اراضی کے حصول میں کروڑوں کے گھپلے میں ملوث مالک کی گرفتاری روک دی گئی

اراضی کے حصول میں کروڑوں کے گھپلے میں ملوث مالک کی گرفتاری روک دی گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس ابراہیم خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے نیب خیبرپختونخوا کو جامعہ پشاورکے ملازمین کے رہائشی منصوبے کی اراضی کے حصول میں کروڑوں کے گھپلے میں ملوث اراضی کے مالک کی گرفتاری اورہراساں کرنے سے روک دیااورنیب خیبر پختونخوا سے جواب مانگ لیاہے فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز درخواست گذار ابراہیم شاہ کی رٹ پر جاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ پشاوریونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر عظمت حیات اورسابق رجسٹرار وغیرہ نے پشاور یونیورسٹی کے ملازمین کے رہائشی منصوبے کے لئے اراضی لی تھی اور درخواست گذار سے مذکورہ اراضی یونس جان نامی شخص نے لی تھی اوردرخواست گذار اوریونس جان کے مابین یہ معاہدہ طے پایاتھاکہ درخواست گذار کو اراضی کی قیمت ادا کی جائے گی تاہم یونس جان جس کے نام چاہے اراضی کاانتقال براہ راست اس کے نام ہوگاجبکہ نیب اس حوالے سے تحقیقات کررہی ہے اوردرخواست گذار کو بھی کال اپ نوٹس جاری کیاگیاہے جبکہ مذکورہ سکینڈل سے درخواست گذار کاکوئی تعلق نہیں بنتا لہذانیب کے کال اپ نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے اوررٹ کی حتمی سماعت تک نیب کودرخواست گذار کی گرفتاری سے روکا جائے اس موقع پر فاضل بنچ نے قرار دیا کہ عدالت عالیہ پہلے ہی مذکورہ نوعیت کے کیسزمیں نیب کو ہدایات جاری کرچکی ہے کہ وہ تحقیقات وغیرہ کے کیسز میں محتاط رہیں اورقانون کے مطابق کاروائی کریں کیونکہ اس نوعیت کی درخواستوں میں شرح میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے فاضل بنچ نے ا س موقع پرعبوری احکامات جاری کرتے ہوئے نیب کو درخواست گذار کی گرفتاری سے روک دیااوررٹ پٹیشن اسی نوعیت کی دیگردرخواستوں کے ساتھ یکجا کردی یہاں یہ امربھی قابل ذکرہے کہ مذکورہ سکینڈل کے حوالے سے نیب اوراحتساب کمیشن دونوں نے انکوائری شروع کررکھی ہے ۔