مجھے تو یہ سانڈ چاہئے

مجھے تو یہ سانڈ چاہئے
مجھے تو یہ سانڈ چاہئے

  

پال پوس کر قربانی کے جانور کو قربان کرنا تو بہت کم ہوچکا ہے البتہ قربانی کے دنوں میں لاکھوں روپے میں انتہائی پلا ہوا اور خوبصورت جانور تلاش کرکے اسکے ساتھ شوبازی کرنا ہمارا کلچر بن گیا ہے۔اس کا نظارہ ان دنوں عام دیکھا جاسکتا ہے۔

پلے ہوئے خوبصورت جانوروں کی تلاش میں پاکستان کے مختلف اضلاع سے بیوپاری بلوچستان پہنچ چکے ہیں جو جگہ جگہ سے قربانی کے پلے ہوئے جانوروں کی تلاش میں ہیں۔ یہ بیوپاری پاکستان کے مختلف شہروں سے بوریا بستر لیکر بلوچستان میں آتے اور اعلٰی نسل کے موٹے تازے جانوروں اور سانڈوں کی ڈیمانڈ کرتے ہیں ۔ اس سے پہلے کبھی بلوچستان میں اتنی بڑی تعداد میں بیوپاری نہیں آئے جتنے اس سال آئے ہیں۔ بلوچستان میں اس برس آنے والے بیوپاریوں کی تعداد کے حوالے سے اگرچہ واضح اعداد و شمار تو دستیاب نہیں ہیں مگر ایک بات طے ہے کہ ہر سال سے اس سال مویشی منڈیوں میں انتہائی رش ہے اور ایک میلہ کا سماں لگا ہوا ہے۔

بلوچستان میں اتنے موٹے تازے جانور دیکھ کر سب بیوپاری بہت خوش ہو رہے ہیں لیکن حیرت اور خوشی کے ساتھ کچھ تشویش اور اندیشے بھی موجود ہیں۔ بلا شبہ منڈی میں آئے ہوئے جانور ہٹے کٹے ہیں مگر ان جانوروں کی جسامت فطری نہیں ہے بلکہ یہ جانور مختلف کیمیکل شدہ ادویات کے ساتھ پال پوس کے بڑے کئے جاتے ہیں جن میں سر فہرست کھاد ، گھی ، ملٹی وٹامن، کی اداویات اور انجیکشن شامل ہیں جو جانوروں کے گوشت میں اضافہ کرتے ہیں ۔ ان جانوروں کے گوشت کا ذائقہ بد مزہ ہوتاہے مگر ان جانوروں کو آپ بڑے بڑے وی وی آئی پی کلچر شدہ ماحول میں دیکھیں گے تو یہ سب جائز نظر آئے گا۔بیوپاریوں کا کہنا ہے کہ جو لوگ شوبازی پر یقین رکھتے ہیں ان کا اصرار ہوتا ہے کہ وہ ان کے لئے موٹا تازہ جانور لیکر آئیں۔

اس میں واقعی کوئی مبالغہ بھی نہیں۔ صحت مند و خوبصورت جانوروں کی قربانی کئے جانے کا منظر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ کئی لوگ محلے میں آ پہنچتے ہیں اور ان مناظر کو کیمرہ میں قید کرنے میں لگ جاتے ہیں ۔نوجوان اوربچے سیفلیاں بنانے میں لگ جاتے ہیں ، گلی محلے میں لے کر پھراتے ہیں اور گلی کے دیگر بکروں کے ساتھ برابری کرتے ہیں ۔ ان کی عید ایسے رویوں پر مبنی ہوتی ہے۔نہ جانے ہم کب عید قربان کے حقیقی فلسفہ پر اپنی جھوٹی نمائش کو قربان کریں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -