نئی حکومت کا ہنی مون!

نئی حکومت کا ہنی مون!
نئی حکومت کا ہنی مون!

  

حکومت کے پہلے سودن ہنی مون کے دن ہیں،اس لئے ہم انہیں تعریف کے کچھ پھول پیش کریں گے مگر کچھ کھٹی میٹھی باتیں بھی ہونی چاہئیں۔

پہلے وزیر اعظم عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب کی بات ؛ بہت دل آویز،ہر پاکستانی کے دل کی آواز’گویا یہ بھی میرے دل میں تھا ،کی تصویر۔ ایسے لگا کہ قائد اعظم کے بعد رہبر ترقی و کمال مل گیاہے،منزل مراد قریب ہے،جس کے بعد ہمارا پرچم ستارہ و ہلال نشانِ عزم عالی شان بنے گا اورپاک سرزمین شاد بادہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان کا خطاب آئیڈیلزم سے بھرپور تھا،انہوں نے ملک کو درپیش تقریباََ تمام مسائل حل کرنے کا عزم کیا، قوم کو ایساخواب دکھایا جس پر ہر پاکستانی جھوم اٹھا ۔

وزیر اعظم نے قرضوں کو ملک کاسب سے بڑا مسئلہ قرار دیااور اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ ماضی کے حکمرانوں کو در بدر جاکرقرضہ مانگنے پر شرمندگی کیوں نہیں ہوتی تھی ۔

غربت کی لکیر سے نیچے رینگتے دس کروڑ سے زائد پاکستانیوں کی حالت پر ان کا کرب عیاں تھا؛ غذائی قلت اورصاف پانی نہ ملنے کی وجہ سے لاکھوں بچے پانچ سال کی عمر کو پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں، سوا دوکروڑ بچے سکول جانے کی بجائے گلیوں میں رُل رہے ہیں ۔

ماضی کے حکمران دنیا بھر سے ذلت آمیز شرائط پر قرضے مانگ کر بھی بھوک سے کراہتے ہم وطنوں پر خرچ نہیں کرتے تھے بلکہ بادشاہوں کی طرح خود پر خرچ کرتے ،بڑے بڑے محلوں میں رہتے جہاں سینکڑوں ملازم کام کرتے۔

وزیراعظم خان نے نبئ مہربانﷺ کو اپنا آئیڈیل قرار دیا جنؐ کے اصولوں کی پیروی کرکے مغرب ترقی یافتہ بن گیا ہے۔عمران خان نے اپنی حکومت کے لئے تین اصولوں بطور خاص اپنانے کاا علان کیا ۔ قانون کی بالادستی ہوگی ،امیر غریب سب برابر کے شہری ہیں،ملک میں بسنے والے سارے شہریوں حتیٰ کہ جانوروں کی بھی ریاست ذمہ دار ہے۔جو جتنا امیر ہے ،اتنا ہی ٹیکس دے گا ۔

میں خود ٹیکس کے پیسے کی حفاظت کروں گا اور ہر سطح پر احتساب کا نظام بنایا جائے گا۔

ریاست جن مفلوک الحال لوگوں کو نظر انداز کرتی رہی ہے ، اب ان محروم طبقات کو زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کریں گے۔ ان کی حکومت کا تیسرااصول ،سول سروس میں سیاسی مداخلت نہیں کریں گے ، اسے خدمت کا پابند بنائیں گے ،اس میں سزا جزا کا نظام لائیں گے۔ وزیراعظم کا ان کا ایجنڈا طویل تر ہوتا گیا ؛ اوورسیز پاکستانیوں سے مشکل وقت میں ملک میں سرمایہ کاری کی اپیل،مدرسوں میں چوبیس لاکھ سٹوڈنٹس کوپروفیشنل تعلیم دینے ، سیاحت کو فروغ ، پچاس لاکھ گھر بنانے اور نوجوانوں کے لئے بہت کچھ کرنے کا بھی عزم کیا۔

ایسے خطاب کی توقع تو کسی انقلابی رہنما سے کی جاسکتی تھی، جس نے سابق حکمران اشرافیہ کوگھسیٹ کر اقتدار سے نکالا ہو،مگر خان نے حکومت سنبھالنے کے بعد کہا ہے تو پھر کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔وزیر اعظم کی سادگی کے اعلانات، بلکہ ابتدائی اقدامات بڑے دل کشا ہیں ۔ خان نے بادشاہوں کے انداز کو بڑی بہادری سے جھٹک دیا ہے ۔نامزد صدارتی امیدوار عارف علوی نے بھی ایوان صدر کی بجائے پارلیمنٹ لاجز میں رہنے کااعلان کیا ہے،اسی طرح باقی وزراء اوربڑے بیوروکریٹس کے اخراجات میں بھی کمی لائی جائے تو اچھا آغاز ثابت ہوسکتا ہے۔

اگر سادگی کی یہ مہم حکومت کی نچلی سطح تک آئے تو ملک کا اربوں روپیہ بچے گا۔حکمرانوں کی سادگی دیکھ کر ان کی نقل کرنے والادرباری طبقہ بھی سامان تعیش کی نمائش میں کمی کرے گا، جس سے معاشرے میں نمود و نمائش کے بے رحمانہ رحجان کی حوصلہ شکنی ہوسکتی اور بے وسیلہ لوگوں کی اذیت میں کچھ کمی۔

وزیراعظم کے خطاب میں سچی خواہش تو نظر آئی،لیکن ٹھوس منصوبہ بندی اور واضح روڈ میپ کی جھلک دکھائی نہیں دی ۔ اداروں میں اصلاحات کا عمل تو تب شروع ہوگا جب ٹاسک فورسز اور مشیر اپنی رپورٹ پیش کریں گے ۔سول سروس اصلاحات کے لئے ملک میں 38کمیشن اور کمیٹیاں بنائی گئیں اور تمام کے سربراہ سابق سینئر بیوروکریٹس بنے، مگر انگریز کا بنایا ہوا ڈیڑھ سو سال پرانا ’آہنی ڈھانچہ، نہیں ٹوٹ سکا۔ اس نو آبادیاتی ورثہ کے اندر احتساب کا کوئی نظام ہی نہیں تو کارکردگی کیسے آتی؟ اپنے آفیسر سے وفاداری اور بالائی احکامات پر ’یس سر، کرکے رپورٹ کر دینا ،بہترین کارکردگی ہے۔

اس اسٹیل سٹرکچر کو تبدیل کرنا،ہمالیہ سر کرنا ہے۔ اب پھرایک سابق سپر بیوروکریٹ ڈاکٹر عشرت حسین کو سول سروس میں اصلاحات کا مشن سونپا گیا ہے، وزیر اعظم شائد ان کی کتاب ’’Governing the Ungovernable،، سے متاثر ہیں۔ دیکھیں گے کہ ڈاکٹر صاحب جو خود ڈی ایم جی گروپ میں رہے ہیں ،اپنے ادارے میں کیسی اصلاحات لاتے ہیں۔شفافیت کا تقاضہ ہے کہ افسران کی تنخواہوں ،مراعات ،صوابدیدی فنڈزاور ان کااستعمال سب کچھ ویب سائٹ پر موجود ہو ۔ شفافیت اور احتساب کے ذریعے نئے پاکستان کی طرف سفر شروع ہوسکتا ہے ۔شفافیت کے لئے معلومات تک رسائی کا موثر نظام، پہلاقدم ہو گا۔

سوائے سیکیورٹی معاملات کے ،سرکارکی کوئی کارروائی عوام سے خفیہ نہیں ہونی چاہیے۔ سرکاری محکموں کی خریداری ، ٹھیکوں حتیٰ کے میٹینگز کی تفصیلات ویب سائٹ پر موجود ہوں توباقی کام آزاد میڈیاکرلے گا ۔

افسران کی کارکردگی جانچنے کے لئے پنجاب انفارمیشن کمیشن نے ’’ سیٹیزن فیڈ بیک سسٹم ،،وضع کرکے بڑا قابل قدر کام کیا ہے موجود ہ حکومت کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے ،محض سیاسی مخالفت میں ری سیٹ کا بٹن دبانادانشمندی نہیں ہوگی ۔

وزیر اعظم نے تو اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے کہ میں یہ کرنا چاہتا ہوں ،ہر پاکستانی بھی یہ چاہتا ہے کہ ایسا ہی ہومگر سالہاسال کا پھٹیچر سرکاری سسٹم، ہر سیٹ پر بیٹھی جونکیں اور وسائل کو بھنبھوڑتے مافیا بھرپور مزاحمت کریں گے۔اس مزاحمت کا توڑ کرنے کے لئے وزیر اعظم کو مضبوط ،متحرک اور دیانت دار ٹیم چاہئے ،غلط لوگوں کا انتخاب ناکامی کی بنیاد بن سکتا ہے ۔کابینہ کی تشکیل کو دیکھیں تو اس میں میرٹ کے ساتھ سیاسی کمپرومائز کی بھی جھلک نمایاں دکھائی دیتی ہے۔

وزارت خزانہ کے لئے اسدعمرسے بہتر کوئی چوائس نہیں تھی،شفقت محمود، ڈاکٹرشیریں مزاری باصلاحیت لوگ ہیں ۔ڈاکٹر شیریں مزاری دفاع اور سیکورٹی امور کی ماہر ہیں، انسٹیٹیوٹ آف ڈیفنس اینڈ سٹرٹیجک سٹڈیز کی سربراہ رہی ہیں، لیکن انہیں دفاع کی بجائے انسانی حقوق کا قلمدان دیا گیا ہے۔ زبیدہ جلال کا انتخاب اجلے امیج کوگدلا کرنے کے لئے کافی ہے۔

ان کا نام ’توانا پاکستان‘ کے سکینڈل میں نمایاں تھا۔ بچوں میں جس غذائی قلت کے بارے وزیراعظم نے بڑی تفصیل سے سمجھایا ،اسے دور کرنے کے لئے عالمی ادارے غریبوں کے بچوں کے لئے فنڈز دیتے ،اس پراجیکٹ کو، توانا پاکستان، کا نام دیا گیا تھا، مگر زبیدہ آپاجی نے وہ فنڈز خود کو توانا بنانے میں لگا دئیے۔زبیدہ جلال جنرل مشرف کی کابینہ میں بھی تھیں، اب بھی شائد مقتدر حلقوں سے قریبی تعلق کی وجہ سے دوبارہ حکومت میں آبیٹھی ہیں۔

ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم کی وزارت ان کی قابلیت اور تجربے کے مطابق دی گئی ہے،وزیر نامزد ہونے سے پہلے وہ سنگین بغاوت کیس میں سابق صدر جنرل مشرف کے وکیل تھے ۔سابق سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کو بین الصوبائی رابطہ کی وزارت دی گئی ہے ،حالانکہ ان کے شوہر ذوالفقار مرزاکی وجہ سے سندھ حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

وزارت داخلہ عمران خان نے اپنے پاس رکھی ہے، اس میں ایف آئی اے سے جو کام وہ کروانا چاہتے ہیں ، وہ اس نے کبھی کیا نہیں ہے، اس میں بیٹھے مگر مچھوں نے اپنی اپنی شکار گاہیں بنا رکھی ہیں ۔

منی لانڈرنگ، کرنسی سمگلنگ،ہیومین سمگلنگ ،سب کچھ ان کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ کوئی مافیا حکومت سے زیادہ طاقتور نہیں ہوسکتا ، سربراہ حکومت فیصلہ کرلے تو کرپشن کے بڑے بڑے قلعے ریت کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔عمران خان کے آہنی عزم کے سامنے سرکار کا آہنی ڈھانچہ کس حد تک ٹھہر پائے گا، ہنی مون میں ہی اندازہ ہو جائے گا !

مزید :

رائے -کالم -