امریکہ کیا چاہتا ہے؟

امریکہ کیا چاہتا ہے؟
امریکہ کیا چاہتا ہے؟

  



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہی کیا ہے جو اس کے ملک کے مفاد میں ہے،اس نے پاکستانیوں کے منہ میں گاجر دے کر پشت پر چھڑی ماری ہے،یہ چھڑی ان کیلئے بھی ہے جنہوں نے روس کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور یہ ان کیلئے بھی ہے جنہوں نے بل کلنٹن کے ساتھ پیارکی پینگیں بڑھائیں،یہ ان کیلئے بھی ہے جن کی پتلونیں ”ہمارے ساتھ ہویا ہمارے خلاف“کی دھمکی پر گیلی ہوگئی تھیں۔

پاکستان اور امریکہ کا تعلق اس ساس اوربہو جیسا ہے جس میں بہو جتنے مرضی جتن کرلے ساس خوش نہیں ہوتی،بہو اپنے گھر کیلئے تارے بھی توڑ لائے تو سا س کہتی ہے کہ ”آپ نے کیا ہی کیا ہے“۔ایسے ہی پاکستان نے امریکہ کیلئے ستر ہزار کے قریب اپنے شہریوں کی جانیں قربان کردیں،اپنے علاقوں کو میدان جنگ بنایا،اپنی معیشت تباہ کی،پونے دو سوکھرب روپے کا نقصان اٹھایا پھر بھی امریکی ساس کہتی ہے ڈو مور،ڈو مور۔دراصل یہ ساس اپنے بچے افغانستان کو ٹھیک کرنے میں ناکام ہوچکی ہے،اس ناکامی کا سارا الزام بہو پر ڈال کر اپنا دامن بچانا چاہتی ہے بہو ہے کہ ڈھیلے ڈھالے بیانات کا سہار ا لے کر ہی جان چھڑانا چاہتی ہے۔

ویسے تو امریکہ اور پاکستان کے قریبی تعلقات کی تاریخ پاکستان کے قیام میں آنے سے ہی شروع ہو جاتی ہے تاہم حالیہ تناظر میں پاکستان اور امریکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی ہیں،اس عرصے میں اس رشتے میں کئی اتار چڑھاو¿ آئے، افغانستان سے سویت یونین کے انخلا اور 1998 میں پاکستان کے جوہری تجربوں کے بعد پاکستان امریکہ تعلقات میں جو تعطل آیا تھا وہ افغانستان پر 2001 میں امریکی حملے کے بعد بحال ہو گیا تھا،تاہم اس رشتے میں تناو¿ اور بے اعتباری برقرار رہی، تعلقات کا بدترین مرحلہ 2011 میں اس وقت شروع ہوا جب لاہور میں سی آئی اے کی ایک ٹھیکے دار کمپنی کے ملازم ریمنڈ ڈیوس نے ایک پاکستانی خفیہ ایجنسی کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ سلالہ چوکی پر نیٹو افواج کا حملہ، اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد میں پکڑے جانا، نیٹو رسد کی معطلی اور شمسی ایئر بیس خالی کرایا جانا سب ایک دوسرے پر کیے گئے واروں کی کڑیاں ہیںاور پھر ایک معاملہ میمو گیٹ کا بھی سامنے آیا،نواز شریف کی حکومت میں بھی ”ہاں“اور ”ناں“جیسی صورتحال برقرار رہی،دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کی وجہ پاکستان کا چین سے معاشی معاہدہ اور روس سے تعلقات میں بہتری ہے،امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے بھارت کو خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے،اس کو خوش کرنے کیلئے پہلے سید صلاح الدین پھر ان کی تنظیم حزب المجاہدین پر پابندی لگادی جو پاکستان سمیت دوسری عالمی قوتوں کوبھی ناگوار گزری،اب کی ٹرمپ کی دھمکیوں پر دونوں ممالک نے پاکستان کے حق میں بہتر جواب دیے ،دونوں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں،دونوں ممالک نے امریکہ ”دبنگ“انداز میں تنبیہ بھی کی ہے۔

اگر دیکھا جائے پاکستان کو انسانی ہمدردی کا فائدہ کیا ہوا،جواب صفر ہی ملے گا،حال ہی میں اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یوا ین ایچ سی آر نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تین دہائیاں پاکستان میں رہنے والے 14لاکھ 50ہزار پناہ گزین جن میں سے بیشتر افغانی ہیں، دشمن کے ہاتھوں کھلونا بن کرپاک سرزمین کے خلاف کھیل رہے ہیں،یہ افغان باشندے پاکستان کے جغرافیائی، سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ سے اچھی طرح واقف ہیں اور افغان سکیورٹی اداروں اور انٹیلی جنس کو مدد فراہم کرتے ہیں، افغانستان میں افغان باشندوں کی واپسی کے بعد نہ صرف افغانستان کی داخلی صورتحال سنگین حد تک خراب ہوئی ہے بلکہ خطے میں بھی اس کے اثرات واضح نظر آرہے ہیں، بین الاقوامی قوتیں افغانستان کے حوالہ سے پاکستان کا ناطقہ بند کرنے کی کوششیںکررہی ہیں، اس سلسلے میں افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جارہا ہے، ان کارروائیوں کی منصوبہ بند ی بھارت سے کی جاتی ہے اور افغان مہاجرین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ بیرونی قوتیں انہیں لالچ دیکر پاکستان کے خلاف کاروائیاں کرنے میں استعمال کررہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی اعلان میں پاکستان کے لئے کیا دھمکیاں اور خطرات پوشیدہ ہیں؟ یہ وہی خطرات ہیں جن کی جانب سابق وزیر داخلہ چودھری نثار نے اپنی آخری پریس کانفرنس میں اشارہ کیا تھا،میڈیا رپورٹس کے مطابق ایسی مستند معلومات موجود ہیں جن کے مطابق پاکستان کو دہشت گردوں کی کفیل ریاست قرار دے کر افغان جنگ کو پاکستان کے سرحدی علاقوں تک توسیع دی جائے اور فاٹا سے لے کر بلوچستان کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی موجودگی کی آڑ لے کر بعض مقامات پر فضائی حملے کئے جائیں، ان منصوبہ سازوں کی خوش فہمی ہے کہ ایسی کوئی بھی کارروائی، افغانستان میں امریکہ کے طویل فوجی مشن کی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر کامیابی کا تاثر دے گی اور افغانستان کے اندر امریکہ کی جنگ کو مزید طول دینے کے اسباب پیدا ہوں گے، امریکہ کے علاوہ برطانیہ اور بھارت بھی اس مذکورہ مجوزہ منصوبہ کے اہم شراکت دار ہیں لیکن سردست، بھوٹان اور سکم سے متصل ڈوکلام کے علاقہ میں چین کے ساتھ سینگ پھنسانے کے بعد بھارت اس منصوبہ کے تحت مشرقی سرحد سے پاکستان پردباﺅ بڑھانے کی پوزیشن میں نہیں رہا، ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی بیان کے بعد ایک بات واضح ہو گئی ہے کہ افغانستان میں جنگ کے نئے مرحلہ کا آغاز کیا جارہا ہے اور ٹرمپ، افغانستان سے انخلا اور اس جنگ سے لاتعلقی کا وعدہ پورا نہیں کر پائے۔ الٹا جنگجو جرنیلوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔ افغان جنگ کو پاکستان کے اندر وسعت دینے کے معاملہ پر ذمہ دار حلقوں کا کہناہے کہ پاکستان تر نوالہ نہیں اور کسی قیمت پر اپنی زمینی اور فضائی سرحدوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کے عزم کو منصوبہ ساز ملکوں پر واضح کر دیا گیا ہے۔

امریکی اپنا کھیل کھیل رہے ہیں تو انہیں کھیلنے دیں،ہمیں اپنا کھیل اچھے انداز میں کھیلنا چاہیے،اپنا مضبوط جواب دینا چاہیے،چین اور روس کے کسی معاملے پر اکٹھے ہونے سے امریکہ کی ہمیشہ رسوائی ہوئی ہے اب کی بار بھی رسوائی ہوگی۔

...

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ