اے سیاست تیرے انجام پہ رونا آیا

اے سیاست تیرے انجام پہ رونا آیا
اے سیاست تیرے انجام پہ رونا آیا

  

میئر کراچی وسیم اختر اپنی میئر شپ کے اختتام سے چند دن پہلے پریس کانفرنس کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ ارے بھائی یہ کون سا موقع تھا آنسو بہانے کا، کیا عہدہ ختم ہونے کے غم میں یہ آنسو بہے یا اس نا اہلی پر جو اس طرح جاری رہی کہ پورا کراچی کچرے کا ڈھیر اور بارش کے پانی کا گندہ سمندر بن گیا۔ کارپوریشن کا اپنا بجٹ 24 ارب روپے سالانہ ہوتا تھا، اس لحاظ سے میئر کراچی وسیم اختر نے اربوں روپے اپنے ہاتھوں سے خرچ کئے یا لٹائے، مگر بے بسی کی تصویر بنے رہے۔ یہ ہماری سیاست کا ایک گدلا چہرہ ہے کہ اس میں کسی کا بھی انجام اچھا نہیں ہوتا، وہ کبھی ظاہری اور کبھی باطنی ٹسوے بہاتا ہوا رخصت ہوتا ہے۔ یہ تو حسرت ہی رہی کہ کبھی ہمارا کوئی سیاستدان فخریہ انداز سے یہ کہتا ہوا رخصت ہو کہ دیکھو میں نے اپے دورِ حکمرانی میں ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کے لئے کیا کچھ کیا، جو بھی گیا ہزار داستان چھوڑ گیا۔ نوازشریف جیسا تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والا شخص بھی آخر میں مجھے کیوں نکالا کی گردان کرتے رخصت ہوا۔ جاتے ہوئے اس کے ہاتھ میں بھی ناکامیوں، کرپشن اور بندر بانٹ کے الزامات کا کشکول تھا۔ آج اسی سیاست کے ہاتھوں کتنے لوگ نشانٍِ عبرت بنے ہوئے ہیں کوئی ایک ہاں صرف کوئی ایک بتا دیں جو فخریہ طور پر سینہ تان کے کہے کہ دیکھو میں ہوں وہ سیاستدان جس کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں اور جس نے سیاست کو عبادت سمجھ کے اپنا وقت پورا کیا ہے۔

ہم پاکستانیوں کی تو بس خواہش ہی رہی کہ کوئی قائد اعظمؒ جیسا دوسرا سیاستدان مل جائے، جس کی سیاست پر پوری قوم فخر کرے۔

لیکن ایسی خواہشات ایک کرپٹ معاشرے میں کیسے پوری ہو سکتی ہیں یہاں تو ہر دامن داغدار ہے اور جو بھی سیاست کے خار زار میں آیا اس نے اپنے گریبان کو لیر و لیر کر لیا۔ میں اس دہائی کو نہیں مانتا کہ اس ملک میں اسٹیبلشمنٹ نے سیاستدانوں کو چلنے نہیں دیا یہ تو اس وقت کہنا مناسب تھا کہ سیاستدانوں نے اپنا دامن صاف رکھا ہوتا۔ کرپشن میں لتھڑے ہوئے سیاسی دامنوں کے ساتھ کوئی کیسے مقابلہ کر سکتا ہے ہاں صرف ایک ذوالفقار علی بھٹو کی مثال ایسی ہے کہ جس کا دامن کم از کم کرپشن کی آلودگی سے پاک تھا۔ لیکن ان کی سیاست کا انجام بھی درد ناک ہوا انہیں بھی نشان عبرت بنایا گیا کیونکہ وہ سیاست کو عوام کی خدمت سمجھ چکے تھے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد وہ بھی ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے تھے۔ ان کا جذباتی ہونا اپنے اقتدار سے زیادہ سیاست اور جمہوریت کی بساط لپیٹے جانے کی وجہ سے تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ اقتدار کے بعد اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاہم ان کا انجام سیاست کی آبرو بچا گیا۔ وہ سیاست میں ایک بدنامی کا داغ بن کر زندہ رہنے کی بجائے ایک جمہوریت نواز سیاستدان کا مرتبہ پا کر امر ہو گئے۔ وہیں سے یہ تاثر عام ہوا کہ ملک میں سیاست کرنے والے اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ میں چبھتے ہیں۔ دونوں میں ایک کشمکش رہتی ہے اور جیت ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ جاتی ہے آج تک پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کو کبھی شکست نہیں ہوئی جب ہوئی سیاست کو ہوئی اس کا انجام کبھی عوام کو رلا گیا اور کبھی اس پر عوام نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی نکلا کہ سیاست زیر عتاب آتی رہی۔

آج پاکستان میں سیاست کی علامت بننے والے دو بڑے سیاسی خانوادے یعنی شریف اور بھٹو خاندان مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ نوازشریف بیرون ملک مقیم ہیں اور پاکستان میں صرف ان کی بیٹی لندن جانے کا انتظار کر رہی ہے شہباز شریف بھی دور ابتلا کا شکار ہیں  اور سوائے حمزہ شہباز کے جو نیب کی حراست میں ہیں، ان کے خاندان کا کوئی فرد پاکستان میں نہیں اب اس بحث کا کوئی نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے کہ نوازشریف کو سیاست کی سزا ملی یا کرپشن کی۔ ان کے حامی سیاست کا کیا دھرا قرار دیتے ہیں اور مخالفین لوٹ مار کا نتیجہ۔ لیکن ہر دو صورتوں میں بنیادی نکتہ تو یہی ہے کہ نوازشریف کو سیاست نے اس انجام تک پہنچایا ہے، وہ اس الزام سے تو بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ انہوں نے نا جائز اثاثے بنائے اور سیاست سے ملنے والی حکمرانی کو لوٹ مار کے لئے استعمال کیا۔ وہ سزا یافتہ ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات ثابت بھی ہو چکے ہیں میں یونہی چشم تصور سے خیالی دنیا میں جا کر جب یہ دیکھتا ہوں کہ نوازشریف جیسا مقبول لیڈر جس کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں، جس نے اربوں کھربوں کے اثاثے نہیں بنائے بلکہ اپنی جائز آمدن سے اپنے معاملات کو صاف و شفاف رکھا، سیاست کو عوام کی خدمت کا ایک ذریعہ سمجھا اور اُن کے حالات بدلنے کے لئے دن رات کام کیا تو اس کے گرد کسی اسٹیبلشمنٹ کا گھیرا تنگ نہیں ہوتا کیونکہ عوام اس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اسے یہ بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ یہ ہیں وہ ذرائع جن سے لندن میں فلیٹ خریدے، کیونکہ لندن میں تو ان کے کوئی فلیٹس ہیں ہی نہیں،

ان کا تو سب کچھ پاکستان میں ہے، اور وہ بھی ہر جگہ ڈکلیئر شدہ، ایسے میں سیاست بھلا ان کے لئے نشانِ عبرت کیسے بنتی کون سی نیب، کون سی عدالت انہیں سزا سناتی۔ وہ تو خم ٹھونک کے عوام کے درمیان موجود رہتے اور ان کی حفاظت خود عوام کرتے، مگر یہ خیالی دنیا کی باتیں ہیں حقیقت یہ ہے کہ نوازشریف جیسا تین بار وزیر اعظم بننے والا لیڈر بھی یہ نہ سمجھ سکا کہ لیڈر کیسے بنتا ہے۔ ایک بار مجھے جاوید ہاشمی نے بتایا کہ انہوں نے قاسم روڈ ملتان کینٹ پر اپنی جائیداد بیچ کر ایک بڑی کوٹھی اس لئے خریدی کہ پاکستان میں سیاست کرنے کے لئے ایک بڑے ڈیرے کا ہونا ضروری ہے، اگرچہ اب وہ اس بات کے قائل نہیں رہے اور بڑی کوٹھی سے چھوٹی کوٹھی میں منتقل ہو گئے ہیں، تاہم پاکستانی سیاست کا یہ المیہ ضرور رہا ہے کہ اس میں عام آدمی سیاست کی دنیا میں قدم رکھ ہی نہیں سکتا، اس لئے ہر سیاستدان سیاسی عہدہ ملتے ہی یہ ضرور کوشش کرتا ہے کہ اپنے آپ کو غربت سے نکال کے امارت میں داخل کرے یوں وہ سیاست کے گرداب میں پھنستا چلا جاتا ہے۔

اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اس سیاست نے لوگوں کو سائیکل سے پجارو تک پہنچایا۔ سیاست کو عوامی خدمت کی بجائے ہمیشہ ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا گیا اور اب بھی کیا جا رہا ہے ہمیں اس وقت بھی بہت حیرت ہوتی تھی جب عمران خان یہ کہتے تھے کہ اقتدار میں آکر مالی فائدے اٹھانے والوں کو پارٹی سے نکال دیں گے۔ آج دو سال بعد ان کی سیاست کا محور بھی یہی ہے کہ ارکانِ اسمبلی کو خوش رکھا جائے حتیٰ کہ اتحادیوں کی کوئی خواہش بھی رد نہ کی جائے گویا چہرے بدل گئے روایت نہیں بدلی۔ جب اس دور کا اختتام ہو گا تو کئی فائلیں اس کی بھی کھل جائیں گی۔ آج کے صاحبانِ اقتدار جب نیب کی گرفت میں آئیں گے تو اسی طرح واویلا کریں گے جس طرح آج اپوزیشن کر رہی ہے۔ یہی پاکستان کی سیاست ہے اور یہی اس کا انجام ہے اب کوئی روئے یا ہنسے یہ اس کی اپنی مرضی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -