افغان طالبان و فد کا دورہ اسلام آباد 

افغان طالبان و فد کا دورہ اسلام آباد 
افغان طالبان و فد کا دورہ اسلام آباد 

  

گزشتہ دنوں افغان طالبان کا ایک وفد ملاعبدالغنی برادر کی قیادت میں اسلام آباد آیا یہ دورہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر کیا گیا ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ دورہ افغان دھڑوں کے درمیان  مذاکرات کے حوالے سے اہم ہے، ان کی آؤٹ کم خطے میں جاری صورتحال کے حوالے سے بھی بہت اہم ہے کیونکہ افغانستان کا ہی نہیں خطے کا مستقبل ان مذاکرات کے نتائج کے ساتھ جڑا ہواہیان کے تین ممکنہ نتائج ہو سکتے ہیں۔اولاً:نومبر میں امریکی افواج کی واپسی اور جنگی آپریشن کے خاتمے کے بعد مختلف افغان دھڑے حصول اقتدار کیلئے باہم دست و پیکار ہو جائیں لڑائی اور خانہ جنگی شروع ہو جائے افغانوں کی تاریخ کایہ معمول رہا ہے وہ اپنے وطن کی آزادی کیلئے مستعدرہے ہیں جارح کے خلاف بڑی جانفشائی کے ساتھ مزاحمت و مقاومت کرتے ہیں جانفشائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

دادِ شجاعت دیتے ہیں حتیٰ کہ دشمن کے چھکے چھڑا دیتے ہیں جب دشمن شکست کھا جاتا ہے بھاگ جاتا ہے تو پھر یہ خود دست و گریبان ہو جاتے ہیں ایک دوسرے کی گردن کاٹتے ہیں تخت کابل کیلئے،اقتدار کیلئے،جانوں کی بازی لگا دیتے ہیں متحارب گروپوں میں سے جو بھی ”زیادہ بہادر“اور”جنگجو“ ثابت ہوتا ہے وہ اقتدار پر قابض ہو جاتا ہے اسکا اقتدار اتنی دیر برقرار رہتا ہے جتنی دیر تک کوئی دوسرا گروپ اسکا مقابلہ کرنے اور اسے شکست دینے کے قابل نہیں ہو جاتا، اینگلوافغان جنگوں کی گزشتہ سے پیوستہ تاریخ میں بھی ایسا ہی ہوا اور اشتراکیت کے خلاف جہاد کی تاریخ گزشتہ میں ایسا ہی ہوا تھا افغانوں نے بڑی جرائیت و استقامت کے ساتھ اشتراکیوں کی افواج قاہرہ کو شکست دی انہیں واپس ماسکو لوٹ جانے پر مجبور کیا لیکن پھر طویل خانہ جنگی شروع ہو گئی۔مجاہدین ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہو گئے پھر اس خانہ جنگی کے بطن سے طالبان نکلے۔انہوں نے مجاہدین کے سب گروپوں کو شکست دی انہیں عزم بالجزم کے ساتھ جھکایا اور افغانستان میں امن بحال ہوا۔امریکی جنگی آپریشن کے خاتمے کے بعد ایسی ہی تاریخ دھرائے جانے کا امکان موجودہے۔

دوم: افغانستان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں ایک مشترکہ اور وسیع البنیاد حکومت قائم ہو جائے قومی حکومت قائم ہو جائے جس میں تمام قومیتوں کی نمائندگی ہو۔ایسی حکومت جس میں فاتح بھی ہوں اور جارح قوم کا ساتھ دینے والے غداران قوم کی بھی نمائندگی موجود ہو۔اس حکومت میں حامد کرزئی بھی ہو حکمت یا ر بھی ہو،اشرف غنی بھی ہو اور عبداللہ عبداللہ اور ان سب کے سنگی ساتھی بھی ہوں اور ہاں طالبان بھی اسی حکومت میں شریک ہوں۔یہ ایک مفروضہ ہے جس کی حقیت میں بدلنے کی گنجائش کم ہی نظر آتی ہے اشرف غنی اور اسی قبیل کے لوگ ایسی ہی ”مخلوط حکومت“چاہتے ہیں ان کی بقاء کی ضمانت ایسی ہی افغان حکومت کے قیام میں موجود ہو سکتی ہے متضادخیالات اور مفادات کے گروہوں کی مشترکہ حکومت کا خواب دیکھنابھی درست نہیں ہے کیونکہ ایسی حکومتوں کا انجام بھی تباہی و بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ہے افغان تاریخ میں ایسا کچھ شاید ہی ہوا ہو شاید اب بھی ایسا نہ ہو سکے ایک فاتح گروہ کس طرح اپنے مد مقابل گروہ کے ساتھ مل کر حکومت میں شریک ہو سکتا ہے جس کے بارے میں فاتح گروہ کو یقین ہے کہ دیگر گروہ دشمن کے ایجنٹ بن کر قومیت کی بنیاد یں کھوکھلی کرتے رہے ہیں یہ لوگ قاتل بھی ہیں اپنے بھائی بندوں کے،۔اب یہ صرف اپنے اقتدار کو بچانے یا صرف اقتدار میں شامل رہنے کیلئے مخلوط حکومت کے نظریے کو تقویت دے رہے ہیں مخلوط حکومت کے تصور کو عملی شکل دینا خاصا مشکل ہے لیکن امریکہ و انڈیا اس حوالے سے تابڑ توڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن نتائج بارے ابھی کچھ کہنا ذرا مشکل ہے۔

سوم: افغانستان میں فاتح گروہ جس نے امریکی سپرطاقت کو شکست دی ہے،تن تنہا حکومت بنائے اسے دیگر تمام گروہ قبول کر لیں۔بظاہر یہ مشکل نظر آتا ہے کہ اپنے آپ کو حکمران سمجھنے والے گروہ، جنگجو گروہ اپنے آپ کو شکست خور دہ سمجھ کر خاموش رہیں اور طالبان کی سیادت مان لیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان پر طالبان بلا شرکت غیرے حکمران رہے ہیں انہوں نے اپنی سیادت، فہم و فراست اور برد باری ثابت کر دکھائی ہے۔ طالبان کے افغانستان میں پو پی کی کاشت مکمل طور ہر ختم کر دی گئی تھی۔جرائم پیشہ گروہ زیر زمین چلے جانے پر مجبور ہو گئے تھے اسلحہ کا آزادانہ استعمال ممنوع ہو گیاتھا افغانستان جیسے منقسم ملک میں طالبان نے اپنی رٹ قائم کر دکھائی تھی۔9/11کے بعد امریکی اتحادیوں نے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا پھر 19سال تک طالبان نے امریکیوں کے ساتھ لڑکر انہیں شکست دے کر اپنی بہادری اور عسکریت کا بھی ثبوت فراہم کر دیا ہے امریکی جنہیں بنیاد پرست،وحشی اور دہشت گرد کہتے تھے جارج بش نے تو انہیں چوہے بھی کہا تھا لیکن ان چوہوں نے امریکی بوری میں اتنے سوراخ کئے کہ وہ خالی ہو گئی انہی چوہوں کے ساتھ امن مذاکرات کرنے کیلئے ”شیر“ایک عرصے تک ترلے لیتا رہا۔پاکستان کی منتیں کرتا رہا کہ میرے ان کے ساتھ یعنی امریکہ کے طالبان کے ساتھ مذاکرات کراؤ کیو نکہ امریکہ کیلئے افغانستان میں لڑنا مشکل سے مشکل تر ہوتا چلا جا رہا تھا۔

مذاکرات ہوئے اور امریکی جنگی مشن نومبر 2020ء میں ختم ہونے جا رہا ہے امریکی کوشش کر رہے ہیں کہ مخلوط حکومت قائم ہو جائے سب مل جل کر رہیں اور غدار سزا سے بچ جائیں ہمیں یاد ہے کہ طالبان نے اشتراکیوں کے پٹھو حکمران ڈاکٹر نجیب اللہ کو محفوظ پناہ گاہ سے نکال کر پھانسی دی تھی عبرت کا نشا نہ بنایا تھا وہ غدارِ وطن تھا۔حملہ آوروں کا ساتھی تھی۔یہ افغانوں کی تاریخ ہے کہ ان میں غدار بھی ہوتے ہیں لیکن یہ بھی تاریخ ہے کہ غداروں کا حشر نشر ہوتا ہے تاریخ کا سبق یہ ہے کہ اس سے لوگ سبق نہیں سیکھتے اور تاریخ اپنے آپ کو دھراتی ہے۔اگر یہ بات درست ہے تو پھر افغانستان میں مخلوط حکومت قائم نہیں ہو سکے گی فاتح اور مفتوح اکھٹے نہیں مل بیٹھیں گے۔افغانستان میں ایک نئی جنگ شروع ہو گئی اقتدار کی جنگ۔علاقائی حالات کا بھی تقاضا ہے کہ افغانستان میں پاکستان دوست حکومت قائم ہو۔طالبان پاکستان کے دوست ہیں ان کی بقاء اور استقرار بھی اسی بات میں ہے کہ وہ خطے میں امن و امان قائم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

مزید :

رائے -کالم -