A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

عوام کو خود بجلی پیدا کرنے دیں

عوام کو خود بجلی پیدا کرنے دیں

Aug 26, 2018 | 02:12:AM

شاہد نذیر چودھری

عوام بلبلا رہی ہے کہ اسے فوری ریلیف چاہئے ۔وزیر اعظم عمران خان یہ دیکھ چکے ہیں کہ قوم ان کی صلاحیتوں کا فوری امتحان لینا چاہ رہی ہے۔کیسی عجیب بات ہے ،ابھی انہوں نے حلف بھی نہیں اٹھایا تھا کہ قوم نے بے صبری سے نئے پاکستان کے ثمرات حاصل کرنے کے لئے اپنا دامن پھیلا دیا تھا ۔حالانکہ حکومت کو چلنے چلانے اور خزانے کی کنجیاں لیکر حسابات وغیرہ چیک کرنے میں کچھ دن تو چاہئے ہوں گے لیکن قوم کا پیمانہ صبر چند ہی دنوں میں لبریز ہوگیا ہے ۔عوام ریاستی امور چلانے کے معاملات کی باریکیوں اور مجبوریوں کو جاننے کی بجائے صرف اپنے مسائل کی جانب دیکھ رہی ہے کہ جب انہوں نے پچیس جولائی کو عمران خان کو ووٹ دیکر کامیاب کرادیا ہے تو پھر چھبیس ستائیس جولائی تک پٹرول سستا کیوں نہیں ہوا،لوڈ شیڈنگ ختم کیوں نہیں ہوئی ،ٹرینوں کا نظام درست کیوں نہیں ،ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ہڑتالیں ختم کیوں نہیں ہوئیں،پولیس انسان کی پتر کیوں نہیں بن پائی، ابھی تک عورتیں ہسپتالوں کے برآمدوں میں بچوں کو جنم کیوں دے رہی ہیں ۔کیا یہی نیا پاکستان ہے جس کا کپتان نے خواب دکھایا تھا ۔اندازہ کیجئے، جس قوم نے ووٹ دیکر دو دنوں میں ہی عمران خان کا محاسبہ کرنا شروع کردیا ہے وہ اسکے سو دن کا کیسے انتظار کرے گی ،خدشہ ہے قوم کا پیمانہ اگلے چند ہفتوں تک لبریز نہ ہوجائے ، وہ میاں نواز شریف کے اڈیالہ جیل سے باہر آنے کے لئے دھرنا دینے پر نہ تُل جائے اور قوم خود انہیں کرپشن سے معافی کا سرٹیفکیٹ جاری نہ کردے کہ چلو وہ کھاتے تھے مگر کچھ لگاتے بھی توتھے ۔زرداری کی طرح تو نہیں تھے جو صرف کرپشن کھپے کے ماٹو پر عمل کرتے ہوئے صرف کھائے چلے جاتے تھے اور ڈکارتے بھی نہیں تھے ۔

عوام سمجح رہی ہے کہ عمران خان کے پاس  اللہ دین کا چراغ  موجود ہے اس لئے اسکا ٹمپر لوز ہورہا ہے ۔ویسے عوام فوری ریلیف مانگنے میں حق بجانب بھی ہے ۔ہر مہینے جن کا مہنگی بجلی اورمہنگے پٹرول کی وجہ سے گھر کا بجٹ تباہ ہوجائے وہ کرلائے گا نہیں تو کیا کرے گا۔تنخواہ سے زیادہ اخراجات ہوں توانہیں پورا کرنے کے لئے رشوت اور بخشیش کی طرف اسکو ہاتھ بڑھانا ہی پڑتا ہے ۔ایمان مضبوط ہو مگر اہل خانہ اسکے ساتھ بھوکے سونے پر تیار نہ ہوں تو اسکے گھر میں امن کیسے آسکتا ہے ۔وہ زمانہ تو گیا جب پندرہ سال پہلے تک متوسط لوگ پندرہ بیس ہزار روپے تنخواہ میں  بجلی پٹرول کے ساتھ گزارہ کرلیتے تھے لیکن اب ایک لاکھ تنخواہ بھی کم پڑتی ہے ۔گھر میں کھانے والے پانچ چھ افراد ہوں تو سکولوں کالجوں کی فیسیں ،خوشی غمی اور بیماری کے علاوہ گھر کے روزمرہ خرچوں کا بوجھ ایک ناتواں کماو فرد کی کمر دوہری کردیتا ہے ۔ لوگ تو اب بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پٹرول و بجلی وغیرہ سستی ہوجائیں تو گھر کے سودا سلف سمیت ہر شے کی قیمت پر واضح فرق بھی پڑے گا۔خان صاحب کو یقین ہے کہ پٹرول اور بجلی کی مصنوعی قلت و بحران اور مہنگائی کے پیچھے کرپشن مافیا موجود ہے ۔پچھلے دنوں واپڈا کے ایک سینئر  انجینئر سے ملاقات ہوئی تو اس نے انکشاف کیا کہ   ملک میں اتنی بجلی  موجود ہے جو سارا ملک روزانہ کی بنیادوں پر چلا سکتی ہے ۔لیکن بجلی کے نام پر کمائی کرنے والوں کا راج اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ اسکو پھر سے کمزور کرنے کے لئے زیادہ طاقتور اور بااختیار قیادت کی ضرورت ہے ۔ڈیم مستقبل کی ضرورت ہیں جنہیں بنانے کا عمل شروع کرنا چاہئے َ۔لیکن فوری بجلی پیدا کرنے کے لئے پاکستان کے پاس بارہ موسموں کا نظام شمسی موجود ہے ۔لیکن واپڈا خود نہِیں چاہتا کہ  عوام کو کھلے عام سستا سولر سسٹم مل جائے اور وہ واپڈا کی غلامی سے نکل جائے،ہائی لیول پر اسکی مخالفت اس لئے کی جاتی ہے کہ سولر اگر ہر گھر میں پہنچ گیا تو واپڈا کا بھٹہ  بیٹھ جائے گا ،اللے تللے ختم ہوجائِیں گے۔

سولر سسٹم کو ناکام بنانے میں واپڈا کا کتنا ہاتھ ،اس پر تحقیق کی ضرورت ہے تاہم جس طرح ملک بھر میں یو پی ایس اور جنریٹر کا کاروبار پھیلایا گیا ہے اس سے پٹرول کی طلب میں بھی اضافہ ہوا اوربجلی کی کھپت بھی بڑھی  ہے،جنریٹر اور یو پی ایس انڈسٹری کا واپڈا کے ساتھ مل کر انرجی کرائسس  بزنس پیدا کرنا  بالکل   اسی طرح ہے جس طرح نجی ٹرانسپورٹروں نے ریلوے کو چونا لگایا ہے ۔اگرحکومت چاہتی تو عوام کو سولر یو پی ایس کی طرف متوجہ کرلیتی اور سولر انرجی کے سستے آلات مہیا کرنے کی کوششیں کرتی تو یقینی طور پر ہر گھر میں سستی اور لگاتار بجلی پہنچ رہی ہوتی اور اسکا بوجھ واپڈا کو نہ سہنا پڑتا لیکن جن قوتوں نے مالی فوائد اور اجارہ داری کے لئے یو پی ایس اور جنریٹرز کی انڈسٹری سے اربوں کھربوں کمائے ہیں انہیں یہ قطعی گوارہ نہیں  کہ عوام کو سولر یو پی ایس ،سولر پنکھے،سولر گیزر وغیرہ ایسے آلات سستے مہیا کئے جائیں   ۔میں ایسے بہت سے پاکستانیوں کو جانتا ہوں جنہوں نے انڈسٹریل سطح پر سولر پلانٹس لگانے کی کوششیں کیں تو ان کے سولر پلانٹس و آلات ائرپورٹس سے ہی کلئیر نہیں ہونے دئئے گئے ۔فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اسکا تجربہ کیا جارہا تھا جو ناکام ہوا ۔اس وجہ سے نہیں کہ سولر مہنگا سسٹم ہے ،بلکہ اس وجہ سے ناکام ہوا  کہ پاکستان میں بجلی کے نام پر لوٹ مارکرنے والے مافیا نے اس سسٹم کی مخالفت کی اور راہوں کو مسدود کیا ۔عمرا ن خان کی حکومت اگر فوری طور پر اس جانب قدم اٹھائے اور چین ویورپ سے ڈومیسٹک سولر انرجی کے سستے آلات امپورٹ کرنے کی عام اجازت دے اور اسکو ٹیکس فری کردیا جائے تو دنوں میں پاکستان میں بجلی بجلی ہوجائے گی۔اس وقت پاکستان کے کئی علاقوں میں سولر ٹیوب ویلوں کے بھی کامیاب تجربات کئے جاچکے ہیں ،کسانوں کو مہنگی بجلی اور بجلی کی چوری جیسے جرائم سے بچانے کے لئے حکومت انہیں قسطوں پر سولر ٹیوب ویل لگوا کردے سکتی ہے ۔بہالپور میں قائد اعظم سولر پارک دو سو ارب روپے میں ایک سو میگا واٹ بجلی پیدا کررہا ہے،اسکو مہنگا ترین منصوبہ کہا جاتا ہے ،شاید اس لئے کہ اسکے پیچھے بھی لمبا مال کمایا گیا ہے ،لیکن پورے ملک کے ہر گھر میں سولر سسٹم  پہنچ جائے تو حکومت کو شاید کسی دوسرے سولر پارک کی ضرورت بھی محسوس نہ ہو۔

یقین کیجئے ،اگر قوم  کو سستی بجلی مل گئی تو پٹرول بھی سستا ہوجائے گا اور زندگی بہت آسان ہوجائے  گی۔بجلی کو واپڈا نامی اداروں کے چنگل سے نکال کر عوام کو خود سولر سے بجلی لینے اورپھر اس سے اضافی بجلی پیدا کرکے   سسٹم میں دینے کے نظام کی طرف قدم بڑھانا چاہئے، تاکہ ریاست کی زندگی بھی آسان ہو اور اسے ریلیف ملے۔

   ۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں