فیکٹری ایریا، مغوی خاتون کی نعش 5روز بعد برآمد جسم کے کئے اعضا ء غائب

فیکٹری ایریا، مغوی خاتون کی نعش 5روز بعد برآمد جسم کے کئے اعضا ء غائب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(کرائم رپورٹر) فیکٹری ایریا کی رہائشی چار بچوں کی ماں شمشاد بی بی کو اغوا کرنے کے بعد قتل کر کے ملزم نے لاش برہنہ حالت میں کھیتوں میں پھینک دی قتل ہونے والی خاتون کے دونوں ہاتھ ،دونوں پاؤں ،دانت اور پیٹ غائب ہیں لاش ڈھانچہ کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔پانچ دن کے بعد ملنے والی لاش ایسی شکل کیوں اختیار کر گئی ہے پولیس اس کی وجہ اور قتل ہونے کی وجوہات بتانے سے انکاری ہے جبکہ ڈاکٹروں نے لاش کا تاحال اس لئے پوسٹ مارٹم نہیں کیا کیونکہ ایسی لاش کے لئے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ قائم کیا جاتا ہے جو اصل حقائق تک پہنچ پائے کہ قتل ہونے کی وجوہات کیا تھیں ۔اسے کیسے قتل کیا گیا متاثرہ خاندان اس قتل پر سخت افسردہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی پریشان ہے کہ پانچ دن میں لاش کی ایسی حالت کیوں ہو گئی ہے ۔آیا کیا یہ قتل ہونے والی کوئی خاتون اور تو نہیں تاہم مقتولہ نے جو کپڑے پہن رکھے تھے وہ جوتوں سمیت برآمدہوئے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قتل ہونے والی خاتون وہ ہی ہے ۔متاثرہ خاندان کے مطابق وہ قاتل تک خود ہی پہنچے ہیں پولیس نے پہلے دن اغوا کا مقدمہ درج کر کے یہ کہہ کر انہیں گھر بھجوا دیا تھا کہ وہ خود ہی گھر واپس آ جائے گی ۔تفصیلات کے مطابق فیصل ٹاؤن کے رہائشی صفدر محمود نے اپنے دیگر رشتہ داروں کے ہمراہ روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے کچھ عرصہ قبل اپنی بہن کی شادی لالہ موسی کے رہائشی ایک شخص سے کر رکھی تھی جس سے اس کے ہاں 4بچے پیدا ہوئے ان کی بہن بچوں سمیت ان دنوں فیصل ٹاؤن لاہور میں ہی اپنے دو بھائیوں کے گھر میں قیام پذیر تھی اور جنرل ہسپتال کے قریب ایک کلینک پر کام کر رہی تھی ۔12اگست کو وہ گھر سے کلینک گئی رات گئے تک واپس نہ آنے پر جب اس کا موبائل فون بند پایا گیا تو کلینک سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ چار پانچ بجے کلینک سے جا چکی ہے جس پر انہیں تشویش لاحق ہوئی اور انہوں نے مقامی پولیس فیکٹری ایریا کو اطلاع دی ،جس نے ابتدائی طور پر رپٹ درج کر کے واپس بھجوا دیا اور کہا کہ اگر وہ واپس نہ آئے تو اگلے روز آ کر اطلاع دینا اگلے روز شمشاد بی بی کے نہ ملنے پر انہوں نے پولیس کو دوبارہ اطلاع دی جس پر پولیس نے 3سے 4نامعلوم افراد کے خلاف بد اخلاقی کی نیت سے اغوا کرنے کا مقدمہ درج کر لیا ۔مقتولہ کے بھائی صفدر محمود کے مطابق ان کی بہن کچھ عرصہ پہلے تھانہ کاہنہ کے علاقہ میں ایک کلینک پر کام کر چکی تھی انہوں نے جب اپنی بہن کے موبائل کا ڈیٹا نکلوایا تو کاہنہ چائے والے کے ایک ملازم شہزاد کی بار بار کالیں آنا ثابت ہوئیں جس پر انہوں نے اسے خود ہی قابو کر کے مقامی پولیس کے حوالے کیا جہاں اس نے اعتراف جرم کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے شمشاد بی بی کو چھری سے قتل کر کے ضلع قصور تھانہ للیانی کے علاقہ میں لاش کھیتوں میں پھینک دی ہے جس پر پولیس نے متاثرہ خاندان کو ساتھ لیکر کھیتوں میں گلی سڑی لاش جو کہ ڈھانچہ کی شکل اختیار کر چکی ہے برآمد کی ۔لاش کے دونوں ہاتھ پاؤں اور پیٹ غائب ہیں تاہم قریب سے خاتون کے کپڑے اور جوتے ملے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ لاش شمشاد بی بی کی ہی ہے ۔مقتولہ کے بھائی کے مطابق انہیں اپنی بہن کی لاش اغوا کے صرف 6سے 7روز بعد ہی مل گئی اتنے کم دنوں میں لاش کا ڈھانچہ میں تبدیل ہو جانا سمجھ سے باہر ہے۔مقامی پولیس تفتیش مکمل کرنے کے لئے پیسوں کا مطالبہ کر رہی ہے ان سے نقشہ بنوانے کے عوض بھی پانچ ہزار روپے وصول کئے گئے ہیں ۔جبکہ پٹرول اور کھانے کے نام پر بھی پیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔وہ سخت پریشان ہیں ان کے خیال میں یہ واردات اکیلے ملزم کی نہیں ہے تاہم پولیس تفتیش کو آگے بڑھانے کی بجائے پر اسرار طور پر خاموش ہے ارباب اختیار سے اپیل ہے کہ مقتولہ کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں وہ انصاف کے طلب گار ہیں ۔مقدمہ کے تفتیشی سب انسپکٹر مشتاق احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا ہے کہ ابھی دو روز قبل ہی تفتیش ان کے پاس آئی ہے وہ اس قتل کی وجوہات سے واقف نہیں مقتولہ کا ڈھانچہ مردہ خانہ میں موجود ہے اس کا پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ قائم کیا گیا ہے جیسے ہی پوسٹ مارٹم مکمل ہوا لاش ورثا کے حوالے کر دی جائے گی ۔ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ یہ خاتون کا ڈھانچہ ہے یا نہیں ۔لاش کے ڈھانچہ میں تبدیل ہونے کے بارے میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ لاش کھیتوں میں پڑی تھی خدشہ ہے کہ جانوروں نے اسے نوچ کر کھا لیا ہو گا ۔

مزید :

علاقائی -