پاکستان اور سعودی عرب،کوئی اختلاف نہیں 

پاکستان اور سعودی عرب،کوئی اختلاف نہیں 

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  واضح کیا کہ سعودی عرب اور پاکستان میں کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہیں، اِس حوالے سے پھیلائی جانے والی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے، بلکہ یہ محض ایک پروپیگنڈا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سعودی عرب اور پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، نیزکشمیر اور فلسطین کے حوالے سے بھی دونوں ممالک ایک ہی موقف کے حامل ہیں۔انہوں نے یہ بھی واضح کیاکہ سعودی عرب نے پاکستان کا تیل بند کیا ہے اور نہ ہی پیسے واپس مانگے ہیں، برادر اسلامی ملک سے تعلقات مستحکم ہیں اور مستحکم ہی رہیں گے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات میں خرابی کی خبریں رواں سال کے آغاز میں پھیلنا شروع ہوئیں، جب  پاکستان نے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) کا خصوصی  اجلاس بلانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا تاکہ کشمیر  کے معاملے کے حل کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالا جا سکے، لیکن سعودی عرب نے اس کا خاطر خواہ جواب نہیں دیا تھا۔اس پروزیر خارجہ  شاہ محمود قریشی نے جذبات میں آکرا یک ٹی وی انٹرویو میں کہہ دیاکہ اگر او آئی سی نے وزرائے خارجہ کا اجلاس نہ بلایا تو وہ وزیراعظم کو کہہ کہ اان اسلامی ممالک کا اجلاس بلا لیں گے جو مسئلہ کشمیر پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔بس یہیں سے چہ میگوئیوں کا آ غاز ہو گیا۔ویسے تو پاکستان اور سعودی عرب  کے تعلقات ہرگز اتنے کمزور نہیں کہ  ایسی کسی بات پر اس میں دراڑ آ جائے۔ اب  امید ہے کہ شاہ محمود قریشی کا یہ تازہ بیان پاکستان اور سعودی عرب میں اختلافات کے حوالے سے پھلینے والی افواہوں کا اثرزائل  کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، اس سلسلے میں  وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی کوششیں بھی  قابل داد ہیں۔ 

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تعلقات ہمیشہ ہی مضبوط اورخوشگوار رہے ہیں۔حجازِ مقدس سے اہل ِ پاکستان کی روحانی، جذباتی وابستگی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اسی طرح سعودی عرب میں بھی لاکھوں پاکستانی مختلف اداروں میں  خدمات اسرنجام دے رہے ہیں۔

ماضی میں جب بھی سعودی عرب یا پاکستان پر کوئی مشکل وقت آیا دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے، سعودی عرب نے  مالی مشکلات  میں بہت دفعہ پاکستان کی مدد کی، اسے سہارا دیا،ضرورت پڑنے پرملکی معیشت کوسنبھالنے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ محبت ہرگز یکطرفہ نہیں ہے، سعودی عرب کو بھی جب  ضرورت پڑی پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہوا۔پاکستان حرم پاک اور مقدس مقامات کی حفاظت کا غیر اعلانیہ ذمہ دار ہے، آج بھی سعودی عرب کی نگرانی میں بننے والی34ممالک کی افواج کے سربراہ پاکستان کے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل(ر)راحیل شریف ہیں۔

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کئے جانے کے بعد دو ٹوک موقف اختیار کیا اور سعودی عرب نے بھی پاکستان کے موقف کی تائید کی۔دونوں ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کوشامل کئے بغیرکوئی بھی معاہدہ دیرپا اور کامیاب نہیں ہو سکتا۔متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے معاہدے کے بعد امریکہ کوگمان تھا کہ سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا لیکن  سعودی عرب نے واضح کر دیا کہ جب تک  فلسطین  کا مسئلہ حل نہیں ہوتا وہ اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات استوار نہیں کر ے گا،اس سے جو حلقے سعودی عرب کی خاموشی پر سرگوشیاں کر رہے تھے ان کو بھی سکون آ گیااور ساتھ ہی ساتھ یہ خیال بھی دم توڑ گیا کہ متحدہ عرب امارات کے بعد خلیج کے بعض دوسرے ممالک بھی آہستہ آہستہ اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے۔ممکن ہے کہ  پاکستان کے بعد سعودی عرب کے واضح بیان سے یہ سلسلہ تھم سا جائے۔موجودہ صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ  تمام مسلم ممالک ہر بات سے بالاتر ہو کر  اپنے اختلافات ختم کر یں، ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں اورفلسطین، کشمیر اور مسلم اُمہ کے دوسرے مسائل کے لئے مل کر آواز اٹھائیں،بہت ممکن ہے کہ جو آواز ایک ہو کر اٹھائی جائے وہ عالمی برادری کے دل پر اثر کر جائے۔

مزید :

رائے -اداریہ -