عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر54

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر54
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر54

  

ہرکوئی اپنی جگہ یہ سو چ رہا تھا کہ ........اب کیا ہوگا ۔ ملکہ کو تو جیسے سکتہ ہوگیا تھا ۔ اس نے اپنے شیر خوار بچے کی لاش کو اپنے سینے سے بھینچ رکھا تھا ۔ اور وہ درد بھری ، حسرت ناک نظروں سے اس سلطان کو دیکھ رہی تھی۔ جس کی تاج پوشی پر آج وہ مبارک باد دینے کے لیے آئی تھی۔ بوڑھا خواجہ سر ا ابھی تک دیوان عام کے فرش پر ننگے پاؤں کھڑا تھا ۔ اور اہلیان دربار اپنی سانسیں روکے حکم سلطانی کے منتظر تھے۔اتنے میں ایک بوڑھا سردار اپنی نشست سے اٹھا.........اور سلطان سے مخاطب ہوا۔

’’سلطان معظم!.......اہلیان دربار ........حکم شاہی کے منتظر ہیں۔اور سب لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ حضور والا نے تخت نشینی کے پہلے روز ننھے شہزادے کی موت کا حکم کیوں کر صادر فرمایا؟‘‘

اب سلطان محمد خان کے لیے مزید خاموش رہنا ممکن نہ تھا ۔ وہ ایک دم سے اپنی عبا کو سمیٹتا ہوا۔ تخت شاہی کی جانب بڑھا اور انتہائی جارحانہ انداز میں تخت پر چڑھا۔ لیکن اس نے مسند پر بیٹھنے کی بجائے........کھڑے ہوکر اپنے درباریوں پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالی اور پھر کسی زخمی شیر کی طرح گرجا:۔

’’ہم حکم دیتے ہیں..........کہ ابھی اور اسی وقت معصوم شہزادے کے قاتل کو پابہ زنجیر ہمارے سامنے حاضر کیا جائے.........ہم جاننا چاہتے ہیں۔ اس نے کس شیطان کے حکم پر یہ منحوس اور مکروہ فعل سرانجام دیا ہے۔ ہم معصوم شہزادے کے قاتل کا سر خود اپنے ہاتھ سے قلم کریں گے۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر53پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سپاہی اندرونی محل کی طرف دوڑتے چلے گئے۔ لیکن سلطان گھوم کر خواجہ سرا سے مخاطب ہوا:۔

’’ہم ملکہ معظمہ کے خواجہ سرا کی گستاخی معاف کر تے ہیں.........اور خواجہ سرا سے یہ دریافت کر تے ہیں کہ اسے کس طرح ننھے شہزادے کے قاتل کی بابت معلوم ہوا؟‘‘

اب خواجہ سرا بھی اپنی جذباتی کیفیت سے کسی قدر سنبھل چکا تھا ۔ اور کچھ سلطان کے لہجے نے اسے احساس دلایا کہ اس نے بلا تحقیق نئے سلطان پر چھوٹے بھائی کے قتل کا بہتان باندھ کر سرے دربار اپنی موت کو دعوت دی ہے۔ لیکن جونہی سلطان نے اسے معاف کیا ۔ اس کی جان میں جان آئی۔ اور اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا:۔

’’سلطان معظم ! میری دہائی کی وجہ یہ تھی کہ مجھے ننھے شہزادے کے قاتل نے شہزادے کو قتل کرنے کے بعد خود یہ بتایا تھا کہ اس نے شہزادے کو سلطانِ معظم کے حکم سے قتل کیا ہے۔‘‘

خواجہ سرا کی بات سن کر سلطان لرز گیا ۔ اس نے گرجدار آواز میں بے اختیار ہوکر پوچھا:۔

’’کون ہے وہ بد بخت ! جس نے ہم پر اتنا بڑا الزام لگایا ؟ اور جس نے اس معصوم کے پاکیزہ خون سے ہاتھ رنگے۔‘‘

سلطان کے چہرے پر جوانی کا جوش شاہی جاہ و جلال کے روپ میں ظاہر ہوا۔ اور دربار میں موجود ہر شخص اپنی جگہ سہم کررہ گیا ۔ خواجہ سرا کی حالت اب پہلے سے بالکل مختلف تھی۔ اب وہ اپنے پچھلے رویے پر پچھتا رہا تھا ۔ اس نے لڑکھڑاتی ہوئی زبان کے ساتھ پھر کہا:۔

’’سلطانِ معظم ! معصوم شہزادے کو ینی چری کے سپہ سالار نے شاہی کنیزوں کو آپ کا حکم سنا کر حاصل کیا ۔ اور اس سفاک انسان نے آٹھ ماہ کی اس ننھی جان کو حمام میں لے جا کر پانی کے حوض میں غرق کردیا .........‘‘

ایک دم پورے دربار کی توجہ ملکہ کی جانب مبذول ہوگئی ۔ کیونکہ ملکہ کھڑی کھڑی اپنی جگہ پر لہرائی اور پھر گھٹنوں کے بل زمین پر گر کر بے ہوش ہوگئی۔ سلطان فوراً آگے بڑھا اور خود ملکہ سروین کو سہارا دیا ۔ کچھ دیر بعد ملکہ اپنے کمرۂ خاص میں شاہی طبیبوں کی زیر نگرانی اپنے بستر پر تھی۔ دربار ابھی تک برخاست نہیں ہوا تھا ۔ سلطان نے خواجہ سرا سے تمام واقعے کی تفصیل پوچھی۔ اور ینی چری کے سپہ سالار کو پابہ زنجیر اپنے حضور پیش کر نے کا حکم دیا ۔ لیکن اس سے پہلے کہ سلطان کے نئے حکم کی تعمیل کے لیے سپاہی روانہ ہوتے.......خفیہ محکمے کا سربراہ بہرام خان ینی چری کے ’’قاتل سپہ سالار ‘‘ کو گرفتار کرکے سلطان کی خدمت میں حاضر ہوگیا ۔ سپہ سالار بے خوفی کے ساتھ دربار میں داخل ہوا........اور سلطان کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا ۔ سلطان کا چہرہ سر خ ہوچکاتھا ۔ اور اس کی آنکھیں غصے سے انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔ اسے ینی چیری کے سپہ سالار کی بے باکی پر حیرت بھی تھی اور بے حد غصہ بھی آرہا تھا ۔ جس نے اپنے انداز سے یہی ظاہر کیا تھا ۔ جیسے اس نے کوئی ظلم نہ کیا ہو۔ بلکہ جو کچھ کیا ہو ......درست کیا ہو۔ سلطان کے لیے سپہ سالار کا انداز چڑانے والاتھا ۔ چنانچہ اس نے انتہائی سخت اور سرد لہجے میں سپہ سالار کو مخاطب کیا :۔

’’سپہ سالار !.........ہمیں صرف دو الفاظ میں اپنے سوال کا جواب درکار ہے......کیا تم نے ہمارے چھوٹے بھائی کو قتل کرنے کا سفاک اور سنگین جرم کیا ہے؟.......یا نہیں ؟‘‘۔

’’ہاں میں نے ننھے شہزادے کو قتل کیا ہے.........لیکن ایسا کر کے میں نے کوئی جرم نہیں کیا ۔ میں نے جو کیا ہے سلطنت کی بہتری کے لیے کیا ہے کیونکہ سلطنتِ عثمانیہ میں ہمیشہ سے یہ مسئلہ رہا ہے کہ سلطنت کے شہزادے تخت و تاج کے لیے پوری قوم کے مقدر کو داؤ پر لگاتے رہے ہیں۔‘‘

’’خاموش!........تم حدِ ادب سے گزر چکے ہو........تم نے صرف ننھے شہزادے کو قتل ہی نہیں کیا ۔ بلکہ ہم پر جھوٹا بہتان بھی باندھا ہے۔ جس کی بنأ پر ملکہ کا خواجہ سرا یا دربار کے بعض دیگر لوگ.........ہمیں اس کام میں تمہارے ساتھ شریک سمجھتے ہیں........حالانکہ ہم بھرے دربار میں اپنے پرودگار کو حاضر جان کر یہ حلف دیتے ہیں کہ ہم اس سفاک درندگی کے بارے میں مطلق بے خبر تھے..........اور تمہاری یہ جسارت بھی قابلِ معافی نہیں جو تم نے آلِ عثمان پر تخت و تاج کے لیے لڑنے کا بہتان باندھا ہے.........ہم تمہیں سزائے موت کا حکم سنانے سے پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تم کس کے لیے کام کرتے ہو۔ قیصرِ قسطنطنیہ کے لیے یا شاہِ ہنگری ہونیاڈے کے لیے۔‘‘

سلطان نے ایک طرح سے سپہ سالار کو سزائے موت کا حکم سنادیا تھا ۔ لیکن درحقیقت وہ دل سے ڈر رہا تھا ۔ اسے اچھی طرح علم تھا کہ ’’ینی چری‘‘ جیسی منہ زور سپاہ کا سپہ سالار اگر تخت نشینی کے پہلے نئے سلطان کے ہاتھوں قتل کر دیاگیا تو ایک بار پھر اس فوج میں بغاوت پھوٹ پڑے گی۔ آج سلطان کے لیے زندگی کا مشکل ترین لمحہ گزارنا ناممکن ہورہا تھا ۔ نہ جائے رفتن ......نہ پائے ماندن ۔ اگر وہ ننھے شہزادے کے سفاکانہ قتل کا بدلہ سپہ سالار سے نہ لیتا تو اہلیان دربار اور دیگر عوام میں شدید ناراضگی پھیل سکتی تھی۔ خصوصاً جب اس کی سوتیلی ماں ملکہ سروین اپنے شیر خوار بچے کی جدائی پر نڈھال تھی۔ اور خود سلطان کو بھی تو اپنا بھائی عزیز تھا ۔اور پیارا تھا ........اسے سپہ سالار پر بے حد غصہ آرہاتھا ۔ لیکن وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا ۔ اس نے سپہ سالار سے یہ سوال اسی لیے کیا تھا ۔ تاکہ سپہ سالار کے تعلقات عیسائیوں کے ساتھ ظاہر ہوں۔ اور اس سفاک درندے کی گردن آسانی کے ساتھ مار سکے........لیکن سپہ سالار نے پھر اسی طرح جواب دیا :۔

’’سلطان معظم !.........سلطان بایزدی یلدرم نے تخت نشین ہوتے ہی اپنے چھوٹے بھائی شہزادہ یعقوب کو اسی مقصد کے تحت قتل کردیا تھا ۔ جو آج کے روز میرا مقصد تھا ۔ اور اس کے دربار کے علماء نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ .......’’الفتنۃ اشدُ من القتل‘‘.........فتنہ قتل سے زیادہ براہے۔ چنانچہ شہزادہ یعقوب کو بلاوجہ قتل کر دیا گیا تھا ۔ تاکہ فتنہ پیدا نہ ہوسکے۔ آج میں نے بھی اسی غرض سے شہزادے کی جان لی ہے۔ تاکہ سلطنت آنے والے فتنہ سے بچ سکے۔‘‘

سپہ سالار کا جواب بڑا عجیب تھا ۔ سلطان نے کڑ ک کر کہا:۔

’’تم سرا سر جھوٹ بکتے اور مفتیان اسلام پر بہتان لگاتے ہو۔ یہ سلاطینِ اسلام کا شیوہ نہیں بلکہ فراعین مصر کا شیوہ رہا ہے کہ ننھے بچوں کو تخت و تاج چھن جانے کے ڈر سے قتل کر دیا جائے...........ہم تمہیں کسی صورت معاف نہیں کرسکتے .........چاہے ہمیں پوری سلطنت سے ہاتھ دھونے پڑیں......‘‘

سلطان نے دل میں ایک مصمم ارادہ کرتے ہوئے پتھر کی طرح سخت لہجے میں کہا اور جلاد کو حکم دیا کہ وہ سپہ سالار کا سر قلم کر کے.....ملکہ معظمہ کے قدموں میں ڈال دے۔سلطان کا حکم سنتے ہی ..........ینی چری کے سپہ سالار نے پہلی مرتبہ گھبراہٹ اور پریشانی کا اظہاری کیا ۔ اور بے حد مضطرب لہجے میں سلطان سے مخاطب ہوا:۔

’’سلطانِ معظم! ایک شیر خوار کے عوض سلطنتِ عثمانیہ کی عظیم فوج ینی چری کا مستقبل داؤ پر لگانا قوم کے لیے ضرر رساں ثابت ہوسکتا ہے۔ اس طر ح پچھی مرتبہ کی طرح فوج میں بغاوت پھیلنے کا اندیشہ بھی ہے۔ مجھے اپنی جان عزیز نہیں۔ میں سلطان معظم کے حکم پر اپنی گردن دینے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن اس طرح سلطنت بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوسکتی ہے۔‘‘

سپہ سالار کی بات میں چھپی ہوئی دھمکی کو سلطان صاف محسوس کر رہا تھا ۔ لیکن اب وہ فیصلہ کر چکاتھا کہ کسی صورت اس ظالم قاتل کو معاف نہیں کرے گا۔لیکن اس سے پہلے کہ اس کے حکم پر جلاد سپہ سالار کو جان سے مارتا ۔یکدم ........ایک طرف سے قاسم بن ہشام نے آگے بڑھ کر سلطان کی خدمت میں عرض کی:۔

’’سلطانِ معظم !........ایک سرکاری سراغ رساں کی حیثیت سے میں سلطان معظم سے اجازت چاہتا ہوں کہ وہ اس مجرم کو مزید تفتیش کے لیے میرے حوالے کردیں۔ تاکہ اس سے معلوم کیا جاسکے کہ اس نے یہ مذموم فعل کس کے اشارے پر سراانجام دیا ‘‘۔

قاسم نے گویا سلطان کی مشکل آسان کردی۔ اس طرح اگر سپہ سالار کا تعلق سچ مچ کسی مسیحی سازش سے ثابت ہوجاتا .......تو ینی چری کے سپہ سالار کا قتل بہت آسانی سے کیا جاسکتا تھا ۔ ادھر سلطان کو قاسم کی مداخلت سے حوصلہ ملا........اور ادھر سپہ سالار کی جان میں جان آئی ۔ اسے قاسم بن ہشام کی مداخلت سے یوں لگا۔ جیسے رحمت کا فرشتہ اس کی مدد کو آپہنچا ہو۔ سلطان نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ ننھے شہزادے کی سفاک قاتل کو قاسم بن ہشام کے ہمراہ لے جائیں۔ اور اس کے بعد سلطان نے اپنا پہلا باقاعدہ دربار برخاست کرنے کا حکم دیا ۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح