میٹرو ٹرین کی بے جا مخالفت کیوں؟

میٹرو ٹرین کی بے جا مخالفت کیوں؟
میٹرو ٹرین کی بے جا مخالفت کیوں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

موجودہ دورکی تیز رفتار ترقی میں بہترین انفراسٹرکچر اور جدید ترین ذرائع آمدورفت کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔دُنیا کے وہ ممالک جو بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کے مطابق ٹرانسپورٹ کی جدید سہولتیں فراہم کرنے میں پیچھے رہ گئے ۔آج ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے نظر آتے ہیں۔جدید ٹرانسپورٹ سسٹم کی عدم موجودگی میں تبا ہ کن فضائی آلودگی، ٹریفک کے بے پناہ مسائل ،حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ، سڑکوں پر نا قابل برداشت رش اور مختلف بیماریاں عوام کا مقدر بن جاتی ہیں۔جدید ٹرانسپورٹ سسٹم سے محروم اور ٹریفک کے مسائل میں گھرے شہروں میں سے ایک شہر لاہور بھی ہے۔ اَن گنت باغوں، لا تعداد تاریخی عمارتوں اور ثقافتی و معاشی سرگرمیوں کامرکز،آج کا لاہور ایک کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے ۔ تیز ی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے ضروریات میں بھی تیزی سے اضافہ کیا، جن میں سرفہرست ایک جدید ترین ٹرانسپورٹ سسٹم کی فراہمی تھی ۔اس مقصد کے لئے لاہور کو بھی ایک ایسے ہی ماس ٹرانسپورٹ سسٹم کی ضرورت تھی جو دنیا کے 153بڑے شہروں میں پہلے سے رائج ہے اور 32 دیگر بڑے شہروں میں زیر تعمیر ہے ۔ماس ٹرانزٹ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے حکومت پنجاب نے پہلا سروے 1990ء کی دہائی میں کیا،جس میں فیروز پور روڈ کو اس منصوبے کی تکمیل کے لئے اولین ترجیح قراردیا گیا۔ بعد ازاں 2006ء میں حکومت پنجاب کے ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ہدایات پر MVA Asia نے اپنی فزیبلٹی سٹڈی پیش کی ۔اس سٹڈی میں ایک جدید ترین اور طویل المیعاد منصوبے کا خاکہ پیش کیا گیا ۔


ماس ٹرانزٹ منصوبے کے تحت سب سے پہلے گرین لائن کی صورت میں گجو متہ سے شاہدرہ ، پھر اورنج لائن کی صورت میں رائیونڈ روڈ تا ڈیرہ گجراں ، اس کے بعد بلیو لائن کے طور پرجناح ہال تا گرین ٹاؤن اور سب سے آخر میں پرپل لائن کی صورت میں بھاٹی گیٹ سے ائیر پورٹ تک عوام کوسفرکی جدید ترین سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ عالمی معیار کے مطابق کسی بھی تاریخی عمارت کی بنیاد کے قریب زیادہ سے زیادہ vibration velocity، تین ملی میٹرفی سیکنڈ سے کم ہونی چاہئے، جبکہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کی زمینی تھرتھراہٹ اس حد سے دس گنا، یعنی 0.3 ملی میٹر فی سیکنڈسے بھی کم ہے، جو کسی بھی تاریخی عمارت کے لئے کسی بھی طرح نقصان دہ نہیں۔اورنج لائن منصوبے کے لئے چلائی جانے والی ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ رفتار 80کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جو کم تھرتھراہٹ پیداکرنے کی بنا پر محفوظ ہیں ۔ اورنج لائن منصوبے کے ٹریک کا تاریخی مقامات سے قریب ترین فاصلہ؛ شالا مارباغ سے 75فٹ،مقبرہ گلابی باغ سے 69فٹ ، بدھوکے مقبرے سے59فٹ،چوبرجی سے 52 فٹ اورمقبرہ زیب النساء سے 110فٹ ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے تعمیر ہونے والی سپریم کورٹ رجسٹری بلڈنگ ، جی پی اوبلڈنگ ، ہائی کورٹ پارکنگ / ایوان اوقاف اور سینٹ(saint) اینڈریوزچرچ کے تحفظ کے لئے اورنج لائن کو ان علاقوں میں زیر زمین تعمیر کیا جا رہا ہے ۔


اورنج لائن میٹرو ٹرین کی تعمیر کے دوران حکومت پنجاب کی جانب سے عالمی معیار کی تمام تراحتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کے باوجود اشرافیہ میں سے مٹھی بھر لوگ تاریخی ورثے کے تحفظ کی آڑ میں اس عوامی منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکارہے ہیں۔ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ لاہور کی تاریخ میں پہلی بار پسماندہ علاقوں میں عالمی معیار کی سفری سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، جن کی بدولت عام شہری انتہائی کم کرائے میں عزت اور وقار کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچے گا۔یہاں یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے کے مخالفین اورنج لائن کے مخالف ہیں یا عام شہری کی با سہولت زندگی کے؟


اورنج لائن پاکستان کا پہلا ترقیاتی منصوبہ ہے،جس کی۔۔۔Heritage Impact Assessment بین الاقوامی ماہرین سے کروائی گئی ہے۔ان ماہرین نے واضح طور پر کہا ہے کہ اورنج لائن ٹریک کے قریب واقع عمارتوں کو اس ٹرین سے کوئی خطرہ نہیں ۔میٹرو ٹرین کے راستے کے اطراف میں واقع تاریخی ورثے کے تحفظ کے لئے ماہرین آثارِ قدیمہ کی رہنمائی میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ ساتھ بہترین تکنیکی مہارت بھی استعمال کی گئی ہے اور ان تمام تاریخی عمارات کا تحفظ ہرلحاظ سے یقینی بنا دیا گیا ہے۔یہ منصوبہ سیاحت کے فروغ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ یونان کے تاریخی شہر ایتھنز میں بھی عوامی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہزاروں سال پرانی یادگاروں کے عین درمیان سے میٹرو ٹرین اس مہارت سے گزاری گئی ہے کہ تمام ثقافتی ور ثہ آج بھی اپنی اصل حالت میں قائم ہے۔اسی طرح خوشبوؤں کے شہر پیرس میں بھی، 214کلو میٹر طویل ٹریک پر چلنے والی میٹرو ٹرین سیاحوں کو لے کر انیسویں صدی کی عظیم الشان یادگار آئفل ٹاور کے بالکل سامنے سے گزرتی ہے۔


جرمنی کے شہر برلن میں انجینئرز نے میٹرو ٹرین کے ٹریک کی سمت تبدیل کرنے کی بجائے راستے میں آنے والے تاریخی عجائب خانے کے عین وسط میں سے ہی ٹریک کا راستہ نکال لیا۔اسی طرح ملائشیا کے شہر کوالالمپور میں جگہ کی کمی کے باعث میٹرو ٹرین سٹیشن کے لئے مشہور تاریخی جامک مسجد کے صحن سے جگہ حاصل کی گئی ۔میٹرو ٹرین کے ذریعے سفر کرنے والے ہزاروں لوگ اب خانہ خدا کے صحن سے ہی ٹرین پر سوار ہوتے اور اترتے ہیں،جبکہ ہمارے ہمسایہ مُلک بھارت کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں میٹرو ٹرین پراجیکٹس موجود ہیں۔


یہاں یہ بات اہم ہے کہ لاہور میں کم و بیش ڈیڑھ سو سال سے ریلوے ٹریک متعدد تاریخی عمارتوں کے بالکل پاس سے ہو کر گزر رہے ہیں، لیکن اتنا عرصہ گزرنے کے باوجودیہ مقامات آج بھی اتنے ہی مضبوط اور محفوظ ہیں جتنے یہ پہلے تھے۔لاہور اورنج لائن میٹروٹرین کی تعمیر کے لئے دوست مُلک چین کے ایگزام بینک کی جانب سے انتہائی آسان شرائط پر قرض فراہم کیا گیا ہے ۔اس منصوبے کے لئے محکمہ صحت اور تعلیم سمیت کسی بھی محکمے کا بجٹ قطعاً متاثر نہیں ہو گا۔اورنج لائن کے لئے حاصل کیا گیا قرض صرف میٹرو ٹرین کی تعمیر کے لئے مخصوص ہے۔لاہور اورنج لائن کی لاگت دوسرے ممالک میں بنائی جانے والی میٹرو ٹرینز کے مقابلے میں نسبتاًکافی کم ہے۔بھارت کے شہر ممبئی کی میٹرو ٹرین کی فی کلو میٹر تعمیراتی لاگت 60.7ملین ڈالر،میٹرو پونا کی 62.21 ملین ڈالر، میٹرو جے پور کی 64.3ملین ڈالر، میٹرو کوپن ہیگن کی 69.8ملین ڈالر، میٹرو جکارتہ کی 117.11ملین ڈالر،جبکہ لاہور اورنج لائن کی فی کلو میٹر تعمیراتی لاگت صرف54.5ملین ڈالرہے ۔اورنج لائن میٹرو ٹرین پراجیکٹ کی تعمیر کے دوران متاثر ہونے والی جائیدادوں کے مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کے لئے حکومت پنجاب کی جانب سے خصوصی طور پر 20ارب روپے مختص کئے گئے ۔متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی پاکستان بینکرز ایسوسی ایشن کے منظور شدہ evaluatorsکے تخمینے کی بنیاد پرکی گئی ۔ شہر کے مختلف علاقوں میں کیمپس لگائے گئے تھے جہاں ون ونڈو آپریشن کے تحت متاثرین کو با سہولت انداز میں معاوضے کی ادائیگی کی گئی ۔

مزید :

کالم -