عراق پر حملے کے دوران امریکی فوج نے داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کے ساتھ ایسا کیا کیا جس کا اب انتہائی خوفناک بدلہ لیا جارہا ہے؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات سامنے آگئیں

عراق پر حملے کے دوران امریکی فوج نے داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کے ساتھ ...
عراق پر حملے کے دوران امریکی فوج نے داعش کے سربراہ ابوبکرالبغدادی کے ساتھ ایسا کیا کیا جس کا اب انتہائی خوفناک بدلہ لیا جارہا ہے؟ انتہائی پریشان کن تفصیلات سامنے آگئیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) فروری 2004ءمیں امریکی فوجی عراق کی ابوغریب نامی جیل میں ایک قیدی کو لائے جس کا نام ابراہیم عود ابراہیم البدری تھا۔ اس قیدی کو جیل میں US9IZ-157911CIنمبر الاٹ کیا گیا تھا۔ بعدازاں ابوغریب جیل کو عالمی میڈیا میں بے حد شہرت ملی لیکن یہ قیدی آئندہ 10سال تک غیرمعروف ہی رہا۔ 2014ءمیں اس قیدی نے ایسا کچھ کیا کہ پوری دنیا اس کے نام سے واقف ہو گئی۔ یہ قیدی دراصل شام و عراق میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کا سربراہ ابوبکرالبغدادی تھا۔ ”دی انٹرسیپٹ“ کی رپورٹ کے مطابق اب امریکی فوج نے اعتراف کر لیا ہے کہ ابوبکرالبغدادی عراق پر قبضے کے دوران ان کا قیدی رہ چکا تھا۔

’جہاں بھی اس ملک کے شہری نظر آئیں مار ڈالو یا اغواءکرلو‘ وہ ملک جس نے اپنی خفیہ ایجنسی کو خطرناک ترین حکم جاری کردیا، کونسا ملک ہے؟ جان کر آپ کی بھی حیرت کی انتہا نہ رہے گی
رپورٹ کے مطابق ابوبکر البغدادی کے ابوغریب میں قید رہنے کا معاملہ امریکی فوج نے اب تک خفیہ رکھا تھا تاہم اب اسے منظر عام پر لے آئی ہے۔ ماہرین ایک عرصے سے جانتے ہیں کہ عراق پر قبضے کے دوران ابوبکر البغدادی امریکہ کی قید میں رہ چکا ہے۔ اس سے قبل آنے والی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وہ کیمپ بکا نامی جیل میں قید رہا جو ایک وسیع جیل ہے اور عراق کے شمال میں واقع ہے۔ لیکن اب امریکی فوجی قیادت نے اعتراف کر لیا ہے کہ ابوبکرالبغدادی نے اپنی قید کا زیادہ تر وقت ابوغریب میں گزارا تھا۔
امریکی فوج کے ترجمان ٹوری اے رولن کا کہنا تھا کہ” البغدادی کی قید کے ریکارڈ میں ابوغریب جیل کا نام موجود نہیں ہے لیکن اس کو جیل میں جو سیریل نمبر دیا گیا تھایہ ابوغریب جیل ہی کا تھا۔ اس کا سیریل نمبر 157سے شروع ہوتا تھا اور اس سیریل نمبر کے قیدی ابوغریب میں ہی قید تھے۔“ رپورٹ کے مطابق ابوبکر البغدادی کی زندگی کے متعلق معلومات ہمیشہ سے غیرواضح رہی ہیں۔ اس کی امریکی فوج کے ہاں قید کے متعلق بھی متضاد رپورٹس ہیں۔ جون 2014ءمیں ڈیلی بیسٹ نے امریکی فوجی عہدیدار کرنل کینتھ کنگ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ابوبکر البغدادی 2005سے 2009ءتک امریکہ کی قید میں رہا۔ اس کے بعد اے بی سی نیوز نے امریکی فوجی حکام کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا تھا کہ 2006ءمیں ابوبکرالبغدادی امریکی فوج کی قید سے رہا ہو چکا تھا۔ اس کے کچھ ہی دن بعد پینٹاگون نے تصدیق کر دی کہ البغدادی محض 10ماہ کے لیے امریکی قید میں رہا تھا۔ اسے فروری 2004ءسے دسمبر تک قید رکھا گیا تھا۔