سندھ میں بلدیاتی سربراہوں کا انتخاب

سندھ میں بلدیاتی سربراہوں کا انتخاب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سندھ میں بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخابات بالآخر مکمل ہو گئے۔ ہر جگہ متوقع نتائج برآمد ہوئے۔ کراچی اور حیدر آباد میں ایم کیو ایم کے امیدواروں کو کامیابی حاصل ہوئی، جبکہ سکھر، لاڑکانہ، بدین، نواب شاہ، گھوٹکی اور دیگر مقامات پر پیپلزپارٹی کو بلدیاتی اداروں کی سربراہی مل گئی۔ سب سے اہم اور دلچسپ انتخاب کراچی کے میئر کا ہوا۔ ایم کیو ایم کی طرف سے سابق صوبائی وزیر وسیم اختر کو امیدوار بنایا گیا، جو آج کل مختلف مقدمات میں ملوث ہونے کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ نومنتخب میئر وسیم اختر کے خلاف12مئی کے سانحہ کا مقدمہ بھی چل رہا ہے، تاہم کراچی میں بلدیاتی سربراہی کے لئے انہوں نے208 ووٹ حاصل کئے۔ دوسرے لفظوں میں ایم کیو ایم کو موجودہ حالات میں اپنے امیدوار کی کامیابی کے راستے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ کراچی میں ڈپٹی میئر کا عہدہ بھی205ووٹ سے ایم کیو ایم نے حاصل کیا۔اِسی طرح حیدر آباد کے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کی کامیابی بھی ایم کیو ایم کے امیدواروں نے حاصل کی۔ کراچی کے میئر کی طرح بدین میں بھی اہم اور دلچسپ نتیجہ برآمد ہوا، جہاں سابق صوبائی وزیر ذوالفقار مرزا کے صاحبزادے میونسپل کمیٹی کی سربراہی کا انتخاب ہار گئے، کیونکہ اندرون سندھ میں پیپلزپارٹی نے کونسلروں کے انتخاب میں کئی مقامات پر سویپ کیا تھا۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ سندھ میں بلدیاتی اداروں کے تمام مراحل کے انتخابات مکمل ہو گئے تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ نومنتخب بلدیاتی قیادت کو کس حد تک بااختیار بنایا جائے گا۔ تقریباً ہر شہر اور قصبے میں مسائل حل طلب چلے آ رہے ہیں، بلدیاتی اداروں کی نمائندگی کے آغاز ہی سے اختیارات بارے تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، کیونکہ صوبائی حکومت اہم اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ اس سلسلے میں کچھ تبدیلیاں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود کر دی گئیں۔ چنانچہ منتخب بلدیاتی قیادت کی طرف سے مایوسی کا اظہار بھی کیا جاتا رہا۔کراچی کا جائزہ ہی لیا جائے تو وہاں صحت و صفائی، واٹر سپلائی اور تعلیمی سہولتوں کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اگر میئر کراچی کو اِس حوالے سے مکمل اختیارات نہ دیئے گئے تو پھر صورتِ حال مزید سنگین ہو گی۔ دیکھنا یہ ہے کہ جیل میں بیٹھ کر وسیم اختر اپنے عہدے سے انصاف کر سکیں گے یا نہیں۔ اِسی طرح دوسرے شہروں میں بھی بلدیاتی قیادت کو بااختیار بنا کر عوامی خدمت کا فریضہ ادا کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے سے گریز ہی کیا جائے، یہی جمہوریت کا تقاضا ہے۔

مزید :

اداریہ -