ہر ضلع میں مقررہ نرخوں پر آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا، عبدالعلیم خان 

           ہر ضلع میں مقررہ نرخوں پر آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائیگا، ...

  

 لاہور(لیڈی رپورٹر)سینئر و وزیر خوراک پنجاب عبدالعلیم خان کی زیر صدارت مختلف اضلاع کے کوآرڈنیٹرز کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر ضلع میں گندم و آٹے کی مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی اور کسی بھی جگہ قلت کی فوری نشاندہی عمل میں لا کر شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جا ئے گا۔ اسی طرح ضلعی کو آرڈنیٹرز ذخیرہ اندوزی اور اوور چارجنگ کی شکایات بھی سامنے لائیں گے اور ہر ضلع میں مقررہ نرخوں پر آٹے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ سینئر و وزیر خوراک عبدالعلیم خان نے ضلعی کو آرڈینیٹرزکو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع میں ٹاؤن کی سطح پر مزید کمیٹیوں کی تشکیل عمل میں لائیں تاکہ تحصیل لیول پر گندم و آٹے کی صورتحال کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔انہوں نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں سرکاری گندم کے اجراء کے لئے فلور ملز کی مشاورت سے میکنزم تشکیل دیا گیا تھا اب چینی کی ریگولیٹری پالیسی پر بھی مشاورت ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں آٹے کی سبسڈی کا نیا طریقہ کار لایا جا رہا ہے جس میں ٹارگٹڈ سبسڈی متعارف کرائی جا ئے گی اور اس پر محکمہ خوراک میں کام شروع کر دیا گیا ہے۔ سینئر و وزیر خوراک عبدالعلیم خان نے بتایا کہ پنجاب حکومت سبسڈی پر اربوں روپے خرچ کر رہی ہے جبکہ کسانوں سے گندم خرید کر فلور ملز کو کم نرخوں پر دینے میں بھی بھاری فنڈز خرچ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 90سے95فیصد صارفین کو 20کلو آٹے کا تھیلا 860روپے کے مقررہ نرخوں پر مل رہا ہے البتہ چکی اور فائن آٹا اس سے مستثنیٰ ہے جسے صرف 5فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں۔انہوں نے ضلعی کو آرڈینیٹرزسے کہا کہ وہ محکمہ خوراک کے اشتراک سے اپنی سرگرمیاں تیز کریں اور اپنے اپنے اضلاع میں شہریوں کی سہولت کے لئے گندم و آٹے کی موثر نگرانی کو یقینی بنائیں اور اس سلسلے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔  اجلاس میں صوبائی وزیر میاں خالد محمود نے ضلعی اور تحصیل کی سطح پر کو آرڈینیٹرز کی ورکنگ کے حوالے سے مختلف تجاویز پیش کیں۔پارلیمانی سیکرٹری برائے محکمہ خوراک رائے ظہور احمد کے علاوہ لاہور،ملتان، سیالکوٹ، شیخوپورہ،رحیم یار خان،نارووال، سرگودھا، گجرات اور قصور سمیت 25اضلاع سے کو آرڈینیٹرز نے اس اجلاس میں شرکت کی اور مختلف امور پر سینئر وزیر عبدالعلیم خان کو سفارشات پیش کیں۔اجلاس میں تمام شرکاء کے مابین باہمی رابطہ رکھنے اور واٹس ایپ گروپ تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ 

عبدالعلیم خان 

مزید :

صفحہ آخر -