ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو قتل کی دھمکیاں دینے والے کون لوگ ہو سکتے ہیں ؟

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو قتل کی دھمکیاں دینے والے کون لوگ ہو سکتے ہیں ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری
  ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ایم کیو ایم میں بہت متحرک ہوا کرتے تھے پھر انہیں جنرل پرویز مشرف نے اپنی کابینہ میں وزیر بنا لیا۔ وہ ڈاکٹر صاحب کے علمی مرتبے سے بہت متاثر تھے، لیکن پھر یہ ہوا کہ انہیں متحدہ سے نکال دیا گیا اور انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں ٹی وی چینلوں کیلئے وقف کردیں اور مختلف چینلوں پر اس کے مظاہرے کرتے رہے، لیکن اس دوران وہ ایم کیو ایم میں دوبارہ شامل ہوگئے۔ ابھی انہیں شامل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ الطاف حسین کی بھوک ہڑتالی کیمپ میں تقریر ہوگئی جس کے اگلے روز ڈاکٹر فاروق ستار نے اعلان کردیا کہ اب ایم کیو ایم کے فیصلے کراچی ہی میں ہوں گے اور لندن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ غالباً اس سب کچھ سے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کو اتفاق نہیں تھا اس لئے انہوں نے کوئی وقت ضائع کئے بغیر ایم کیو ایم چھوڑنے کا اعلان کردیا۔ اپنے اس اعلان میں انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ تو کراچی کے حالات درست کرنے کیلئے دوبارہ شامل ہوئے تھے لیکن وہ ایم کیو ایم کی سیاست کو نہیں سمجھ سکے اس لئے وہ نہ صرف جماعت سے الگ ہو رہے ہیں بلکہ آئندہ سے سیاست بھی نہیں کریں گے۔ سیاست تو ایک ’’فائن آرٹ‘‘ ہے، ڈاکٹر صاحب کو اگر اس سے دلچسپی ہے اور ایم کیو ایم میں ان کیلئے کام کرنا مشکل ہے تو ملک میں بہت سی دوسری سیاسی جماعتیں ہیں وہ ان میں شامل ہوسکتے ہیں، ان کے والد مسلم لیگی تھے کسی نہ کسی مسلم لیگ میں بھی ان کیلئے جگہ بن سکتی تھی، لیکن ایم کیو ایم میں دوبارہ شامل ہونا اور چند ہی دنوں میں اس سے پھر علیحدہ بھی ہو جانا سچی بات ہے کوئی زیادہ قابل فہم نہیں، اگر انہیں ایم کیو ایم کی پیچیدہ اور تہہ در تہہ سیاست سمجھ نہیں آئی تھی تو ایک دفعہ اس جماعت سے نکالے (یا نکلنے) جانے کے بعد اس میں برضا و رغبت دوبارہ شامل ہونے کی ضرورت کیا تھی؟ اگر وہ دوبارہ چلے ہی گئے تھے تو پھر اتنی جلدی واپس کیوں آگئے؟ چند ہفتے یا چند مہینے تو اور ٹھہرے ہوتے۔ چلئے جو انہوں نے اپنے لئے اور اپنی سیاست کیلئے بہتر سمجھاوہ کیا اس کا انہیں پورا پورا حق ہے کیونکہ سیاست لوگ اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق کرتے ہیں یا پھر ’’تھنک ٹینکوں‘‘ کے مشورے پر عمل کرتے ہیں۔ ہم نے بہت سے لوگ اور سیاسی کارکن ایسے دیکھے ہیں جنہیں ہواؤں کے رخ کا قبل از وقت اندازہ ہو جاتا ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ یہ رخ بدلنے والا ہے تو وہ اس سے پہلے خود بدل جاتے ہیں یہ کوئی تازہ واردات نہیں جو لوگ قیام پاکستان کے مخالف اور اپنے تئیں سمجھتے تھے کہ پاکستان بن نہیں سکتا جب انہوں نے دیکھا کہ یہ بہت جلد حقیقت کا روپ دھارنے والا ہے تو وہ دھڑا دھڑ مسلم لیگ میں شامل ہونے لگے تاکہ نئے ملک میں پیدا ہونے والے قیادت و سیاست کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔ جو نواب اور جاگیردار یونینسٹ پارٹی میں نمایاں تھے وہ بھی مسلم لیگ کی صف اول میں آگئے، یہ ریت اور روایت آج تک نہیں بدلی۔ تو خیر ہم بات ڈاکٹر عامر لیاقت علی کی کررہے تھے جو دوبارہ ایم کیو ایم کو پیارے تو ہوئے لیکن اس میں زیادہ دن رہ نہ پائے۔ اب انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں قتل کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ یہ اطلاع دینے کے بعد انہوں نے چونکا دیا اور کہا کہ اگر وہ قتل ہوگئے تو الطاف حسین اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ جن لوگوں نے ان کے پروگراموں میں ان کی زبان سے الطاف حسین کیلئے محبت بھرے الفاظ سنے ہیں وہ ان کے اس انکشاف پر اگر چونکیں گے نہیں تو کیا کریں گے؟ ان کی یہ اطلاع اگر درست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کہیں وہ ایم کیو ایم کی داخلی سیاست کا شکار تو نہیں ہو رہے۔ انہوں نے بظاہر کوئی ایسی بات بھی نہیں کی جو ایم کیو ایم کی اعلیٰ قیادت کو بری لگی ہو، اس لئے انہیں دھمکیاں کیوں ملنے لگیں؟ ڈاکٹر عامر لیاقت ملک کے پاپولر ٹاک شو میزبان ہیں، اتنی ہردلعزیز شخصیت کو دھمکیاں ملنا تشویش کی بات ہے لیکن یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ آخر یہ دھمکیاں انہیں مل کیوں رہی ہیں؟ وہ اگر کراچی کے حالات کی بہتری کیلئے ایم کیو ایم میں دوبارہ شامل ہوئے تھے تو یہ تو ایک نیک اور مثبت مقصد ہے ملک کا سب سے بڑا شہر اگر ان کی کوششوں سے بہتری کی جانب گامزن ہوتا تو یہ خوشی کی بات ہوتی لیکن ان کی یہ خدمت بھی اگر پسند نہیں کی گئی اور لوگ انہیں دھمکیاں دینے پر اتر آئے تو یہ سنجیدہ معاملہ ہے۔ امید ہے ڈاکٹر عامر لیاقت نے سکیورٹی حکام کو اپنی شکایت پہنچائی ہوگی اور وہ ان کی حفاظت کا کوئی بندوبست بھی کریں گے لیکن انہیں یہ وضاحت ضرور کرنی چاہئے کہ کیا ان دھمکیوں کا تعلق ایم کیو ایم میں دوبارہ شامل ہونے اور پھر جلدی جلدی اسے چھوڑنے سے ہے؟ جنہوں نے انہیں ایم کیو ایم میں دوبارہ شامل ہونے کی اجازت دی کیا انہیں دوبارہ پارٹی چھوڑنا پسند نہیں آیا؟ عام طور پر جو لوگ ایم کیو ایم چھوڑتے ہیں انہیں پارٹی میں دوبارہ قبول نہیں کیا جاتا، بہت ہی کم لوگ ہوں گے جنہیں پارٹی چھوڑ جانے کے بعد دوبارہ شمولیت کی اجازت ملی ہو، ان میں سینئر کارکن عامر خان شامل ہیں جو 92ء میں پارٹی چھوڑ گئے تھے وہ اور آفاق احمد خان علیحدہ سیاست کرتے رہے۔ آفاق تو اب تک مہاجر قومی موومنٹ کے پلیٹ فارم سے سیاست کر رہے ہیں لیکن عامر خان نے سجدہ سہو کرلیا اور معافی مانگ کر دوبارہ ایم کیو ایم میں شامل ہوگئے۔ ان کی یہ معافی قبول بھی کرلی گئی، عامر لیاقت کو بھی اگر ایم کیو ایم میں دوبارہ شامل ہونے کی اجازت ملی تھی تو بعض شرائط پر ہی ملی ہوگی۔ اب انہوں نے چند دن کے اندر اندر دوبارہ پارٹی چھوڑ دی تو لگتا ہے ان کا یہ فیصلہ اعلیٰ سطح پر قبول نہیں کیا گیا۔ اب تو پارٹی کے قائد فاروق ستار ہیں کیا انہوں نے انہیں اعتماد میں لے لیا تھا؟ ڈاکٹر عامر لیاقت کو دھمکیوں کا معاملہ سنجیدہ ہے اور انہوں نے اپنے قتل کی صورت میں الطاف حسین کو ذمے دار قرار دینے کا جو اعلان کیا ہے وہ سنجیدہ تر ہے، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عامر کو حاسدوں اور برے ارادے والوں سے محفوظ رکھے، وہ ٹی وی کا ٹیلنٹ ہیں اور ان کے لاکھوں مداحین ہیں۔ امید ہے ان کے خدشات غلط ثابت ہو جائیں گے۔

مزید :

تجزیہ -