فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے والے نابلد ہیں ،ملک سردار خان

فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے والے نابلد ہیں ،ملک سردار خان

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مہمند ایجنسی ( نمائندہ پاکستان) مہمند ایجنسی، فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کا نعرہ لگانے والے زمینی حقائق سے لا پرواہ نا پختہ ذہنی ہے۔ فاٹا میں سیاست میچور نہیں۔ رسم و رواج قانون کا حامل الگ صوبہ دیا جائے۔ فاٹا معدنیات سے مالا مال تجارتی زون ہے۔ استفادہ حاصل کر کے صوبائی اخراجات پورے ہو سکتے ہیں۔ الگ تشخص علاقے کے مفاد میں ہے۔ ان خیالات کا اظہار فلاحی تنظیم مہمند یونین کے صدرملک سلیم سردار کان، نائب صدر توکل خان اور جنرل سیکرٹری نورشاد شباب نے مہمند پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ملک سلیم سردار خان نیکہا کہ فاٹا اصلاحات کے نام پر تبدیلی لانے کیلئے سفارشات وزیر اعظم کے پاس اختتامی مراحل میں ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق الگ رسم و رواج رکھنے والے قبائلی علاقہ جات فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ جس سے قبائلی عوام ، فلاحی تنظیموں اور عمائدین میں مایوسی پھیل گئی ہے۔ کیونکہ بندوبستی علاقوں میں رائج نظام قبائلی رسم و رواج سے متصادم ہے۔ وزیر اعظم کی نامزدکردہ فاٹا اصلاحات کمیٹی نے مخصوص لوگوں سے رائے لی کیونکہ قبائل کی اکثریت فاٹا کو صوبے میں ضم ہونے کی بجائے موجودہ حیثیت برقرار رکھ کر ایف سی آر میں ترمیم یا اپنا الگ صوبہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقہ میں سیاست ابتدائی سٹیج پر ہے اور سیاستدان میچور نہیں۔ اس لئے عوامی کثرت رائے کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ قبائل کی اکثریت غیر سیاسی ہے۔ اس لئے صوبے میں ضم کرنے کا نعرہ لگانا کسی بھی طرح قبائلی عوام کے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائل نے 1965 ء کشمیر اورروس کے خلاف جہاد میں حصہ لیکر بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ اور ملک و قوم کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے۔ اس لئے الگ تشخص برقرار رکھنے کیلئے حکومت الگ صوبے کا درجہ دے۔ مالی طور پر بھی قدرتی وسائل، معدنیات اور تجارت سے فائدہ اُٹھا کر فاٹا الگ صوبے کے اخراجات برداشت کر سکتا ہے۔ فاٹا کے منتخب پارلیمنٹیرینزکی مشاورت سے فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے۔