ایم کیو ایم سخت دباؤ میں،آئندہ چند روز اہم ہونگے

ایم کیو ایم سخت دباؤ میں،آئندہ چند روز اہم ہونگے

  

کراچی : تجزیہ مبشر میر:

ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ کے ہوتے ہوئے فیصلے پاکستان میں کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے ۔دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی ایم کیو ایم کے فعال دفاتر اور کارکن موجود ہیں جہاں سے کسی نے لاتعلقی کا تاحال اعلان نہیں کیا ہے ۔یہ بات حیران کن ہے کہ آخر بیرون ملک بیٹھے ہوئے کئی راہنما ابھی تک کیوں خوفزدہ ہیں ۔ایم کیو ایم کے لندن سمیت دیگر ممالک میں دفاتر غیر فعال کرنے کے لیے پاکستان دفتر خارجہ نے ابھی تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا جس پر سیاسی تبصرہ نگار بھی حیرانگی کا اظہار کررہے ہیں ۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کی طرف سے کوئی واضح اور دوٹوک موقف سامنے نہیں آیا اور نہ ہی باقاعدہ مذمت کی گئی ہے ۔بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ وہ کوئی بڑا اعلان کرسکتے ہیں ۔ڈاکٹرفاروق ستار مصلحت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔وہ ایم کیو ایم کے سخت گیر اور نرم گفتار طبقے کو ملاکر چلنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال میں یہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے ۔لوگ دوٹوک موقف اپنانے کا تقاضا کررہے ہیں۔پاک سرزمین پارٹی کی جانب جانے کا رجحان دکھائی نہیں دیا گیا کیونکہ ایم کیو ایم کے کئی سینئر راہنما مصطفی کمال کو اپنا قائد تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتے ۔آئندہ چند روز ایم کیو ایم کے مستقبل کے حوالے سے بہت اہم ہیں ۔ایم کیو ایم کے سخت گیر طبقے کی جانب سے کسی بھی قسم کا ردعمل سامنے آسکتا ہے جس کے خوف کی وجہ سے کئی راہنماؤں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔

مزید :

تجزیہ -