برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد پاکستان کو ترسیلات زر میں کمی

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد پاکستان کو ترسیلات زر میں کمی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لندن( آن لائن ) برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد وہاں سے گزشتہ ماہ پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے حجم میں بھی واضح کمی واقع ہوئی۔برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی(بریگزٹ) کے منفی اثرات برطانوی کرنسی پر بھی پڑے جس کی وجہ سے ان پاکستانیوں کو پہلے کے مقابلے میں کم رقم ملی جن کے رشتے دار برطانیہ میں ملازمت کرتے ہیں۔برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی کے حوالے سے ریفرنڈم 23 جون 2016 کو ہوا تھا اور محض دو دن بعد برطانوی پاؤنڈ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 9 فیصد تک کم ہوگئی تھی اور پھر اس میں مزید کمی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔پاؤنڈ کی قدر روپے کے مقابلے میں بھی 13 فیصد تک کم ہوئی ہے، 23 جون کو ایک پاؤنڈ 156 روپے کا تھا جو اب 135 کا ہوچکا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان(ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق جون کے مہینے میں برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 30 کروڑ 90 لاکھ ڈالر پاکستان بھیجے گئے تاہم جولائی میں یہ حجم کم ہوکر محض 14 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گیا۔تاہم ترسیلات زر میں ہونے والی کمی کی وجہ صرف بریگزٹ نہیں، عام طور پر عید سے قبل ترسیلات زر کی آمد میں اضافہ ہوجاتا ہے اور عید کی تعطیلات اور بینکنگ کی سہولتیں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس میں کمی ا آجاتی ہے۔ایس بی پی کا کہنا ہے کہ جولائی 2016 میں ترسیلات زر میں ہونے والی کمی کی وجہ بہت حد تک وقتی تھی اور رمضان کی وجہ سے اس پر منفی اثر پڑا۔اسٹیٹ بینک کا مزید کہنا تھا کہ جولائی 2016 کے آغاز میں بینکنگ سروسز زیادہ تر معطل رہیں، پاکستان میں یکم جولائی اور پھر 5 جولائی سے 8 جولائی تک بینک بند رہے جبکہ امریکا میں 4، 9 اور 10 جولائی کو بینک بند رہے۔سینٹر برائے گلوبل ڈویلپمنٹ سے تعلق رکھنے والے میٹ کولن کہتے ہیں کہ ترسیلات زر میں ہونے والی کمی میں کسی حد تک بریگزٹ کا کردار ہوسکتا ہے لیکن اسے فی الحال مکمل طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ 2015 میں برطانیہ سے مجموعی طور پر 1.4 ارب ڈالر جبکہ امریکا سے 1.1 ارب ڈالر پاکستان بھیجے گئے، اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات سے 4.8 ارب ڈالر اور سعودی عرب سے 5 ارب ڈالر کے ترسیلات زر پاکستان بھیجے گئے۔گزستہ چند برسوں کے دوران مغربی ممالک کے مقابلے میں مشرق وسطیٰ سے موصول ہونے والی ترسیلات زر کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کو حاصل ہونے والی ترسیلات زر کا حجم کہیں زیادہ ہے، 2015 میں مجموعی طور پر 72 ارب ڈالر انڈیا بھیجے گئے جبکہ پاکستان کو صرف 20 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں۔

مزید :

کامرس -