شعلہ بار سوال’’ مجھے کیوں نکالا گیا؟‘‘

شعلہ بار سوال’’ مجھے کیوں نکالا گیا؟‘‘
شعلہ بار سوال’’ مجھے کیوں نکالا گیا؟‘‘

  



نااہلی کے فیصلے کے بعد اٹھایا گیا طوفان بڑی حد تک تھم چکا ۔ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی چہار روزہ تکرار پر بھی شہر خموشاں کے سائے دراز ہو چکے۔ بلٹ پروف کنٹینر کے اندر یا بلٹ پروف ڈائس کے پیچھے سے کی گئی شعلہ بار تقاریر سے برانگیختہ جذبات پر منوں اوس پڑ چکی ۔ ان بلٹ پروف اشیاء سے دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے تمسخر بھری فضا میں تحلیل ہو چکے ۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے معزز جج صاحبان پر کئے گئے براہِ راست اور بالواسطہ تابڑ توڑ حملے اپنے ہی چہرے کو مزید داغ دار کر گئے۔ اپنے ہی قول و فعل کے تضادات کو اجاگر کر گئے۔ پچھلے دورِ حکومت میں ایسے ہی مواقع پر دیئے گئے بیانات کی صدائے باز گشت نے عدالتِ عظمیٰ کے متفقہ فیصلہ نااہلی پر انتہائی ناروا شدید ریمارکس کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا۔ کل یوسف رضا گیلانی پر بہت ہی کم تر ’’جرم‘‘ (عدالتِ عظمیٰ کے حکم پرسوئٹرز لینڈ کی حکومت کو خط نہ لکھنے) کی پاداش میں سنائی گئی معمولی سی سزا پر منصب چھوڑنے کے مطالبے کو بتکرار دہرانے والے کو آج یہ یاد نہ رہا کہ اس کے بارے میں فیصلہ اسی عدلیہ کے معزز ججوں نے ہی کیا ہے۔ اس لئے یہ کہنے کا تو سرے سے کوئی جواز ہی نہیں بنتا کہ پانچ ججوں نے بیس کروڑ افراد کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ کیا ججز کے فیصلوں کی اساس تعداد ہوا کرتی ہے یا آئین و قانون کی رو سے حقائق و شواہد ؟ کیا دنیا میں کبھی کسی جج نے کسی مقدمہ میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ملزم کے مداحین و متبعین اور ووٹرز کی تعداد کوگِنا اور پھر اس کے مطابق فیصلہ رقم کر وایا؟ اگر فیصلوں کی اساس یہی مان لی جائے تو پھر ہر جیل میں مقید فرد کو اس کے حلقے ، علاقے اور بستی میں بھیج کر اس کے بارے میں اہلِ علاقہ کی رائے لے کر اس کی بنیاد پرفیصلہ کر دینا چاہیے۔ تب نہ حقائق جاننے کی ضرورت رہے گی، نہ شواہد طلب کرنے اور کھنگالنے کا دردِ سر مول لینا پڑے گا، نہ گواہوں کی طلبی ہو گی ، نہ شہادتوں کا جھنجٹ، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر، عدالتوں کی ضرورت کہاں باقی رہے گی؟ اس لئے پورے نظامِ عدل کا بوریا بستر گول کر دیا جائے اور انصاف کا جمہوری نظام رائج کرتے ہوئے ہر قاتل، ہر لٹیرے، ہر ڈاکو ، ہر چور اچکے ، ہر بدمعاش، ہر خونی درندے ، ہر جنسی بھیڑیے، بدعنوانی کے ہر مرتکب ، ہر ظالم، ہر فراڈیئے، ہر جعل ساز، ہررسہ گیراور کسی بھی جرم کا ارتکاب کرنے والے ہر فرد کو عوامی عدالت میں پیش کر دیا جائے اور پھر وہاں سے کئے گئے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے اسے ہی حتمی و قطعی مان لیا جائے۔ ویسے اگر جمہوری انصاف کو ہی مان لیا جائے تو بھی شکست کو ہی آپ کا مقدر بننا چاہیے ، اس لئے کہ بیس کروڑ عوام کی اکثریت نے تو آپ کے حق میں فیصلہ نہیں دیا۔ اہل ووٹرزمیں سے بھی محض ایک کروڑ سے زائد افراد نے آپ کے حق میں اپنے اصلی اور جعلی حق رائے دہی کو استعمال کیا۔ اس اعتبار سے تو آپ تو چھوٹی سی اقلیت کے ووٹوں کے حق دار قرار پائے۔ اکثریت نے تو آپ کی مخالفت میں دوسری جماعتوں کو ووٹ ڈالا۔ ایسے میں تو آپ جمہوری عدالت میں بھی شکست سے دوچار ہوئے۔

جرائم کا فیصلہ قانونی عدالتوں کی بجائے عوامی عدالتوں سے کروانے کا نعرہ ملک کو بدترین انارکی سے دوچار کر دے گا۔ اسے اگر عملی شکل دے دی گئی تو کوئی بھی فرد آئین اور قانون کی رو سے معرضِ وجود میں آنے والی عدالتوں کو تسلیم نہیں کرے گا، ان کے فیصلوں کو یکسر مستر دکرے گا اور سڑکوں پر ایک ہجوم کو اکٹھا کرکے پورے نظام کو تلپٹ کر دے گا۔

ہمارے لئے یہ دلیل قطعاً ناقابلِ فہم ہے کہ عوام کے منتخب لیڈر کو آئینی اور قانونی طور پر کسی بھی چلائے گئے مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر گھر بھیجنا جمہوریت یا عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ حیرانی اس امر کی ہے کہ آپ کی کرپشن، آپ کی بدعنوانیوں،آپ کی مالی بے ضابطگیوں،آپ کی لوٹ کھسوٹ، کک بیکس سے حاصل کردہ آپ کی دولت کے انبار،آپ کی منی لانڈرنگ سے تو عوام کے مینڈیٹ کی توہین نہ ہو، لیکن ایسے اَن گنت جرائم میں سے کسی ایک کے ارتکاب پر آپ کو آئینی ادارے کی طرف سے سزا سنادی جائے تو اس سے عوامی مینڈیٹ کی توہین ہو جائے؟ کیا کسی بھی مذہب، کسی بھی ملک کے قانون اور کسی بھی ضابطے کے تحت ایوان ہائے اقتدار میں رہتے ہوئے یا اس سے باہر کسی جرم کے ارتکاب کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟ اس سے صرفِ نظر کی جا سکتی ہے؟ کیا عوام اپنے ووٹ کے ذریعے آپ کو ان سب جرائم یا ان میں سے کسی ایک کے ارتکاب کی اجازت دیتے ہیں؟ کیا آپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ان سب جرائم کی اجازت طلب کرتے ہیں؟ ان کے ارتکاب کا مینڈیٹ مانگتے ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے، اور یقیناًنہیں ہے، تو پھر انکوائریز پر، مقدمات چلانے پر اور عدالتوں کی جانب سے ان کے فیصلے سنانے پر اعتراض کیوں؟ اس کے خلاف واویلا کیوں؟ اس پر ججوں کو مطعون کرنے کا خوف ناک تسلسل کیوں؟ پورے نظامِ عدل کو منہدم کرنے کی سازشیں کیوں؟

کیا آپ اس امر کو فراموش کر چکے کہ یہی عدالتِ عظمیٰ ماضی میں ایک دفعہ آپ کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دے کر آپ کو بحال بھی کر چکی ہے؟ اگر تب آپ نے وہ فیصلہ ، جو آپ کے حق میں آیا تھا، تسلیم کرنے سے انکار نہیں کیا تو آج اپنے خلاف آئے ہوئے فیصلے پر شور و غوغا کیوں؟ اس فیصلے کے بعد آپ کو تو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے تھا، بلکہ شائد اس کے اعلان سے پہلے ہی۔ آپ کو یہ جان اور مان لینا چاہیے تھا کہ آپ پر لگائے گئے الزامات کے دفاع میں آپ کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک سال سے زائد کی طویل مدت کے دوران آپ شائد اپنے مقلدین ومتبعین کو تو قائل کر پائے ہوں ، لیکن آپ عدالت کو مطمئن کرسکے اور نہ ہی غیر جانب دار عوام کو ۔ آپ کے دامن پر لگے ہوئے دھبے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گہرے ہوتے چلے گئے ، اور لگتا یہی ہے کہ آنے والے دنوں میں پورے کا پورا دامن ہی تہہ در تہہ داغوں سے لبریز ہوگا۔

پھر یہ بھی ضرور سوچنا چاہیے کہ عوام کے جس مینڈیٹ کی توہین کا رونا رویا جاتا ہے ، ووٹ کے جس تقدس کی پامالی کا نوحہ پڑھا جاتا ہے ، وہ اس وقت کیوں زبان پر نہیں آتا ، جب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے اسمبلیوں کا رخ نہیں کرتے ، وہاں جا کر ان کے مسائل پر لب کشائی نہیں کرتے ، ان کے لئے کی جانے والی قانون سازی میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے؟ کیا آپ نے کبھی وہ شرم ناک اعدادو شمار پڑھنے کی زحمت گوارا کی جو اسمبلیوں میں عوامی نمائندوں کی حاضری اور وہاں بولنے والوں کی فی صد تعداد کے بارے میں ہر پارلیمانی سال کے اختتام پر میڈیاکی زینت بنتے ہیں۔ اگر ان اعدادو شمار سے عوام کے مینڈیٹ کی توہین نہیں ہوتی تو یقین جانئے کسی بھی طرف سے کئے گئے کسی بھی ایکشن سے اس مینڈیٹ کی توہین ہو ہی نہیں سکتی۔ ہماری پارلیمانی تاریخ کا یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ اکثر وبیشتر اسمبلیوں میں کورم ہی پورا نہیں ہوتا ۔ اور اگر کوئی کورم کی کمی کی نشان دہی کردے تو اسے ناپسندیدہ ہی نہیں، انتہائی قابل اعتراض عمل گردانا جاتا ہے ۔ سرکاری بنچوں کی جانب سے بسا اوقات ان لوگوں پر شدید تنقید کی جاتی ہے جو کورم کی نشان دہی کرتے ہیں اور ان کے اس اقدام کو قانون سازی کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔

قانون سازی کا طریق کار اس سے بھی زیادہ افسوس ناک ہوتا ہے ۔ قانون منظور کرنے والوں کی اکثریت کو یہ تک علم نہیں ہوتا کہ وہ جس مسودے کو قانون کی شکل دینے جارہے ہیں اس میں لکھا کیا ہے ، حتیٰ کہ خواتین کے لئے بنائے گئے قانون کے بارے میں خواتین ارکان اسمبلی کو اس کامقصد تک معلوم نہ تھا ، مندرجات کا علم تو بہت دور کی بات ہے۔

اگر قانون ساز اداروں میں پہنچنے والے عوامی مینڈیٹ کے حامل لوگوں کے ان رویوں سے ووٹ کی پرچی کا نام نہاد تقدس مجروح نہیں ہوتا ، اگر ان سے عوامی مینڈیٹ کی توہین نہیں ہوتی تو پھر ایک عدالتی فیصلے کو عوامی مینڈیٹ کا توہین قرار دینے والوں کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

آپ چار برسوں میں چند مرتبہ سے زائد قومی اسمبلی میں نہ جائیں ، سینٹ میں اسی مدت کے دوران آپ صرف ایک بار قدم رنجہ فرمائیں اور پھر شکوہ کریں کہ دوسرے ادارے پارلیمنٹ کے تقدس کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتے ، توجواباً ان سے یہی کہا جائے گا ؂

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

اگر آپ اپنے رویوں میں اصلاح کریں گے ، اپنے طرزِ حکم رانی کو بہتر بنائیں گے ، اپنے ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دیں گے ، اپنی اکانومی بہتر بنانے میں جتے رہنے کی بجائے ملک کی اکانومی کو مضبوط تر کرنے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیں گے ۔ اداروں اور ان میں موجود افراد کو اپنا ذاتی ملازم اور وفادار بنانے اور بنائے رکھنے کی پالیسی سے گریزاں ہوں گے ، ہر معاملے میں عدل انصاف کی فرماں روائی کو یقینی بنائیں گے، قوم اور ملک سے ہر دم لیتے رہنے کا وطیرہ اختیار کئے رکھنے کی بجائے ان کو کچھ دینے کو اپنی فطرت بنالیں گے ، اپنے بیہودہ نظریات کو ملک وقوم پر ٹھونسنے کی بجائے ملک کے نظریے کی ترویج کو اپنا روز مرہ بنا پائیں گے اور لٹیروں ، ڈاکوؤں اور ظالموں کو کیفر کردا ر تک پہنچانے کو اپنا مشن قرار دے لیں گے تو یقین جانئے آپ کو کسی بھی طرف سے اپنی ، اپنے ادارے اور اپنے عوام کے ووٹ کی توہین پر مبنی کوئی اقدام ہوتا دکھلائی نہیں دے گا۔۔۔ لیکن اگر اس سب کچھ کے باوجود آپ غلط راہوں کے راہی بنے رہیں گے ، اپنی اصلاح کی بجائے آئین کی اصلاح کا عمل شروع کردیں گے تو آپ کا نصیبا آپ کا اپنا ہی یہ جملہ بن جائے گا: ’’مجھے کیوں رسوا کرکے نکالا ‘‘؟ آئین سے 63-62 کی شقوں کو نکالنے یا ان میں تبدیلی کے لئے آپ کی کوششیں آپ کو مزید رسوا کریں گی۔ اگر آپ کو یہ پسند نہیں کہ عوامی نمائندگی پر فائز ہونے والوں پر سچے اور امانت دار ہونے کی قدغن عائد کی جائے تو پھر ان کی جگہ پر یہ شق آئین کا حصہ بنا دیجئے کہ

’’ اس ملک میں حق نمائندگی اور حق اقتدار صرف ان لوگوں کو حاصل ہوگا جو کرپٹ ، بدعنوان ، لٹیرے ، ڈاکو اور ظالم و جابر ہوں۔‘‘

اور تب دنیا ہی نہیں آخرت کی رسوائی سے بھی آپ بچ نہیں پائیں گے۔

اب یہ جرأت مندانہ فیصلہ کر گزریئے

ٹرمپ ایک بار پھر بولا اور کچھ زیادہ ہی کھل کر بولا۔ا س نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کردی اور ساتھ ہی دھمکیوں کو بھی دوآتشہ کردیا ۔ اس نے اربوں ڈالر دینے کا احسان بھی جتلایا اور وہ بھی نہایت بھونڈے انداز میں۔ کیا اس کے حواریوں میں سے کوئی بھی اسے یہ بتلانے والا نہیں تھا کہ پاکستان نے ’’قومی مجرم‘‘ کے دور میں اس کا اتحادی بن کر اس کے اربوں ڈالر سے سینکڑوں گنا زیادہ اپنا مالی نقصان کیا ہے؟ کوئی اسے یہ باور کرانے والا کوئی نہیں کہ اس کا ساتھ دینے کے نتیجے میں 70ہزار سے زائد پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں ۔ کیا امریکہ کے دیئے ہوئے اربوں ڈالر ان میں سے ایک بھی فرد کی زندگی کولوٹا سکتے ہیں؟

ٹرمپ نے پاکستان کو آڑے ہاتھوں لیا ، اس پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ، دوسری جانب ہمارے ازلی وابدی دشمن بھارت کی تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے ۔ کیا اس سب کچھ کے بعد بھی ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر ایمان نہ لا پائیں گے کہ:

’’یہود ونصاریٰ اس وقت تک آپ سے خوش نہیں ہو پائیں گے ، جب تک آپ ان کی ملت کے پیرو کار نہیں بن جائیں گے‘‘

ہمیں اب اس حقیقت کا ادراک کر لینا چاہیے کہ امریکہ کبھی بھی ہمارا دوست نہیں ہوسکتا ، وہ نہ صرف ہم سے دشمنی کا وطیرہ اختیار کئے رکھے گا بلکہ ہمارے دشمنوں کو ہمارے خلاف اپنا آلہ کار بناتا رہے گا۔

جہاں تک ٹرمپ کے اربوں ڈالر دینے کے طعنے کا تعلق ہے ، ہماری عسکری و سیاسی قیادت اور عوام کو یہ فیصلہ کرلینا چاہیے کہ اب ہمیں اپنی زندگی امریکی امداد کے بغیر گزارنا ہوگی ، اور یہ امداد ہے بھی کیا؟ یہ تو ایک لعنت ہے جس کے باعث ہمارا ملک بدامنی کا شکار ہے ، یہاں ہر سو لاشے تڑپتے ہیں اور جو ہماری معیشت کے لئے ضرب کاری کی حیثیت رکھتی ہے ، عسکری قیادت پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اسے پوری جرأت و پامردی کے ساتھ کو لیشن سپورٹ فنڈز سے ملنے والے ڈالرز کو پائے حقارت سے ٹھکرا دینا چاہیے ۔ سیاسی قیادت اور عوام کو بھی ان ناپاک ڈالرز کے بغیر جینے کی خو اپنا لینی چاہیے ۔ جس روز ہم نے امریکی ڈالر ، امریکی حکم رانوں کے منہ پر دے مارے ، وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا ہمارا روزِ اول ہوگا ، اور پھر اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے ہم ترقی واستحکام کی منزل کی طرف بڑھتے چلے جائیں گے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں یہ فیصلہ کرنے کی ہمت، حوصلہ او رتوفیق عطا فرمائیں اور درست سمت میں ہمیں اپنی

راہ نمائی سے نوازیں۔ آمین۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ