رفیق تنولی شہید کے قاتل اب تک آزاد کیوں؟ لیاقت بلوچ 

          رفیق تنولی شہید کے قاتل اب تک آزاد کیوں؟ لیاقت بلوچ 

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہکراچی میں کشمیر ریلی بم حملے کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جو سری نگر میں ظلم کررہی ہیں، شہید رفیق تنولی کی شہادت کو کافی دن گزر گئے لیکن اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے قاتلوں کو کیوں گرفتار نہیں کیا؟ رفیق تنولی کا پاکیزہ خون ضرور رنگ لائے گا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کا ذریعہ بنے گا، مسلمانوں پر مظالم روکنے کیلئے عالم اسلام کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار نہوں نے جماعت اسلامی ضلع ملیر کے تحت کشمیر ریلی پر ؓم حملے میں شہید ہونے والے ناظم علاقہ قائد آباد رفیق تنولی شہید کی یاد میں فٹبال گراؤنڈ میں شہادت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہادت کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈپٹی سکریٹری کراچی انجینئر عبد العزیز،امیر ضلع ملیر محمداسلام،  سیکریٹری ضلع مفخر علی،پاک ہزارہ ویلفیئر کے صدر نعیم ایوان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ کشمیر ریلی میں شدید زخمی ہونے والے شوکت ربانی نے بھی شرکت کرکے شہید رفیق تنولی کو خراج عقیدت پیش کیا، ناظم علاقہ راجا ممتاز نے شہادت کانفرنس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر قرارداد پیش کی۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ آج رفیق تنولی کی شہادت اور حملے میں زخمی ہونے والے شوکت ربانی نے پیغام دیا ہے کہ کراچی کے مسائل کا حل جماعت اسلامی ہے،حکمران محض تسلی دینے کے سوا کچھ نہیں کرتے،آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک ہو جائیں اور کشمیر کو آزاد کرانے میں اپنا کردار ادا کریں، مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین عالم اسلام کے سلگتے مسائل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کے کارکنان نے حق بات کہنے میں کبھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لیا۔ہمیشہ اللہ کی کبریائی کو بلند کرتے رہے، ہر محاذ پر ثابت کیا کہ اہل ایمان کے ساتھ ہیں اور ضرور کامیابی کی منزل حاصل کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارا ایمان ہے، شہید اچھی جگہ پر ہیں،شہادت در حقیقت حق و سچ کی گواہی ہے، اللہ کی کبریائی اور انسانی خداؤں سے بغاوت کی گواہی ہے، آج ہم بھی اس عزم کا اظہار کررہے ہیں کہ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ ہی کے لیے ہے، ہم کشمیر کی آزادی اور جذبہ جہاد کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں نے صرف پوائنٹ اسکورنگ کے لیے پاکستان کے نقشہ کو تبدیل کیا، کاغذوں پر نقشہ تبدیل کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، تاریخ گواہ ہے کہ آزاد کشمیرقبائلیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آزاد کروایا تھا،حکمران سمجھ لیں کہ آدھا کشمیر بھی جہاد سے ملا تھا اور پورا کشمیر بھی جہاد سے ہی آزاد ہوگا، حکمران اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسے حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہوجائیں جو امریکہ کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ شہادت صرف مرنے کو نہیں بلکہ گواہی دینے والے کو کہتے ہیں، رفیق تنولی اس بات کی گواہی دے گیاکہ وہ سچ اور حق کے ساتھ تھا،جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو کشمیرکے مسئلہ کے حل  کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتی رہی بد قسمتی سے پاکستان میں  72 سال سے مسلط حکمران طبقہ ہی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ محمد اسلام نے کہا کہ رفیق تنولی کسی کی ذات کے لیے نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کے بے بس مسلمانوں کی آواز بننے کے کیے کشمیر ریلی میں شریک ہوا اور حکمرانوں کو غیرت دلاتا رہا کہ کشمیر میں مظلوم مسلمان کی آواز بنیں اور ظلم سے نجات دلائیں، شہید رفیق تنولی کا خون رنگ لائے گا اور کشمیر ضرور آزاد ہوگا۔# 

مزید :

صفحہ آخر -