پنجابی فلمیں ہی فلمی صنعت کا بحران ختم کر سکتی ہیں

پنجابی فلمیں ہی فلمی صنعت کا بحران ختم کر سکتی ہیں
پنجابی فلمیں ہی فلمی صنعت کا بحران ختم کر سکتی ہیں

  

آج کل تو یہی کہا جا رہا ہے کہ کراچی میں بننے والی فلموں کے باعث فلمی صنعت کا بحران ختم ہونے کو ہے اور تھوڑے عرصے بعد ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوگی لیکن ایسا تو تب ہو گا جب ملک کے طول و عرض میں قائم سنیماؤں پر پاکستان کی تیار کردہ فلمیں نمائش پذیر ہوں گی۔ چھوٹے شہروں میں نئے اور پرانے سنیما جو 1970ء کی دہائی میں پورے جوبن پر تھے وہاں تو ابھی تک ویرانی کا راج ہے اور سنیما کسی بھوت بنگلے کا منظر پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یہ صرف ان سنیماؤں کی بات کی جا رہی ہے جو بحران کے نتیجے میں مسمار ہونے سے بچ گئے ہیں ورنہ سنیماؤں کی جگہ پلازے بننے سے فلم بینوں کی خوشیاں ختم ہوئے تو عرصہ گزر چکا۔

گاہے گاہے بعض پرانے فلمکاروں کی طرف سے ایک سسکتی اور دم توڑتی ہوئی آواز سنائی دیتی ہے کہ جب تک ہمارے سنیماؤں پر بھارتی فلموں کی یلغار رہے گی ملکی فلمی صنعت کی بحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس یلغار کو کیسے روکا جائے؟ کیونکہ بھارتی فلموں کو ہمارے سنیماؤں پر ریلیز کروانے والی لابی کے ہاتھ بہت لمبے اور بچی کھچی فلمی صنعت کے ہاتھ پہلے سے بھی چھوٹے ہو چکے ہیں۔جب بھی ایسی بات ہوتی ہے تو سنیما مالکان جھٹ سے ایک ہو کر یہ کہتے ہوئے نظرآتے ہیں کہ ہم خود پاکستانی فلمیں ریلیز کرنا چاہتے ہیں لیکن چونکہ فلموں کی پروڈکشن برائے نام ہے اس لئے سنیماؤں پر مجبوراً بھارتی فلموں کو ریلیز کرنا پڑتا ہے۔

لیکن یہ بات سراسر ان کے اپنے مفاد میں ہے اس میں ملکی فلمی صنعت سے ہمدردی کا کوئی عنصر نظر نہیں آتا۔ اگر ان لوگوں کو فلمی صنعت سے تھوڑی سی بھی محبت ہو تو وہ از خود فلمسازی کی طرف مائل ہو کر اس کے بحران کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

فلم میکنگ جدید ساز و سامان کے ساتھ بنانے کے بعد قدرے آسان ہو گئی ہے اب کئی ایسے انسٹرومنٹس آ چکے ہیں جن سے فلم پر اٹھنے والے اخراجات بھی قدرے کم ہوئے ہیں لیکن ان اخراجات کے حوالے سے لاہور کی فلم انڈسٹری میں کوئی ایسا فلمساز نظر نہیں آتا جو ان کو بخوشی یا انفرادی طور پر پورا کر سکے۔ اسی وجہ سے لاہور کے نگارخانے ابھی تک رنگ برنگے آنچلوں اور دل گداز قہقہوں سے محروم نظر آتے ہیں۔جو لوگ کراچی میں تیار کردہ فلموں کے حوالے سے فلمی صنعت کے بحران ختم ہونے کی نوید سنا رہے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ لاہور میں آکر فلمسازی کریں اور اردو فلموں کے ساتھ ساتھ پنجابی فلموں کو بحال کرنے پر توجہ دیں کیونکہ پاکستان میں فلم سرکٹوں کے حوالے سے پنجاب سب سے بڑا سرکٹ ہے اور ہمیشہ اسی سرکٹ سے ہونے والی آمدنی نے فلمی صنعت کو خوشحالی سے دوچار کیا ہے۔

اگر فلمی صنعت کے لوگ واقعی اس صنعت کی بحالی کے خواہاں ہیں تو ان کو چاہیے کہ اس طرح کی پلاننگ کریں جس سے پنجاب سرکٹ پھر سے زندہ ہو سکے اور فلمی صنعت کی آمدنی کا بڑا ذریعہ بن کر اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرے۔ پاکستانی فلمی صنعت کی تاریخ جو فلم ’’تیری یاد‘‘ سے شروع ہوئی تھی پر نظر دوڑائیں تو کامیابی کے تناسب سے پنجابی فلموں کی تعداد زیادہ ہے جن کی وجہ سے اس صنعت کو مشکلات کے باوجود نئی منزلوں سے بغل گیر ہونے کا موقع ملا اور پرانے لوگ جو اس صنعت کی رگ رگ سے واقف ہیں نئے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ کس طرح کرتار سنگھ، دلا بھٹی، لارے پھیرے، شہری بابو، پتن، پلکاں، پینگاں اور یکے والی نے اپنے دور میں کامیابی حاصل کی اور فلمسازوں اور سنیما مالکان کو زر و جواہر سے لاد دیا۔ یہی نہیں اس کے بعد بھی زیادہ تر پنجابی فلموں کے بزنس کی وجہ سے اس صنعت میں فلمسازی اور سنیما تعمیرات کا نیا دور شروع ہوا تھا۔

اب بھی اگر پنجابی فلموں کی طرف توجہ دی جائے اور یہی اداکار اور اداکارائیں جو نئے دور میں عوام سے پذیرائی حاصل کر چکے ہیں اور ان کی فلم بینوں میں ایک شناخت بن چکی ہے ان کو پنجابی فلموں میں کاسٹ کرکے جدید سازوسامان کے ساتھ لاہور میں نئے عزم کے ساتھ کام کا آغاز کیا جائے اور ایک بار پھر وہ رائل پارک میں اپنے تقسیم کار ادارے بنا کر کاروبار شروع کریں تو آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام کی طرح جہاں وہ خود مالا مال ہوں گے وہاں فلمی صنعت کی صحیح معنوں میں بحالی کا سہرا بھی انہی کے سر سجے گا۔

کراچی میں فلمیں بنانے والے ادارے یا انفرادی فلمساز یہ بات تو ثابت کر چکے ہیں کہ ان کے پاس سرمائے کی قلت نہیں ہے اس لئے وہ پلاننگ کے ساتھ لاہور کے اسٹوڈیوز میں ڈیرے ڈالیں اور پنجابی فلموں کا آغاز کریں ان کے لئے یہ کام ذرا سا بھی مشکل نہیں ہے کیونکہ ان کے پاس پہلے سے اچھی ساکھ اور سرمایہ کاری کے لئے رقم موجود ہے۔

ان کو لاہور کے نگارخانوں کے مالک یقینی طور پر ویلکم کرنے کے علاوہ خاطر خواہ سہولتیں بھی فراہم کریں گے۔ لاہور رائل پارک میں بیٹھ کر جب وہ پنجابی فلموں کی ریلیز کے لئے اشتہار جاری کریں گے تو ایک نئے انداز کی پذیرائی ان کا استقبال کرے گی اور کراچی سرکٹ تو پہلے ہی ان کا اپنا ہے وہاں ان کو فلم ریلیز کرنے میں کوئی پرابلم نہ ہوگا۔ دوسری صورت میں بھارتی فلمیں تو سنیماؤں پر ریلیز ہوتی رہیں گی اور ہماری فلمی صنعت دن بدن ’’تیری یاد‘‘ کی بجائے ’’ہماری یاد‘‘ بن کر رہ جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -