1998-1993 عظیم احمد طارق نے بھی قائد کی اجازت سے مفاہمت کی سیاست شروع کی تھی

1998-1993 عظیم احمد طارق نے بھی قائد کی اجازت سے مفاہمت کی سیاست شروع کی تھی

  

تجزیہ: نصیراحمد سلیمی

میں ایم کیو ایم کے بانی چیئرمین عظیم احمد طارق (مرحوم) نے بھی ایم کیوایم کو بچانے کیلئے عسکری قیادت سے مفاہمت الطاف حسین کی رضامندی سے کی تھی۔ الطاف حسین نے اپنے ٹیلیفونک خطاب کے ذریعہ قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان بھی کردیا تھا۔ اس مفاہمت کے بعد ہی ایم کیو ایم کے وہ سارے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی اداروں کے سربراہ روپوشی ختم کرکے ایم کیوایم کے عارضی دفتر جو حاجی شفیق الرحمان کی رہائش ڈپو سلطان روڈ پر قائم کیا گیا تھا ایک ایک کرکے فوجی حکام کی طرف سے کلیئر کئے جانے کے بعد ’’منظر عام‘‘ پر آئے تھے۔ ڈاکٹر فاروق ستار اس وقت کراچی کے میئر اور قومی اسمبلی کے رکن تھے۔ تاہم پارٹی کی ’’اعلیٰ کمان‘‘ میں شمار تھا اور نہ ہی ان کے پاس پارٹی کا کوئی انتظامی عہدہ تھا۔ سارے لوگ اپنی جانیں بچانے کیلئے عظیم احمد طارق کی قیادت میں پہلے حاجی شفیق الرحمان کے گھر اور بعدازاں گلشن اقبال میں سینیٹر زاہد رکن الدین کی فراہم کردہ عمارت میں جمع ہوگئے تھے اور نائن زیرو کی حفاظت مرحوم اشتیاق اظہر اور کچھ علاقہ سے تعلق رکھنے والے بزرگ اور خواتین کرتی تھیں۔ الطاف حسین کی شہر سے تصاویر تو 19 جون کے اپریشن کے بعد آفاق احمد خان، عامر خان اور بدراقبال کی قیادت میں جمع ہونے والے الطاف حسین کے باغیوں نے ہٹا دی تھیں تاہم ڈاکٹر عمران فاروق منظر عام پر نہیں آئے تھے۔ ڈاکٹر عمران فاروق پارٹی کے سیکرٹری جنرل تھے جبکہ سلیم شہزاد وائس چیئرمین تھے۔ سلیم شہزاد سمیت بہت سے دیگر افراد بیرون ملک جانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ ان میں سندھ کے موجودہ گورنر ڈاکٹر عشرت العباد جو جام صادق علی کابینہ میں صوبائی وزیر تھے اور طارق جاوید سندھ کے سینئر وزیر سمیت کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی انہی میں ایک کارکن سید مصطفیٰ کمال بھی تھے جو اس وقت ایک سرکاری محکمہ میں جونیئر کلرک تھے اور عملاً نائن زیرو پر کام کرتے تھے۔ نائن زیرو کو سینیٹر اشتیاق اظہر نے آباد رکھا (جو بعدازاں الطاف حسین کے حکم پر باہر کردیئے گئے تھے)۔ حالات جیسے جیسے نارمل ہوتے گئے الطاف حسین سے اظہار لاتعلقی کرنے والے الطاف حسین کے حکم پر واپس نائن زیرو جانا شروع ہوئے۔ ایک دن کچھ اخبار نویسوں کو عظیم احمد طارق نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور شعیب بخاری نے مجھے پہلے ہی دن کہہ دیا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ اس وقت تک ہیں جب تک ہمیں یہاں پر رہنے کی اجازت الطاف حسین دیں گے۔ جیسے ہی انہوں نے نائن زیرو جانے کا حکم دیا ہم چلے جائیں گے اور کچھ دن بعد انہیں نہیں دیکھا گیا۔ پھر ایک دن عظیم احمد طارق جب اپنے خلاف چلنے والے مقدمہ میں پیش ہونے کے بعد واپس نکلے تو عدالت کے احاطے میں ہی ان کے اپنے کارکنوں نے ’’قائد‘‘ سے غداری کے الزام میں انہیں خوب مارا پیٹا اور موبائل فون پر لندن میں اس کی کمنٹری سنانے کا انتظام بھی کیا جس کا ذکر ایم کیو ایم کے مقتول چیئرمیں عظیم احمد طارق نے قتل ہونے سے تین دن قبل اپنی آخری پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر کیا تھا کہ ’’قائد جس کا قد بڑھتا ہوا محسوس کرتا ہے اسے فارغ کرا دیتا ہے‘‘۔ اس پریس کانفرنس کے تین دن بعد ہی عظیم احمد طارق اپنے بیڈ روم میں قتل کردیئے گئے تھے۔ آج تک یہ بھی کسی کو معلوم نہیں ہوسکا کہ دروازہ کس نے کھولا تھا۔ گھر میں ان کی بیوی تھی یا ان کا ایک معصوم بچہ اور عظیم احمد طارق کا سیکرٹری جو دن رات ساتھ رہتا تھا۔ عظیم احمد طارق کے قتل ہونے کے بعد ان کے بڑے بھائی وسیم احمد کو ان کی ڈائری میں عظیم احمد طارق کا اپنے بچوں کے نام لکھا گیا خط ملا تھا جس میں لکھا تھا کہ ’’تم جب یہ خط پڑھنے کے قابل ہوگے تو تمہارا باپ اس دنیا میں نہیں ہوگا‘‘ ۔ شاید یہ خط انہوں نے عدالت کے احاطے میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے بعد لکھا تھا۔ ایک بار پھر ’’الطاف حسین کی رضامندی‘‘ سے پارٹی کو بچانے اور جیلوں میں بند کارکنوں کی آزمائش ختم کرانے کیلئے ہندوستان، امریکہ، اسرائیل کی مدد مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے الطاف حسین کی نیویارک کی تقریر سے اظہار لاتعلقی تو کردیا ہے مگر کیا وہ ایم کیو ایم کے آئین سے الطاف حسین کی سپریم کمانڈر کا حصہ حذف کرنے کی ہمت کرکے ’’منزل نہیں رہنما چاہئے‘‘ کا سلوگن تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں؟ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو ایم کیو ایم کے کارکنوں کے ساتھ فکر ہونی چاہئے جنہیں ملک بھر کے دیگر محب وطن لوگوں کی طرح الطاف حسین کی پاکستان دشمن تقاریر نے شاید اذیت سے دوچار کر رکھا ہو اردو بولنے والی بھاری اکثریت آج بھی اپنے بزرگوں کی پاکستان کے قیام میں تاریخ ساز کردار پر برقرار اور اپنی نسلوں کا محفوظ پاکستان کے استحکام میں دیکھتی ہے اور اس کی بقا، سلامتی اور یکجہتی کیلئے وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہے جس کا تقاضہ وطن عزیز کرے گا۔

مفاہمت کی سیاست

مزید :

تجزیہ -