اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 22

26 اگست 2018 (16:28)

اے حمید

وہ کہہ رہاتھا ۔۔۔’’ دیوتاؤں کی خواہش پوری ہوگئی۔ دیوی اشتر اور دیوتا بعل کے نام کا بول بالا ہوا۔ کاہن عاطون مرچکا ہے اور اس کی لاش کو مندر ے قبرستان میں رسوم کے مطابق دفن کر دیا جائے۔‘‘

بادشاہ اپنے امراء اوراہل کاروں کے ساتھ واپس چلا گیا۔ میں نے اپنی پلکوں کی باریک سی جھریوں میں سے دیکھا کہ دیوداسیاں ہتھیلیوں میں منہ چھپائے سسکیاں بھر رہی تھیں۔ پجاری لڑکے سرجھکائے اداس کھڑے تھے۔ مگرنائب کاہن پر میری موت کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا۔ بلکہ وہ خاموش تھا کہ میری موت کے بعد اب اسے مندر کے سب سے بڑے کاہن بننے کا موقع فراہم ہوگیا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھ بلند کر کے کہا۔

’’ عاطون نے دیوتاؤں کے احکام کی خلاف ورزی کی تھی۔ دیوتاؤں نے اسے غفلت اور قانون شکنی کی سزا دے دی ہے۔ خبردار ! کوئی اس دیوتاؤں کے حقوق غضب کرنے والے کی لاش پر آنسو نہ بہائے۔ آج سے میں کاہن اعظم ہوں لیکن ہم اس غاصب کی مذہبی رسومات ضرور ادا کریں گے۔ کیوں کہ یہ ہمارا کاہن اعظم رہ چکا ہے۔ اس لئے میں حکم دیتا ہوں کہ اس کی لاش کو آج رات تمام مذہبی رسومات کے ساتھ مندر کے قبرستان میں زمین کے اندر اتار دیا جائے۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 21پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں خاموش لیٹا اپنے نائب کی گوہر افشانیاں سنتا رہا۔ اس کے تو دن پھر گئے تھے۔ میرے ہوتے ہوئے تو وہ زندگی میں کبھی میرا منصب حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ میری موت نے اسے اس منصب جلیلہ پر فائز کر دیا تھا جس کے وہ خواب دیکھا کرتا تھا۔

میری لاش سارا دن مندر میں پڑی رہی۔ پجاری اور دیوداسیاں میری لاش پر پھول جڑھاتی اور اشلوک گاتی رہیں۔ میں دل ہی دل میں خدائے واحد سے صرف یہی دعا مانگ رہا تھا کہ اے بحروبر اور تمام عالموں کے مالک ! میری روکاش کو حفاظت سے منوچہر جھیل کی خفیہ کمین گاہ تک پہنچا دینا۔

جب رات کا اندھیرا چاروں طرف اتر آیا اور شہر میں اور شہر کی فصیل کی برجوں میں دروازوں کے اوپر فانوس اور مشعلیں روشن ہوگئیں تو میری لاش کو ارتھی پر ڈال دیا گیا۔ یوں میرا جنازہ رات کی تاریکی اور خاموشی میں روایتی تزک و احتشام کے بغیر خاموشی سے مندر کے باہر اور اس سے ملحق قبرستان کی طرف روانہ ہوگیا۔

قبرستان میں میری قبر پہلے ہی سے تیار کی جا چکی تھی۔ نائب کاہن اور اب کاہن اعظم نے مجھے اپنے سامنے قبر میں اتروایا اور اس بات کی پوری تسلی کرلی کہ میں قبر میں جا چکا ہوں۔ اس نے آخری بار بھی میرے منہ سے کفن کاکپڑا ہٹا کر میرے چہرے کو جھک کر دیکھا تھا۔ میرے اوپر قبر میں پتھروں کی چوڑی سلوں کی چھت ڈال کر قبر کو مٹی سے بھردیا گیا۔ میں نے قبر میں بند ہوتے ہی آنکھیں کھول دی تھیں اور اپنی قوت ارادی سے دل کی دھڑکنوں کو پھر سے جاری کر دیا تھا۔ قبر کے اندر صرف میرا آدھا دھڑہی اٹھ کر بیٹھ سکتا تھا۔ میں نے اپنے جسم کے اندرونی نظام کو دو تین بار سانس لے کر محسوس کیا۔ زہر نے کوئی اثر نہیں کیا تھا۔ میں اسی طرح زندہ تھا۔ مقدس آواز نے ٹھیک کہا تھا۔ موت کو مجھ سے دور بہت دور کر دیا گیا تھا۔

میں چاہتا تھا کہ جب سب لوگ چلے جائیں اور قبرستان خالی ہوجائے تو میں قبر سے باہر نکلوں۔ کچھ دیر تک مجھے قبر کے اوپر لوگوں کی آوازیں آتی رہیں۔ پھر خاموشی چھا گئی۔ جب مجھے پورے تسلی اور اطمینان ہو گیا کہ جو لوگ مجھے دفن کرنے آئے تھے وہ جا چکے ہیں تو میں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر اپنی ہتھیلیاں پتھریلی سلوں کی چھت کے ساتھ لگائیں اور سانس روک کر زور لگایا۔ میں اپنی ناقابل یقین اور زبردست طاقت پر حیرت زدہ ہو کر رہ گیا۔ اس وقت پتھر کی ان سلوں پر منوں مٹی کا بوجھ پڑا ہوا تھا لیکن میرے زور لگانے پر وہ سلیں اوپر اٹھنا شروع ہوگئیں اور ان کے کنکروں پر سے مٹی میرے اوپر گرنے لگی۔ پتھریلی سلوں کا چاک میری قبر سے اُٹھ رہا تھا اور اس کی ہلکی ہلکی گڑگڑاہٹ کی آواز بھی مجھے سنائی دے رہی تھی۔ مجھے یہ بھی خطرہ تھا کہ اگر اتفاق سے کوئی میرا عقیدت مندیا قبرستان کا کوئی گورکن میری قبر کے پاس کھڑا ہوا تو میرا راز فاش ہوجائے گا جو میں نہیں چاہتا تھا۔ قبر کی چھت اوپر ہی اوپر اٹھتی چلی جا رہی تھی۔ پھر میرے چہرے کو باہر کی تازہ ہوا لگی۔ پتھر کی سلوں کی چھت مٹی کے بہت بڑے تودے کولے کر میری قبر کے گڑھے سے ایک فٹ اونچی ہوگئی تھی۔ میں نے اسے ایک طرف ذرا سا ٹیٹرھا کیا اور خود تیزی سے باہر نکل آیا اور تودے کو واپس اسی طرح قبر میں گرادیا اور وہاں پھر سے اپنی قبر بنا دی تاکہ کسی کو شک نہ پڑے۔ اب میں قبر سے باہر قبرستان کی ٹھنڈی ہوا میں کھڑا تھا۔

زہرہلا ہل پینے کے بعد ایک بار پھر اپنے آپ کو زندہ پا کر مجھے بڑی خوشی ہو رہی تھی۔ خوش قسمتی سے اس وقت قبرستان میں کوئی نہیں تھا۔ گہری خاموشی اور تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ میں قبروں کے درمیان سے ہوتا اپنے کفن پر سے جو گیروے رنگ کے ایک لبادے کی صورت میں تھا اور جسے کاہن زندہ حالت میں بھی پہنا کرتے تھے جھاڑتا ہوا درختوں کی طرف چل پڑا۔ آگے قبرستان کا دورازہ تھا۔ میں نے ایک لمحے کا توقف کیا۔ دروازہ بند تھا۔ آس پاس کوئی انسان نظر نہیں آرہا تھا۔ میں دروازہ کھول کر قبرستان سے باہر نکل آیا۔ دور مندر کے کلس اور شاہی محل اور شہر کی فصیل پر جھلملاتی مشعلیں دکھائی دیں۔ اب شہر سے نکلنے کا مرحلہ میرے سامنے تھا۔ میں شہر کے دروازے سے نہیں نکلنا چاہتا تھا۔ وہاں رات کے سپاہی پہرہ دے رہے تھے۔ میں درختوں کے جھنڈوں سے ہوتا ہوا شہر کی فصیل کے پاس ایک ایسی پر آگیا جہاں کھجور کے ایک بلند درخت کی شاخیں فصیل کے اوپر لٹک رہی تھیں۔ یہ جگہ شہر سے فرار ہونے کے لئے بڑی موزوں تھی۔

میں درخت پر چڑھ گیا اور پھر شاخوں سے لٹک کر فصیل کے کنگروں پر آگیا۔ یہاں سے میں نے اندھیرے میں دوسری طرف جھاڑیوں میں چھلانگ لگا دی۔ میں اگرچہ سر کے بال جھاڑیوں میں گرا تھا۔ مگر میری تمام ہڈیاں سلامت رہیں۔ معمولی سی خراش بھی نہ آئی۔ آسمان چمکیلے ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ کسی جانب سے کوئی ہلکی سی آواز بھی نہیں آرہی تھی۔ آپ اس خاموشی کا تصور بھی نہیں کر سکتے جو آج سے پانچ چھ ہزار برس پہلے آدھی رات کو قدیم شہروں کے قریب وجوار میں طاری ہوا کرتی تھی۔ اگر آپ کو آج کے پرشور اور ہنگامہ پرور کراچی شہر سے نکال کر ایک دم آج سے پانچ ہزار پہلے کی آدھی رات کی خاموش فضاؤں میں پہنچا دیا جائے تو یقیناًآپ خوف کے مارے بے ہوش ہوجائیں۔ اس عہد کی آدھی راتوں کے سناٹے دم بخود ہوا کرتے تھے۔ محسوس ہوتا تھا کہ خاموشی نے اپنا سانس روک لیا ہے اور انسان کو اپنے سانس کی آواز سے بھی ڈر آنے لگتا تھا۔ میری منزل اب موہنجودڑو سے میلوں دور منوچہر جھیل کے جنگل تھے اور میں یہ دشوار گزار راستہ تیزی سے طے کرنا چاہتا تھا جس کے لئے ایک برق رفتار گھوڑے کی اشد ضرورت تھی مگر گھوڑا میرے پاس نہیں تھا۔ میں چلتے چلتے اندھیری رات میں شہر سے کافی دور نکل آیا۔ ستاروں کی مدھم چمک میں مجھے صحرا میں ریت کے چھوٹے چھوٹے ٹیلے دور دور تک پھیلے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ منوچہر جھیل کے جنگلوں کی طرف جو راستہ جاتاتھا میں اس سے اچھی طرح واقف تھا۔ یہ ہڑپہ کی طرف جانے والے قاتلوں کے راستوں سے ہٹ کر دس کوس کے فاصلے پر تھا لیکن جہاں سے یہ ریتلا راستہ صحرا کے ویرانے میں جاتا تھا وہ جگہ ابھی پونے دو سو کوس سے بھی کچھ زیادہ فاصلے پر تھی اور یہ راستہ میں گھوڑے کے بغیر طے نہیں کرنا چاہتا تھا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں