کورونا تو کمزرو پڑ گیا مگر نادرا میگا سنٹر میں بیٹھے ملازمین کے ”تیور“ نہ بدلے، سائلین خوار 

      کورونا تو کمزرو پڑ گیا مگر نادرا میگا سنٹر میں بیٹھے ملازمین کے ”تیور“ ...

  

 لاہور(افضل افتخار)ملک میں کورونا کیسز میں کمی اور دفاتر کھلنے کے بعد کی صورت حال میں نادرا میگا سنٹر شملہ پہاڑی کی صورت حال ابتر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ نادرا دفاتر کی بندش اور کھلنے کے بعد مختلف ضرورتوں اور مجبوریوں کے ساتھ شہری جب میگا نادرا سنٹر پہنچتے ہیں تو کئی قسم کی مشکلات ان کا استقبال کرتی ہیں ڈیلی پاکستان کے سروے کے مطابق کورونا تو کمزور پڑ گیا مگر نادرا میگا سنٹر میں بیٹھے بابوؤں کے نخرے نہیں بدلے۔ کسی بھی شہری کو سب سے پہلے تو پارکنگ کے نام پر کھڑے ”سرکاری ٹھیکیداروں“ کا سامنا ہو رہا ہے مگر اندر بھی ٹوکن ٹوکن کے نام پر کئی قسم کی ہیرا پھیریاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔جان پہچان اور سفارش یہاں خوب چلتی ہے جبکہ سادہ لوح شہریوں کو اپنے دام میں پھانسنے والے ”ٹاؤٹ“ بھی پوری طرح متحرک اور مصروف نظر آتے ہیں۔بیمار، بزرگ، خواتین اور بچوں کے ساتھ آنے والے لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شہری فراصت علی نے ”پاکستان“ کو بتایاکہ میں بیماروالدہ کو ساتھ لایا ہوں مگر ٹوکن ہونے کے باوجود پتہ نہیں کہاں سے لوگ ہم سے پہلے آ گئے اور میری بیمار والدہ کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑی، سبزہ زار سے آئے جلیل نے کہا کہ ایک ٹاؤٹ نے مجھ سے 5سو روپے مانگے کہ نہ انتظار نہ ٹوکن فوری باری آ جائے گی اس کا مطلب ہے نادرا مراکز سے ٹاؤٹ مافیا کا خاتمہ ابھی تک نہیں ہو سکا۔ یہ کیسی تبدیلی ہے۔ ایک شہری راشد نے کہا کہ کاؤنٹرز پر بیٹھے نادرا اہلکار کام کرنے کی بجائے اپنے موبائلز پر گیمز کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ کوئی طریقہ نہیں۔ ایک اور شہری طارق نے بتایا کہ آج کے دن میگا سنٹر میں مجھے تین بار آنا پڑا کچھ کاغذات لانے تھے اور یقین کریں کہ پارکنگ کے لئے مجھے سے ایک دن مبلغ 80روپے لئے گئے سڑک پر موٹرسائیکلیں کھڑی ہیں اور شہریوں سے لوٹ مار جاری ہے کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ گاڑی والوں سے تو مزید زیادہ پیسے لئے جاتے ہیں بزرگ شہری جمال ناصر نے کہا کہ اتنی دور ملتان روڈ سے اس سنٹر پہنچا ہوں اس عمر میں تو حکومت کو شناختی کارڈ میرے گھر دینا چاہیے تھا میرا کوئی نہیں جو مجھے یہاں لائے ویگنوں کے دھکے کھا کر آیا اور اب باری کے چکر میں خوار ہو رہا ہوں۔”پاکستان“ کو پتہ چلا کہ شہریوں کی متعدد شکایات درست ہیں اور میگا سنٹر کے آپریٹرز کی کام چوری، غفلت اور سستی سے شہریوں کو انتظار کی زحمت اٹھانا پڑتی ہے جبکہ دعوؤں کے باوجود ٹاؤٹ مافیا کا خاتمہ بھی نہیں ہو سکا عملہ کے لوگ سادہ لوح شہریوں کو بے جا اعتراضات میں الجھا کر پریشان کرتے ہیں جبکہ ڈیٹا ہونے کے باوجود بھی تصدیق کی شرائط عام شہری کے لئے بڑی پریشانی کا باعث ہیں جبکہ دوسری جانب ترجما ن نا درا کا کہنا ہے کہ عوام کو ترجیحی بنیا دوں پر سہولت فرا ہم کر نا ہما را اولین فر ض ہے اور ہما ری ہر ممکن کو شش ہو تی ہے کہ عوام کے مسا ئل کو فوری حل کر یں   انہو ں نے کہا کہ جہا ں تک رشوت اور سفا رش کی با ت ہے تو کچھ عنا صر ایسے مسا ئل پیدا کر تے ہیں لیکن جیسے ہی ہما رے علم میں ایسی کو ئی بھی با ت آ تی ہے تو ہم فوری طور پر ایکشن لیتے ہیں۔

نادرا میگا سنٹر

مزید :

صفحہ آخر -