افغانستا ن، جنگ اور امن مذاکرات جاری، جھڑپوں میں 14افراد ہلاک، 45زخمی 

    افغانستا ن، جنگ اور امن مذاکرات جاری، جھڑپوں میں 14افراد ہلاک، 45زخمی 

  

 کابل(آئی این پی)افغانستان میں طالبان اور سیکیورٹی فورسزکے مابین افغان امن معاہدے کے باوجود جھڑپیں جاری ہیں، طالبان کی جانب سے افغان فورسز کے کمانڈو اڈے پر کئے گئے ایک ٹرک بم حملے اور دیگر جھڑپوں میں کم از کم 14افراد جاں بحق جبکہ 45زخمی ہو گئے، ٹرک بم حملے میں 2افغان کمانڈوز اور ایک شہری جاں بحق ہوا جبکہ 35شہری زخمی ہوئے،طالبان کی جانب سے صوبہ غور میں کئے گئے حملے میں 11فوجی جاں بحق جبکہ 7افرادزخمی ہوئے،کابل میں سڑک کنارے نصب بم حملے میں خاتون پولیس آفیسر اور اس کا ڈرائیور زخمی ہوا۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان حکام نے بتایا کہ منگل کے روز پورے افغانستان میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 14افراد ہلاک اور45 زخمی ہوگئے۔صوبائی گورنر کے ترجمان منیر احمد فرہاد کے مطابق ٹرک خودکش بمبار نے شمالی صوبہ بلخ میں حملہ کیا، جس میں دو افغان کمانڈوز اور ایک شہری سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے۔شمال میں افغان فوج کے کارپوریشن کے ترجمان حنیف رضائی نے کہا ہے کہ بتایا کہ اس دھماکے میں کم از کم چھ کمانڈوز اور لگ بھگ 35شہری زخمی ہوئے،حملے میں قریب ہی موجود درجنوں شہریوں کے مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔زخمی ہونے والے عام شہریوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں بلخ حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دسیوں فوجی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ صوبائی گورنر کے ترجمان عارف عبر نے بتایا کہ منگل کو ہی مغربی صوبے غور میں حکومت نواز فورسز کی ایک چوکی پر حملے میں آٹھ فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ ضلع شہرک میں اس حملے میں پانچ گھنٹوں کی جنگ لڑی گئی۔ ایک اور حملے میں کابل کے پولیس چیف کے ترجمان فردوس فرامارز نے بتایا کہ دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک جبکہ ایک پولیس خاتون اور اس کا ڈرائیور زخمی ہوگئے۔واضح رہے کہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین انٹرا افغان مذاکرات جاری ہیں اور ایک دوسرے کے قیدیوں کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ 

افغان جھڑپیں 

مزید :

صفحہ آخر -