انڈین فضائیہ کو 42فائٹر سکوادرنوں کی ضرورت کیوں؟(2)

انڈین فضائیہ کو 42فائٹر سکوادرنوں کی ضرورت کیوں؟(2)
انڈین فضائیہ کو 42فائٹر سکوادرنوں کی ضرورت کیوں؟(2)

  

گزشتہ کالم میں ہم بات کررہے تھے کہ انڈین ائر فورس کو 42عدد لڑاکا سکواڈرنوں کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ جہاں تک پاکستان ائر فورس کا تعلق ہے تو اس کے پاس تو انڈیا کے مقابلے میں نصف سکواڈرن ہیں۔ ان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ ویسے بھی جہاں تک بھاری اسلحہ جات کا تعلق ہے تو ان کا نتیجہ تعداد سے کم اور استعداد سے زیادہ ہوتا ہے۔ جو لوگ یہ اسلحہ استعمال کرتے ہیں ان کی فنی استعداد کی داد دینی چاہیے۔

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں گزشتہ برس 27فروری کو پاکستان نے انڈیا کے جو دو عدد SU-30 مار گرائے تھے اور ان کے ایک پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا تھا تو اس کا کوئی جواب بھارتی فضائیہ کے پاس نہیں تھا۔ بھارت اپنی اس سبکی کا جواب دینے کے لئے بہانے ڈھونڈتا رہا ہے اور اس کا ایک لولا لنگڑا بہانہ یہ بھی ہے کہ حکومتِ ہند کی طرف سے چونکہ اس کی فضائیہ کو 42عدد فائٹر سکواڈرن نہیں دیئے گئے اس لئے اب وہ صرف 33سکواڈرنوں سے چین اور پاکستان دونوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اس کا ایک بہانہ یہ بھی تھا کہ اس کے بیشتر لڑاکا طیارے چونکہ چین کے خلاف صف بند ہیں، اس لئے پاکستان کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی اور اسی لئے اس کو 27فروری کا سانحہ پیش آیا…… کوئی انڈین ائر فورس کے ائر چیف سے یہ بھی پوچھے کہ اگر پاکستان کے خلاف ان کے پاس کافی تعداد میں لڑاکا طیارے نہیں تھے تو 26 فروری کی شب بالاکوٹ پر حملہ ہی کیوں کیا گیا تھا؟

ہم پاکستانی بھی اپنی ائر فورس سے سوال کر سکتے ہیں کہ انڈین ائر فورس ایل او سی کو عبور کرکے بالاکوٹ پر حملہ آور ہوئی تو ہمارا راڈار نیٹ ورک کیا کر رہا تھا؟…… کیا بالاکوٹ کا جواب دینے میں عمداً تاخیر کی گئی؟……کیا انڈین ائر فورس کو یہ تاثر دیا گیا کہ پاک فضائیہ کی چوکسی کمزور ہے اور اسی لئے اگلے روز 27فروری 2019ء کو صبح کے دس بجے انڈیا نے اپنے لڑاکا طیارے بھیج کر پاکستان کی چوکسی کی کمزوری کا ’فائدہ‘ اٹھانے کی کوشش کی …… اور مار کھائی!…… اگر یہ بات درست تھی تو یہ ٹیکٹیکس کامیاب رہے۔ انڈیا کو دوبارہ اس قسم کی حرکت کرنے کی جرات نہ ہوئی اور شائد آئندہ بھی نہ ہو۔

انڈیا نے چین کے ساتھ بھی یہی پنگا لیا۔ اور خواہ مخواہ اپنے 20سولجرز کا نقصان اٹھایا…… اور پھر خاموش ہو کر بیٹھ گیا…… کیا گہرائی سے ٹی۔90ٹینک اٹھا کر لداخ میں صف بند کرنا اور رافیل کی آمد کا ڈنکا بجانا اپنے 20جوانوں / افسروں کی ہلاکت کی تلافی کر سکتا ہے؟ ابھی کل ہی میں یہ خبر بھی کسی انڈین میڈیا پر دیکھ رہا تھا کہ انڈین ملٹری کے چیف آف ڈیفنس سٹاف، جنرل بپن راوت فرما رہے تھے کہ اگر چین کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو گئے تو پھر جنگ کی آپشن تو ٹیبل پر دھری ہے!…… چین اور بھارت میں لداخ کے سوال پر مذاکرات کے 6دور ہو چکے ہیں اور چین نے ابھی تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ اپنے ٹروپس کو مئی 2020ء والی پوزیشن پر واپس لے جانے پر رضامند ہے۔ چین کی PLA وادیء گلوان میں جہاں آکر بیٹھ گئی ہے، وہ وہاں جم کر بیٹھی رہے گی اور چینی قیادت (سول اور ملٹری) واشگاف الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ لداخ اور کشمیر متنازعہ علاقے ہیں۔ انکا تصفیہ ہونا چاہیے اور جب تک یہ نہیں ہوگا، چینی افواج (گراؤنڈ اور ائر) وہیں ڈٹی رہیں گی، جہاں اب ڈٹی ہوئی ہیں …… ایسی صورتِ حال میں انڈیا کی عسکری لیڈرشپ کا یہ کہنا کہ ساری آپشنز ٹیبل پر ہیں چہ معنی دارد؟ جنرل راوت، اجیت دوول اور راج ناتھ سنگھ کی آپشنز کی خبر پڑھ کر مرحوم سلطان راہی کی بڑھکیں یاد آتی ہیں …… چلئے انڈین ائر فورس کی بات کا سلسلہ وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں کل چھوڑا تھا۔

اس وقت انڈین ائر فورس میں لڑاکا طیاروں کا جو بیڑا (Fleet) ہے اس میں مگ۔21 (Bison)، جیگوار، میراج 2000، مگ۔129،  SU-30MKI اور تیجا (Teja) قسم کے لڑاکا طیارے ہیں۔ یہ تیجا، لائٹ کمبٹ ائر کرافٹ ہے۔اور اس کے علاوہ اس کے پاس برطانوی ہاک (Hawk) بھی ہیں جن کو 2014ء میں IAF میں شامل کیا گیا تھا۔ جو قارئین اس کی تفصیل جاننا چاہیں، وہ گوگل پر جا کر دیکھ سکتے ہیں۔

مگ۔21  (Bison)، جیگوار، میراج 2000 اور مگ 29کی وسط مدتی اَپ گریڈیشن ہو چکی ہے یعنی ان کی ابتدائی تکنیکی اہلیتوں کو جدید بنایا جا چکا ہے۔ ان کی ایوی آنکس کو سپیرئر ہارڈوئر اور سافٹ وئر میں تبدیل کرکے ہتھیاروں کا وزن بڑھانے اور اٹھانے کے قابل بنا دیا گیا ہے اور یہی کچھ نیوی گیشن اور راڈارکے شعبوں میں بھی کیا جا چکا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ ان طیاروں کی فائر پاور زیادہ ہو گئی ہے، اسلحہ جات کی ڈلیوری زیادہ درست ہو گئی ہے، جدید ایوی آنکس لگانے سے پائلٹ کو آسانی ہو گئی ہے، نیوی گیشن بھی آسان ہو گئی ہے اور زمین پر اور فضا میں محوِ پرواز طیاروں کے ساتھ مواصلات قائم کرنے میں تیزی اور آسانی آ گئی ہے۔ جدید اصطلاحی مفہوم میں یہ طیارے چوتھی نسل یا چوتھی نسل سے بھی کچھ آگے (Plus)نکل گئے ہیں۔ رافیل کا بڑا شہرہ سنا اور سنایا جا رہا ہے لیکن اصطلاحی مفہوم میں یہ طیارہ بھی اپنے بہتر اسلحہ (Weapons) اور ایوی آنکس کے پیش نظر چوتھی جنریشن پلس کا طیارہ کہلاتا ہے۔ یعنی اب انڈین ائر فورس کے پاس جو لڑاکا طیارے موجود ہیں وہ سب چوتھی نسل کے طیارے ہیں اور ان میں رافیل کا مرتبہ اس لئے بلند تر ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی جدید تر ہے اور اَپ گریڈیشن والی ٹیکنالوجی سے قدرے بہتر ہے۔ 

مگ۔21 (Bison) کے تین سکواڈرنوں کو چھوڑ کر باقی طیاروں میں فضا میں ایندھن لینے کی سہولت موجود ہے جو اَپ گریڈیشن سے پہلے نہیں تھی۔ اب ان طیاروں کو کسی بھی ائر فیلڈ پر لینڈ کرکے ایندھن لینے کی ضرورت نہیں۔ اس سے وقت کی بچت ہوتی ہے اور دشمن کے دور افتادہ اہداف پر پہنچنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ انڈیا نے 2003ء میں رشیا سے ایلیوش۔78 (Illushyin 78)قسم کے ٹینکر طیارے حاصل کر لئے تھے جو دورانِ پرواز کسی بھی لڑاکا طیارے میں ایندھن بھر سکتے اور اس طرح اس کی رینج میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

انڈین ائر فورس اب مگ۔21 طیاروں کو بتدریج SU-30MKI سے تبدیل کر رہی ہے آج انڈیا کے پاس SU-30MKI  کے بارہ سکواڈرن (یعنی 21 6 طیارے) موجود ہیں۔ یہ SU-30MKI ہر لحاظ سے مگ۔21 پر فوقیت رکھتا ہے یعنی اس میں ویپن (اسلحہ جات) اٹھانے کی صلاحیت، ایندھن سٹور کرنے کی گنجائش اور تفویض کردہ مشنوں (Missions) کی تکمیل کی اہلیت موجود ہے۔یہ SU-30MKI   8.5 ٹن ویپن اٹھا کر پرواز کر سکتا ہے جبکہ مگ۔21 میں صرف2ٹن وزن اٹھانے کی سکت تھی۔دوسرے لفظوں میں جہاں تک فائر پاور کا تعلق ہے تو ایک SU-30MKI  چار مگ۔21 لڑاکا طیاروں کے برابر ہے……

(بائی دی وے، ہم پاکستانیوں نے 27فروری 2019ء کو اس SU-30MKI کا حشر تو دیکھ ہی لیا تھا۔ وہ پرانا عسکری مقولہ یاد کیجئے کہ توپ نہیں بلکہ توپ کے پیچھے بیٹھا توپچی Matterکرتا ہے!)

اور جہاں تک رینج کا تعلق ہے تو SU-30MKI کی رینج مگ۔21سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ طیارہ نہ صرف اپنے (انڈین) علاقے میں ایک مستقر سے دوسرے مستقر تک سفر کرنے میں دیر نہیں لگاتا بلکہ دشمن کے اندر دور تک جاکر مار کر سکتا ہے۔ دورانِ پرواز ایندھن لینے کی اہلیت نہ صرف اس کو دشمن کے علاقے میں دور دراز اہداف تک لے جاتی ہے بلکہ اگر ضرورت ہو تو ان اہداف پر پرواز کرتے رہنے کی اہلیت سے بھی بہرہ ور کرتی ہے۔ یہ طیارہ ائر ڈیفنس اور گراؤنڈ اٹیک مشنوں کے لئے ایک مثالی طیارہ ہے…… دوسرے لفظوں میں SU-30MKI کے 12سکواڈرن مگ۔21 کے 24سکواڈرنوں کے مساوی ہیں۔

2009ء میں انڈین ائر فورس نے Awacsطیارے بھی حاصل کر لئے تھے۔ ان میں حساس راڈار، حساس سنسر اور حساس کمپیوٹر نصب ہوتے ہیں۔ یہ طیارے دشمن طیاروں کی آمد سے اپنے طیاروں کو قبل از وقت خبردار کرتے ہیں۔ یہ Awacsاپنے ملک کی سرحدوں میں رہ کر راڈاروں کی مدد سے دور تک دشمن کے اندر دیکھ سکتے ہیں۔ انڈیا نے روس سے ایس۔400ائر ڈیفنس سسٹم کی خرید کا معاہدہ بھی کر رکھا ہے اور یہ سسٹم اسے عنقریب ملنے والا ہے۔ اس سسٹم میں بیک وقت فضا سے زمین پر اور فضا سے فضا میں حملہ آور میزائلوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے…… انڈیا کے پاس اب اٹیک ہیلی کاپٹر بھی ہیں۔ ان میں امریکی اپاچی، رشین MI-25/35 اور خانہ ساز ہلکے ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ یہ ہیلی کاپٹر دشمن کے اہداف کو فضا سے زمین پر نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بناتے ہیں۔

اب رافیل طیارے بھی انڈیا کو مل رہے ہیں۔ انڈیا نے فرانس سے کل 36رافیلوں کا سودا کیا ہوا ہے۔ ان طیاروں کی وجہ سے بھارتی فضائیہ کی کمبٹ اہلیت، فضائی برتری، لانگ رینج سٹرائک اور ائر ڈیفنس میں اضافہ ہوگا اور چین اور پاکستان کے خلاف اس کی قوتِ حرب و ضرب میں بظاہر بہتری کی امیدیں لگائی جا رہی ہیں۔ اس لئے کئی بھارتی تجزیہ نگار لکھ رہے ہیں کہ اگرچہ انڈیا کے پاس آج 33لڑاکا سکواڈرن ہیں لیکن اسے 42سکواڈرنوں کی ضرورت نہیں۔

میں آخر میں قارئین کی خدمت میں دو تین ایسے حقائق رکھنا چاہتا ہوں جو درجِ بالا عددی برتری کو خاطر میں نہیں لاتے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جب طبلِ جنگ پر چوٹ پڑتی ہے تو کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کتنے طیارے کتنے دنوں کے لئے کافی ہوں گے۔1965ء کی پاک بھارت جنگ میں ہمارے ایک پائلٹ نے چشم زدن میں انڈیا کے پانچ طیارے مار گرائے تھے۔ دوسری جنگ عظیم میں یہ منظر بار بار دیکھا گیا کہ ایک محاذ پر طیاروں کا روزانہ نقصان درجنوں میں تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا انڈیا کے پاس، جنگ کی صورت میں، گرائے جانے والے طیاروں کا بدل کہیں سے مل سکے گا؟ یہ بہت ہی اہم سوال ہے…… دوسرے اگر انڈیا، پاکستان اور چین دونوں کو بیک وقت ”نمٹانا“ چاہتا ہے تو اس مقابلے میں اس کے طیاروں اور پائلٹوں کا نقصان ناقابل تلافی حدوں تک بھی جا سکتا ہے…… اور تیسرے ٹیکنالوجی جس طرح روز بروز آگے بڑھ رہی ہے اس کے پیش نظر اگر انڈیا کے پاس ایک S-400 سسٹم ہو گا تو شائد چین کے پاس اس طرح کے دس سسٹم ہوں اور پاکستان کے بارے میں انڈیا کوئی حکم نہیں لگا سکتا…… آئندہ اگر جنگ ہوئی تو پہلے دوچار دنوں میں معلوم ہو جائے گا کہ کون کس کے ساتھ اور کتنے پانی میں ہے۔ جنوبی ایشیا کا یہ خطہ محض انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے عبارت نہیں بلکہ اس میں آنے والے دور میں CPEC اور BRI کے طفیل بہت سے دوسرے ممالک بھی ’شریک‘ ہو سکتے ہیں …… اگر یہ روائتی جنگ بھی ہوئی تو تیسری عالمی جنگ ہوگی جس کا خاتمہ شائد ہیروشیما یا ناگاساکی تک نوبت آنے سے پہلے پہلے ہو جائے! (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -