چاند گرہن اور سورج گرہن کے بارے میں چند احادیث

چاند گرہن اور سورج گرہن کے بارے میں چند احادیث

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پسروری
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں، رسول اللہؐنے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے ،جب تم یہ دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔
(صحیح بخاری :1044، صحیح مسلم :2089)
حضرت ابو بکرؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرمؐکے پاس موجود تھے کہ سورج کو گرہن لگنا شروع ہوگیا ،آپؐ جلدی سے اُٹھے اور مسجد میں تشریف لے گئے اور ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں یہاں تک کہ سورج صاف ہوگیا ، پھر آپؐنے فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ کسی کے مرنے اور جینے پر بے نور نہیں ہوتے ،جب تم یہ گرہن دیکھو تو نماز پڑھو اوردعا کرویہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔ (صحیح بخاری :1040)
حضرت ابو مسعود انصاریؓ روایت کرتے ہیں، نبی اکرمؐ نے فرمایا: سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا یہ دونوں تواللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں اس لئے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہوجاؤ اور نماز پڑھو۔(صحیح بخاری:1041)
حضرت مغیرہ بن شعبہؓ فرماتے ہیں، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے انتقال کے دن سورج کو گرہن ہوا ، بعض لوگ کہنے لگے : گرہن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات کی وجہ سے لگا ہے۔ اس لئے رسول اللہؐنے فرمایا: گرہن کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں لگتا ، البتہ تم جب اسے دیکھو تو نماز پڑھا کرو اور دعا کیا کرو۔ (صحیح بخاری:1043)
حضرت عبداللہ بن عمروؓروایت کرتے ہیں، جب رسول اللہؐکے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو یہ اعلان کیا گیا،( اَلصَّلٰاۃُ جَامِعَۃ)ٌ’’لوگو ! نماز کھڑی ہونے والی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: 1045، صحیح مسلم : 2092)
حضرت عائشہؓروایت کرتی ہیں، نبی اکرمؐکے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا تو آپؐمسجد میں آئے ،اور کھڑے ہوکر تکبیر کہی۔ لوگوں نے آپؐکے پیچھے صفیں بنا لیں۔(صحیح بخاری:1046،صحیح مسلم:2091)
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں، آپؐنے نماز کسوف کے لئے پہلی رکعت میں لمبی قرأت کی پھر اللہ اکبر کہ کر رکوع کیا ، پھر سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا ، پھر کھڑے ہو کر لمبی قرأت کی جو پہلی قرأت سے چھوٹی تھی ، پھر دوسرا رکوع کیا جو پہلے رکوع سے چھوٹا تھا ، پھر رکوع سے اٹھ کر دو سجدے کئے اور دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی(یعنی ہر رکعت میں دو دو قرائتیں ،دودو رکوع اور دودو سجدے کیے )۔(صحیح بخاری:1046)
حضرت ابو بکرؓ روایت کرتے ہیں، رسول اللہؐنے فرمایا:سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ ان کو گرہن کرکے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔(صحیح بخاری: 1048)
حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں ، نبی اکرمؐنے نماز کسوف کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور اسی خطبہ میں لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگیں۔(صحیح بخاری :1050)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرمؐکو نماز کسوف کے سجدے سے لمبا سجدہ کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ۔(صحیح بخاری: 1051)

مزید :

ایڈیشن 1 -