محترم! ہم سب پاکستانی ہیں!

محترم! ہم سب پاکستانی ہیں!
 محترم! ہم سب پاکستانی ہیں!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ اس دور کی بات ہے جب ہمارے ملک میں آمریت تھی اور جنرل ضیاء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کے بعد ایک سول حکومت قائم کر دی تھی۔پی ایف یو جے کی بی ڈی ایم راولپنڈی میں ہونا قرار پائی۔ذرا غور فرمائیں گے تو اندازہ ہوگا کہ ان دنوں ایم کیو ایم کے ابتدائی دن تھے اور ہمارے اردو بولنے والے بھائی تعصب کا بھی مظاہرہ کررہے تھے، حتیٰ کہ کراچی میں پنجابیوں پر حملے بھی ہوئے تھے ہم سب لوگ راولپنڈی پریس کلب میں تھے۔ میٹنگ شروع نہیں ہوئی اور گپ شپ کا دور چل رہا تھا، ولی محمد واجد (مرحوم) بھی ہمارے ساتھ تھے، ایسے میں یہ بات چل نکلی کہ حیدرآباد اور کراچی میں پنجابیوں کو کیوں مطعون کیا جا رہا ہے۔ ہمارے کراچی کے ایک ساتھی جو اس وقت لڑکپن کی حدود سے جوانی میں داخل ہو رہے تھے۔ کوئی مثبت بات کرنے کی بجائے جذباتی ہو گئے۔ ہم نے ان کو ٹوکا اور کہا کہ پنجاب میں ایسا کوئی تاثر نہیں، ہم سب مل جل کر رہتے ہیں۔ یہاں بھی لاکھوں مہاجر آئے ہیں ہم سب نے اپنے دروازے کھول کر ان کو خوش آمدید کہا اور یہاں اب کوئی مہاجر نہیں۔ سب مقامی ہیں، بات بڑھا دی گئی تو ہم نے نوجوان سے درخواست کی کہ اس موضوع کو تبدیل کر دیا جائے اور فیڈریشن کی بات کریں کہ اس سے تلخی پیدا ہو گی، وہ پھر بولے! تو کیا ہو گا، آپ لوگ جوابی کارروائی کرنا چاہیں تو کر لیں۔ پنجاب میں چالیس پچاس ہزار اردوبولنے والوں کو مار دیں۔ ہم نے پھر کہا کہ پنجاب میں لسانیت یا مہاجر، غیر مہاجر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ خود ہمارے اپنے خونی رشتہ کے لوگ سب کچھ چھوڑ کر مہاجر ہو کر آئے ہیں، بہرحال محترم نثار عثمانی (مرحوم) کی آمد نے یہ سلسلہ موقوف کیا اور ہم لوگ ٹریڈ یونین کی بات کرنے لگے۔


ہم نے اس موضوع پر بوجوہ کبھی لکھنے کی کوشش نہیں کی کہ ہمارا دائرہ دوستی اور عزیز داری اردو بولنے والوں میں بھی ہے اور تعلقات بھی بہت ہی اچھے ہیں۔ ہمارے دوستوں کی تعداد بھی بہت ہے، لیکن آج جرأت کی تو یہ ہمارے اندر کی آواز ہے جس نے ان سطور کی تحریر پر مجبور کر دیا ہے کہ محترم الطاف حسین نے ہمارے دشمن نریندر مودی کا بھلا کیا ہے اور ساری توجہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم سے ہٹا کر ایم کیو ایم کی طرف مبذول کرالی ہے اور اب تو گزشتہ روز تک بھی ہمارے چینل ایم کیو ایم اور الطاف حسین پر ہی بات کرتے چلے جا رہے ہیں، جبکہ بھارتی درندے مقبوضہ کشمیر میں بدستور پیلٹ گنوں سے فائرنگ کرکے مظلوم کشمیریوں کو زخمی اور اپاہج بنا رہے ہیں۔


اس کے علاوہ یوں بھی ضرورت ہوئی کہ ہمارے اردو بولنے والے بھائی حتیٰ کہ تیسری نسل والے بھی یہ کہتے ہیں ’’ہم نے پاکستان بنایا، ہم پاکستان بنانے والوں کی اولاد ہیں‘‘ اور اس طرح وہ کسی بھی اور صوبے یا نسل کے لوگوں کی تحریک پاکستان کی خدمات اور قربانیوں کو فراموش کر دیتے ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ پورے برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت نے قائداعظم کی آواز پر لبیک کہا اور تحریک پاکستان میں حصہ لیا اس میں بہار، پوپی اور سی پی کے حضرات تھے تو مشرقی پنجاب کے شہروں اور جالندھر، امرتسر، لدھیانہ، گورداسپور اور دوسرے قصبوں اور دیہات کے شہریوں نے بھی ’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کیا تھا، اب یہ الگ بات ہے کہ جب برصغیر کی تقسیم کا اعلان ہوا تو بدطینت غیر مسلموں نے خون کی ہولی کھیلنا شروع کر دی۔ بہار میں فساد ہوئے اور مسلمان مارے گئے تو مشرقی پنجاب سے تعلق رکھنے والے تمام مسلمانوں نے ہجرت کی۔ خاندان کے خاندان روانہ ہوئے،لیکن واہگہ کے اس پار آنے کی سعادت خوش نصیبوں ہی کو مل سکی یا تو لوگ شہید ہوئے یا لٹ لٹا کر ادھر چلے آئے ادھر تو کوئی بچا ہی نہیں تھا۔ خواتین کی بے حرمتی اور پھر اغوا کے قصے اپنی جگہ، اب بھی کبھی کبھار کوئی ایسی خاتون جو اس وقت اغوا کر لی گئی اور اب بوڑھی تر ہو چکی کی کہانی منظر عام پر آ ہی جاتی ہے۔ ہمیں خود اتنا یاد ہے کہ جالندھرکے ایک گاؤں سے ہماری پھوپھو(والد کی کزن) اور امرتسر سے ہماری خالہ (والدہ کی فرسٹ کزن) کے خاندانوں نے بھی ہجرت کی تھی اور ہمارے والد ان کو کیمپوں اور قافلوں میں تلاش کرتے پھرتے تھے۔ ہمارے والد خود پاکستان بنانے والوں میں سے تھے وہ مسلم لیگ میں شامل اور مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار تھے، وہ مشرقی پنجاب سے مسلمان مہاجرین کو لاتے اور یہاں بساتے رہے، جبکہ انہوں نے اس وقت اپنی جماعت کی طرف سے اپنے تین چار ساتھیوں سمیت صوبہ سرحد میں ہونے والے ریفرنڈم میں بھی خدمات انجام دی تھیں، وہ یہاں مہاجرین کی دیکھ بھال کرتے ان کو بسانے کی خدمات بھی انجام دیتے تھے۔ بہت مشکل سے ہماری پھوپھو اور خالہ کا پتہ چلا تھا، پھوپھو تو اپنے سسرالیوں کے گاؤں(للیانی کے قریب) چلی گئیں جبکہ خالہ نے لاہور میں ڈیرہ لگایا اور یہاں کسمپرسی کے دن گزارے تھے، اس لئے ہمیں بھی مہاجروں کا بہت احساس ہے تاہم یہاں تھوڑے ہی عرصہ میں سب گھل مل گئے مقامیوں نے انصار کا فرض ادا کیا اور جو ممکن خدمت ہو سکتی تھی وہ کی۔ یوں یہاں برادرانہ فضا قائم ہوئی۔ ہم خود محترم یٰسین خان صاحب سے ٹیوشن پڑھے ہوئے ہیں جن کا تعلق یوپی سے تھا اور انہوں نے بلا معاوضہ ہمیں پڑھایا اور دن رات پڑھا کر کامیابی بھی دلائی۔ ان گزارشات کا مقصد یہ ہے کہ یہاں کبھی تفریق روا نہیں رکھی گئی پھر یہ لسانیت کہاں سے آگئی۔ خود ہمارے بچے پنجابی نہیں اردو بولتے ہیں۔ یوں ہماری یہ نسلیں اردو والوں سے کہیں زیادہ اردو والی ہیں، اسی طرح آباء و اجداد کی بات ہے تو ہمارے آباء بھی تو پاکستان بنانے اور بنوانے والوں میں سے تھے۔ پھر یہ دعوے اور تفریق کیوں، اب تو یوں بھی تیسری نسل ہے اور یہ خالص تر پاکستانی ہے، پیدائش اور پرورش یہاں کی ہے، پھر یہ مہاجر کیوں؟‘‘ ہم سب پاکستانی ہیں‘‘۔


ہمیں یاد ہے کہ 1990ء کا دور تھا جب ایم کیو ایم نے مسلم لیگ سے اتحاد کیا اور الطاف حسین آج کے وزیراعظم محمد نوازشریف کی دعوت پر لاہور آئے تھے۔ لاہور کے پنج تارہ ہوٹل میں ان کی رہائش تھی اور یہاں ان کے خطاب بھی ہوئے تھے، پھر ایک پریس کانفرنس کا سلسلہ ہوا۔ ہم امروز میں تھے، اس وقت بھی الطاف حسین خود کو مہاجر اور ہم سب کو مقامی کہہ کر زہر اگلتے تھے اور لسانیت کو معیار بناتے ہوئے ہر دم یہ الفاظ ادا کرتے ’’اردو بولنے والے‘‘ یعنی ان کے نزدیک لسانیت ہی مسئلہ تھا، جب پریس کانفرنس کا دعوت نامہ ملا تو ہم بھی دوسرے ساتھیوں کی طرح ہوٹل میں پہنچ گئے الطاف حسین تاخیر سے آئے لیکن اس ٹھاٹھ کے ساتھ کہ جدید اسلحہ سے لیس چارکمانڈو ٹائپ نوجوان ان کے آگے پیچھے تھے، ان کے لئے سٹیج بنایا گیا تھا اور وہ صحافیوں کی نسبت بلند جگہ آکر بیٹھے تھے۔ محافظ چار کونوں میں بہت چستی سے کھڑے ہو گئے تھے۔


الطاف حسین کو لمبا بولنے کا چسکا پرانا ہے چنانچہ وہ بولتے چلے گئے، جب زیادہ دیر ہوئی اور وہ لسانیت کے حوالے سے مطالبات بھی دہرا چکے تو ہم نے مجبوراًان کو ٹوکا اور درخواست کی کہ اتنی طویل تقریر کو مکمل کر لیں کہ ہم جو یہاں ہیں، سب نے سوالات بھی کرنے ہیں، پھر ہم نے پہل کی اور ایک سوال بھی داغ دیا، یہ سوال ہم نے پنجابی میں کیا تھا کہ ان کو بھی ہماری مادری زبان آنا چاہیے۔ ہمارے بعد ایکد و دوستوں نے مزید بات کی تو تحمل کی بجائے الطاف حسین مشتعل ہو کر پریس کانفرنس ہی چھوڑ کر چلے گئے، ان کے اندر تب بھی کسی کی سننے کا حوصلہ نہیں تھا۔ اب تو وہ خود دباؤ میں ہیں اور یہ مضحکہ خیز بات بھی کی ہے کہ ذہنی دباؤ کے تحت بات کی معذرت کرتا ہوں، اس معذرت تک رہتے تو حالات کی نوعیت اور ہوتی لیکن انہوں نے تو اگلے ہی روز اس پر بھی پانی پھیر دیا اور امریکہ والے ’’مہاجروں‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پھر سے وہی باتیں دہرا دیں جن کے حوالے سے تحریری معافی مانگی تھی، تب جب سب نے مذمت کی تو پینرا بدل لیا تھا، ورنہ ’’ہم سب ایک ہیں‘‘۔

مزید :

کالم -