او جی ڈی سی ایل کے 9 افسروں کو سرپلس پول میں بھجوانے کے احکامات معطل

او جی ڈی سی ایل کے 9 افسروں کو سرپلس پول میں بھجوانے کے احکامات معطل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اورجسٹس ابراہیم خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے وفاقی حکومت کی جانب سے او جی ڈی سی ایل کے نو افسروں کو سرپلس پول میں بھجوانے کے احکامات معطل کردئیے اوروفاقی حکومت سے جواب مانگ لیاہے فاضل بنچ نے خالد انورایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرتاج محمدسمیت گریڈ17کے 9افسروں کی رٹ کی سماعت کی اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ درخواست گذار 1996ء میں او جی ڈی سی ایل میں بھرتی ہوئے تاہم درخواست گذاروں کو1997ء میں برطرف کردیاگیا اوران کی بھرتی کو سیاسی قرار دیاگیاتاہم جب 2008ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تو انہوں نے 2010ء میں برطرف ملازمین کی بحالی کاقانون پاس کیا اور درخواست گذاروں سمیت 372ملازمین کو ان کی برطرفی کی تاریخوں سے انہیں مستقل بنیادوں پربحال کیاگیاتاہم ایک مرتبہ پھروفاقی حکومت نے بحال کئے گئے ملازمین کے خلاف انتقامی کاروائی شروع کی اوردرخواست گذاروں سمیت 42افسروں اور320 اہلکاروں کو سرپلس پول بھجوادیا جہاں اب ان کی برطرفی کاامکان ہے کیونکہ حال ہی میں22نئے افسروں کو بھرتی کیاگیاہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سندھ سے تعلق رکھنے والے ملازمین این آئی آر سی سے رجوع کرچکے ہیں جنہیں عدالت حکم امتناع جاری کرچکی ہے جس پرفاضل بنچ نے ملازمین کو سرپلس پول بھجوانے کے احکامات معطل کرتے ہوئے جواب مانگ لیاہے ۔