محبت میں بھی اس کو حکمرانی چاہئے تھی 

محبت میں بھی اس کو حکمرانی چاہئے تھی 
محبت میں بھی اس کو حکمرانی چاہئے تھی 

  

انصافی حکومت کے دوسال مکمل ہونے کے بعد کھٹے میٹھے تجزیوں کا سلسلہ جاری ہے حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے مورچے سنبھال رکھے ہیں حکومت اپنے دوسالوں کو شاندار، جبکہ اپوزیشن انہیں مشکل ترین سالوں سے تعبیر کررہی ہے۔ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف تو رہے ایک طرف کہ دونوں کاکام ہی ایک دوسرے پر کڑی نقطہ چینی کرنا ہے اگر ہم عوامی سطح پر بھی ان دوسالوں کا جائزہ لیں تو عوام حکومت سے نالاں دکھائی دے رہے ہیں،کیونکہ مہنگائی کا ایسا طوفان آیا ہے کہ جس نے  تاریخ کے تمام ریکارڈ ہی مات کردئیے ہیں، چینی50روپے سے 100 روپے تک جا پہنچی اس طرح آٹا اور دیگر اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں کے حالات ہیں حکومت کی جانب سے آٹے کی کم قیمت فراہمی کے دعوے سامنے آرہے ہیں،جبکہ دوسری جانب یہ حقیقت بھی ہے کہ چکی مالکان نے آٹے کی قیمتوں میں گراں قدر اضافہ کر دیا ہے، جس کی وہ وجوہات بھی بتاتے ہیں،جس سے عام آدمی کے لئے دووقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں،بلکہ آٹے کی قلت سے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں عوام حیران ہیں کہ یہ کیسی حکومت ہے،جو عوام کو آٹا چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش قیمتاً بھی فراہم کرنے سے قاصر ہے ایسی بے بسی کبھی دیکھی نہ سنی پہلے غریب آدمی اپنی بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے جیسے تیسے اس کے کان ڈھانپتا تھا، جس سے غریب کا بھی کچھ بھرم بھی رہ جاتا،لیکن اب سونا اس قدر مہنگا ہوچکا کہ اب غریب آدمی کے لئے اپنی بیٹی کے کان ڈھانپنا خیال و خواب ہو چکا ہے خان صاحب ہمیشہ اپنے عزم دہراتے اور پختہ مزاجی کو آشکار کرتے نظر آتے ہیں، لیکن خان صاحب کی اولوا لعزمی اور پختہ مزاجی اس وقت ڈھیر ہو کر رہ گئی جب پٹرول سستا ہونے پر پٹرول ہی غائب ہو گیا اور جیسے ہی پٹرول مہنگا ہوا فوری دستیاب بھی ہو گیا، یعنی یوں کہا جائے کہ خان اعظم نے مافیاز کے سامنے بالآخر شکست تسلیم کر لی ہے اور عوام کے سامنے انکی بے بسی بھی کھل کر آشکار ہو چکی ہے۔

 اب اتنا بے بس وزیراعظم ایٹمی قوت رکھنے والے ملک کو بھلا کیسے چلائے گا؟عوامی مسائل کا کیا تدارک کرے گا قومی معاملات کو کیسے حل کرے گا یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں خان صاحب نے عوام سے جو وعدے کئے ان کی حقیقت ہی کیا تھی ”ریت کے گھروندے‘‘  کہاں ایک کروڑ نوکریوں کا وعد ۂ فردا اور کہاں کہ عوام کو کھانے پینے کی چیزیں ہی دستیاب نہیں، عمران خان صاحب کو پاکستان کی تاریخ کا طاقتور وزیراعظم کہا جاتا ہے کہ جنہیں تمام اداروں کی مکمل حمایت حاصل ہے، لیکن ان کی حکومت کی دو سالہ کارکردگی سے تو وہ اتنے ہی کمزور وزیراعظم ثابت ہوئے ہیں، عوام کا مہنگائی سے بھرکس نکل گیا ہے اور خان اعظم فرماتے ہیں گھبرانا نہیں۔اب تو پی ٹی آئی کا اپنا کارکن بھی یہ کہنے پر آمادہ نظر آتا ہے کہ  ؎ 

اسی دن کے لئے بولو تمہیں کیا ہم نے چاہا تھا

کہ ہم  برباد  ہوں  اور تم  تماشا  د یکھتے جاؤ 

کیونکہ عالیجاہ عوام کی تو جیسے اس مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں کمر ہی ٹوٹ گئی ہو بجلی۔ گیس تک کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے،جس سے عام آدمی کی ہی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، یعنی کسی نہ کسی طرح ہر حوالے سے متاثر عام آدمی ہی  متاثر ہوا ہے تھا نوں میں مظلوم کی داد رسی کے نام پر کچھ بھی نہیں ہے حالات اور بھی زیادہ دشوار ہوچکے ہیں ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں اقرباء پروری ویسے ہی ہے سفارش کلچر ختم ہو سکا ہے نہ کسی کو اس کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکا، جبکہ جناب خان اعظم آپکی جماعت کا نام ہی تحریک انصاف ہے اپوزیشن والے اسی لئے تو علیمہ آپا کا نام لے کر آپ کا دِل جلاتے ہیں جناب آپ نواز شریف کو پاکستان لانے کے جتن کرتے جاتے ہیں، جس سے عام آدمی کو کچھ غرض ہے نہ فائدہ آپ نوازشریف کی واپسی کو چھوڑئیے عام آدمی کے لئے کچھ کیجئے عوام تو آپ کو ویسے ہی سر آنکھوں پر بٹھاتے  ہیں یہ اور بھی زیادہ آپکے گرویدہ ہوجائیں اگر آپ ان کے لئے کچھ کر گذریں، لیکن آپ کے دوسال کے دُکھوں نے عوام کے اعتماد کو بہت ٹھیس پہنچائی ہے جناب ہم نے تو اب آپ کے ووٹر کو یہ کہتے سنا ہے کہ  ؎ 

اسے اک سلطنت اک راجدھانی چاہئے تھی

محبت  میں بھی  اس کو  حکمرانی  چاہئے تھی 

مَیں سوچتا ہوں خان صاحب نے 24سال جدوجہد آخر کس لئے کی تھی؟صرف وزیراعظم بننے کے لئے؟اگر ایسا ہے تو جناب خان صاحب آپ کا یہ شوق پورا ہو گیا ہے،اب عوام کو ریلیف دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے کوئی عملی اقدامات کیجئے ورنہ یہ عوام بڑے بڑے طاقتو ر حکمرانوں کو گھر کی راہ دکھاچکے ہیں۔جنا ب یہ اقتدار کے پنکھ پکھیرو اڑتے اڑتے کبھی کہیں تو کبھی کہیں جا بیٹھتے ہیں یہ اقتدار کے پنچھی کسی سے سدھائے نہیں جاتے کہ ہمیشہ کسی ایک سے ہی مانوس ہوجائیں اقتدار کے پرندوں کا میلان عوام کی طرف ہوتا ہے اور عوام کی جنبش ِ ابرو جس طرف اشارہ کرے یہ پرندے ادھر کی اڑان بھرتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -