آٹا، چینی، دستیابی اور نرخوں کا جائزہ!

آٹا، چینی، دستیابی اور نرخوں کا جائزہ!

  

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب واحد صوبہ ہے، جہاں آٹا بازار میں سرکاری نرخوں پر مل رہا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ صوبائی حکومت کے پاس37 لاکھ ٹن گندم کے محفوظ ذخائر موجودہیں،ان میں سے فلور ملوں کو روزانہ17ہزار ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے، جس کے باعث بازار میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت860روپے مستحکم ہے۔ آٹے اور چینی کی دستیابی اور مارکیٹ کی صورتِ حال پر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کے دوران انہوں نے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا کے لوگ ہمارے بھائی ہیں، ان کی ضرورت کے لئے سرکاری سطح پر گندم مہیا کی جا رہی ہے،جو اچھا اقدام ہے، تاہم گندم کی سمگلنگ کو روکنا بھی فرض ہے،اِس لئے متعلقہ حکام مانیٹرنگ کا نظام بہتر بنائیں۔اجلاس کے حوالے سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ حکومت عوام کو مناسب نرخوں پر اشیائے خوردنی مہیا کرنے کے لئے سبسڈی دیتی ہے،لیکن یہ سب کودینا ممکن نہیں ہے اس لئے صرف مستحق عوام کو ہی مقررہ ہدف کے مطابق دی جائے گی،انہوں نے اس سلسلے میں باقاعدہ قواعد و ضوابط اور ترجیحی فہرست بنانے کی  ہدایت بھی کی۔وزیراعلیٰ مسلسل مختلف مسائل کے حوالے سے اجلاس منعقد کر کے جائزہ لیتے ہیں ااور ہدایات بھی جاری کرتے ہیں۔گندم، آٹے اور چینی کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لینا بھی فائدے مند قدم ہے،لیکن ان سب اقدامات کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے جس کی ایک بڑی وجہ  مختلف محکموں کی ناقص کارکردگی  ہو سکتی ہے۔ جہاں تک آٹے کی صورتِ حال کا تعلق ہے تو بلاشبہ محکمہ خوراک کی طرف سے ملوں کو17ہزار ٹن گندم روزانہ مہیا کی جاتی ہے تا کہ آٹا860 روپے(20 کلو تھیلا) عوام کو ملے،تاہم یہ سبسڈی والا آٹا،جو سرکاری نرخوں پر گندم حاصل کر کے مہیا کیاجاتا ہے،عام دکانوں، حتیٰ کہ کئی یوٹیلٹی سٹور بھی دستیاب نہیں ہے۔ جبکہ یہ شکایت بھی ہے کہ اکثر مل والوں نے تھیلے کی قیمت860 روپے تو مقرر کر دی ہے،لیکن تھیلے کا وزن کم کر کے15کلو کر دیا ہے۔ کھلے بازار میں چکی آٹا بدستور بڑھتے بڑھتے 70روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے،اس پر ستم یہ کہ  ان چکیوں پر ملاوٹ بھی عام ہے اور پسائی بھی چھان کر نہیں کی جاتی۔ محکمہ فوڈ اور فوڈ اتھارٹی کو ملاوٹ اور قیمت کی پڑتال کا قانونی حق حاصل ہے لیکن  یہاں پر وہ بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں چینی کی دستیابی اور قیمت کا جائزہ تو لیا گیا،لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ بازار میں نرخ کیسے کنٹرول ہوں گے کہ چینی جو55روپے فی کلو تھی، وہ اب ایک سو روپے فی کلو بک رہی ہے اور یوٹیلٹی سٹوروں پر بھی دستیاب نہیں ہے۔وزیراعلیٰ کی کاوشیں اپنی جگہ لیکن جب تک وہ  درست حقائق تک نہیں پہنچیں گے،اصل صورتحال کا جائزہ نہیں لیں گے،ذمہ داران کے گرد گھیرہ تنگ نہیں کریں گے تب تک عوام کو ریلیف حاصل نہیں ہو گا۔اس وقت  عوام مہنگائی سے بے حال ہیں اور وہ ہر حال میں مسائل کا حل چاہتے ہیں جو کہ عملی اقدامات سے ہی ممکن ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -