ہائیکورٹ کی مختلف اضلاع میں عدالتیں مختص کرنیکی تجویز پر وکلاء کا ملا جلا عمل

ہائیکورٹ کی مختلف اضلاع میں عدالتیں مختص کرنیکی تجویز پر وکلاء کا ملا جلا عمل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتا ن(خبر نگار خصو صی) ہائیکورٹ کی مختلف اضلاع کے لئے عدالتیں مخصوص کرنے بارے تجویز پروکلاء نے مختلف ردعمل کا اظہارکیا ۔اس سلسلے میں"روز نا مہ پا کستا ن" سے گفتگو کرتے ہوئے صدرہائیکور ٹ بار شیخ جمشید حیات نے کہا کہ بار نے ملتان بنچ کی مزید تقسیم پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور (بقیہ نمبر49صفحہ12پر )
مخالفت کی تھی تاہم اب بنچوں کے اندرہی متعلقہ اضلاع کیلئے عدالتیں مخصوص کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے پر ہی رائے دی جاسکتی ہے۔شیخ محمد فہیم نے کہا کہ ایسا اقدام خلاف قانون ہوگا کیونکہ اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے اور یہ اقدام ناقابل عمل بھی ہوگا۔ محمد مسعو د خا ن نے کہا کہ یہ ایک بہترین اقدام ہے کیونکہ اس سے مقدمات کا التواء ختم ہوجائیگااور مسائل حل ہوں گے جبکہ سائلوں کو بھی سالہاسال فیصلے کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔جنرل سیکرٹری چوہدری عمر حیات نے کہا کہ ملتان بنچ کے مسائل پرنسپل سیٹ لاہور جیسے نہیں ہیں اس لئے اس طرح کی تقسیم نہیں ہونی چاہیے یہاں کے معاملات درست طریقے سے چل رہے ہیں اسلئے عدالتوں کی ڈویژن کی بنیاد پر تقسیم کی مخالفت کریں گے ۔مہر اقبا ل سر گا نہ نے کہا کہ اس طرح کی تقسیم سے پہلے ملتان بنچ سے علاقوں کو الگ کردیا گیا اور اب بھی اس طرح کے فیصلوں سے ساہیوال کو علحدہ کرنے کا خدشہ ہے پہلے ہی ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں اور اس طرح کے فیصلوں سے ایک نیا پنڈورا بکس کھل جائیگا اس لئے ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ محمد ایو ب بزدار نے کہا کہ اس تجویز پر عمل سے سائلوں اور وکلاء کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔کنور محمد یونس نے کہا کہ ملتان بنچ میں تقسیم کو کسی صورت تسلیم نہیں کیاجائیگا اور ایسے تقسیم سے مسائل میں اضافہ ہوگا۔نشید عا ر ف گو ند ل نے کہا کہ ہائیکورٹ آئینی عدالت ہے اور عدالتیں مختص کرنے میں اگر سول ،فوجداری اور آئینی مہارت نہیں دیکھی گئی تو مشکلات میں اضافہ ہوگا اور فیصلہ ناقابل عمل ہوکررہ جائیگا۔ ا شتیا ق علی شا ہ نے کہا کہ اس فیصلے کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ اس سے سائلوں کی مشکلات ،مقدمات کے التواء اور وکلاء کے مسائل میں کمی ہوگی۔ممتا ز نو ر ٹا نگر ہ نے کہا کہ اس فیصلے سے ہائیکورٹ کی مرکزیت ختم ہوجائیگی اور آئینی و قانونی مسائل پیداہونے کیساتھ عام لوگوں کے لئے مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ محمد صا د ق نے کہا کہ اس فیصلے کے باوجود متعلقہ اضلاع کے سائلوں اور وکلاء کی مشکلات ختم نہیں ہوں گی اور ان کے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ با بر سو ئیکا ر نو نے کہاکہ عدالتیں مختص کرنے کی بجائے علحدہ بنچ بنائے جانے ضروری ہیں کیونکہ اس کے بغیر مسائل حل نہیں کئے جاسکتے ہیں۔ معراج خا لد اور فیروزہ فیض نے کہاکہ اس طرح مسائل ختم نہیں ہوں گے آج علحدہ بنچ بنائے گئے تو کل کو ہر ضلع اور تحصیل کی جانب سے مطالبہ آئیگا پھر موبائل کورٹ اور اس کے بعد گھر گھر انصاف فراہم کرنے کا کہاجائیگا تو ہائیکورٹ کاوقار مجروح ہوگااس لئے ایسے فیصلے نہیں ہونے چاہئیں۔