میرے ملتان سے ناانصافی کیوں؟

میرے ملتان سے ناانصافی کیوں؟
میرے ملتان سے ناانصافی کیوں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پی ٹی آئی نے جسے تیسے کر کے آخر کار وفاق اور دو صوبوں میں اپنی حکومتیں بنا لی ہیں، چاروں وزرائے اعلیٰ کا انتخاب بھی ہو چکا ہے۔البتہ پنجاب میں ابھی کچھ کام باقی ہے۔ یہاں وزیراعلیٰ کا انتخاب بھی ہو چکا ہے۔

کابینہ کے ناموں کا باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے۔ پنجاب کی کابینہ کے لیے بہت سے پرانے نام سامنے آئے ہیں۔ دو چار نئے نام بھی دیے گئے ہیں۔ یہ نئے نام وہ ہیں جنھیں پہلے وزیراعلیٰ نامزد کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں۔

ابھی تک صوبائی کابینہ کے لیے جو نام سامنے آئے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب کے تقریباً تمام اہم اضلاع کو نمائندگی دینے کی کوشش کی گئی ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ جو پارٹی انتخابات سے پہلے جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ لگا رہی تھی اس نے جنوبی پنجاب کے سب سے اہم ضلعے، ملتان کو کابینہ میں نمائندگی دینے کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔حالانکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ملتان کو شاید دوسرے اضلاع سے زیادہ نمائندگی بھی دی جا سکتی ہے۔

ملتان سے ایک نہایت سرگرم، دیانت دار اور عزم وہمت کا پیکر نوجوان محمد سلمان نعیم پی پی حلقہ217 سے پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما شاہ محمود قریشی کو شکست دے کر اسمبلی کا ممبر بننے میں کامیاب ہوا ہے۔ محمد سلیمان نعیم ابتدا ہی سے پی ٹی آئی کے رکن تھے۔

ملتان میں انھوں نے پی ٹی آئی کا پرچم مسلسل تھامے رکھا،لیکن غالباً شاہ محمود قریشی کی وزیراعلیٰ بننے کی خواہش نے پی ٹی آئی کو اس نوجوان کو ٹکٹ دینے سے باز رکھا۔ یہ نوجوان ہمت نہیں ہارا۔

اس نے پی پی217 سے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور اُس نے پی ٹی آئی کے اُس بڑے لیڈر کے بَلے کو توڑ دیا، جس نے اُسے ٹکٹ سے محروم رکھنے کی کامیاب سازش کی تھی،لیکن اِس حلقے کے باشعور ووٹروں نے قدردانی کی انتہا کر دی۔ انھوں نے اس نوجوان کی صلاحیتوں، شبانہ روز کی محنتوں اور عام آدمی سے محبتوں کو دیکھتے ہوئے اِس کے بیلٹ باکس اپنے ووٹوں سے بھر دیئے۔مَیں پچھلے تیس برسوں سے لاہور میں رہتا ہوں، لیکن میرا اور میرے تمام اہل خانہ کا ووٹ محمد سلمان نعیم ہی کے حلقے میں ہے۔مَیں مہینے دو مہینے میں جب کبھی ملتان جاتا تو میرا بھانجا اور پی ٹی آئی کا سرگرم کارکن طلحہ حنیف مجھے ہمیشہ محمد سلمان نعیم کے بارے میں کچھ نہ کچھ ضرور بتاتا۔

کبھی بتاتا کہ محمد سلمان نعیم نے علاقے کے 100 لوگوں کو عمرے پر بھجوا دیا، کبھی بتاتا کہ غریب خواتین میں گرم چادریں تقسیم کر رہا ہے، کبھی بتاتا کہ اُس نے نوجوانوں کے لئے کرکٹ ٹورنامنٹ کا اہتمام کر رکھا ہے اور نوجوانوں میں بَلّے تقسیم کر رہا ہے،کبھی بتاتا کہ عیدالاضحی کے موقع پر اُس نے اتنے جانور ذبح کیے اور سارا گوشت اپنے غریب ووٹروں میں تقسیم کر دیا۔

کبھی بتاتا کہ محمد سلمان نعیم نے محفلِ میلاد کا اہتمام کر رکھا ہے۔ کبھی خبر دیتا کہ محمد سلمان نعیم نے نوجوانوں کی ریلی نکالی اور اس کے ڈیرے پر نوجوانوں کے جمع ہونے کی خبر تو معمول کی بات تھی۔طلحہ حنیف کی اطلاعات سے مجھے ہمیشہ لگا کہ محمد سلمان نعیم خدمت اور اجتماعیت کا پیکر ہے اور دِل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ مَیں کبھی اِس امنگوں بھرے نوجوان سے ملوں۔طلحہ نے مجھے کئی بار کہا بھی، لیکن مَیں مصروفیت کی وجہ سے وقت نہ نکال سکا۔

یہ ساری باتیں سُن کر لگتا تھا کہ محمد سلمان نعیم الیکشن جیت جائے گا، لیکن حیرت مجھے اِس بات پر ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت بالخصوص شاہ محمود قریشی کو یہ بات محسوس نہیں ہو سکی۔ اگر ہو جاتی تو وہ اسے ٹکٹ سے ہر گز محروم نہ رکھتے۔ محمد سلمان نعیم کو ٹکٹ نہ دینے کا معاملہ پی ٹی آئی قیادت کی خود غرضی کے سوا اور کچھ نہیں لگتی، اور اسی خود غرضی کا شاخسانہ ہے کہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھنے والے شاہ محمود قریشی اِس نوجوان کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ وہ تو بھلا ہو نااہل جہانگیر ترین کا کہ وہ محمد سلمان نعیم کو ایک بار پھر پی ٹی آئی کا پٹکا پہنانے اور بَلّا تھمانے میں کامیاب ہو گئے۔

الیکشن سے پہلے تو اِس نوجوان سے تحریک انصاف کو جو ناانصافی کرنا تھی، کر لی لیکن اب میرا خیال ہے کہ اُس کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے۔ محمد سلمان نعیم کو پنجاب کی کابینہ کا حصہ بنانا چاہیے۔

محمد سلمان نعیم کوئی سردار، کوئی بزدار اور کوئی جاگیردار نہیں۔ملتان کے عام نوجوانوں کی طرح پڑھا لکھا اور باشعور ہے۔ ویسا ہی کاروبار کرتا ہے جیسا ملتان کے متوسط طبقے کے نوجوان کر رہے ہیں۔

مَیں شاہ محمود قریشی سے مخاطب نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور مجوزہ وزیروں محمود الرشید، عبدالعلیم خان، ڈاکٹر یاسمین راشد اور فیاض الحسن چوہان سے مخاطب ہوں کہ وہ اپنی پارٹی کے چیئرمین کو اِس نوجوان اور میرے شہر ملتان سے ہونے والی ناانصافی سے آگاہ ضرور کریں،جو لوگ عام لوگوں کے لیے کچھ کرنے کے آرزو مند ہیں انھیں بہرحال موقع ملنا چاہیے۔

مزید : رائے /کالم