔ ہم یہ مٹھائیاں، بسکٹ، چاکلیٹ وغیرہ کھا کر اپنے ہاتھوں سے اپنی صحت کو برباد کر رہے ہیں۔میرے پاس اب تک کئی ایسے لوگ آ چکے ہیں جو موٹاپے کا شکار تھے اور اس سے نجات چاہتے تھے۔ میں جب ان کے موٹاپے کی وجہ تلاش کرتی تو اکثر میں یہی جنک فوڈ ہی ان کے موٹاپے کی وجہ ہوتے تھے۔ میں ان کو ایسے کھانوں سے منع کر دیتی ہوں جو انہیں بہت پسند ہوتے ہیں۔ جو لوگ میری نصیحت پر عمل کرتے ہوئے ان نقصان دہ کھانوں سے پرہیز کرتے وہ بہت جلد اپنے موٹاپے پر قابو پا لیتے تھے۔ میں 20سال قبل خریدی گئی یہ مٹھائیاں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتی ہوں اور آنے والے مریضوں کو یہ دکھا کر بتاتی ہوں کہ یہ چیزیں ہماری صحت کے لیے کس قدر نقصان دہ ہیں۔“

مزید :

تعلیم و صحت -