ایف اے ٹی ایف سے متعلق اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد

      ایف اے ٹی ایف سے متعلق اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل سینیٹ سے مسترد

  

 اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ میں ایف اے ٹی ایف بل سے متعلق اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 مسترد کر دیا،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایوان میں گرما گرمی،قائد ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد کے ریمارکس پر اپوزیشن نے سخت احتجاج کیا، قائد ایوان نے اپوزیشن سے معذرت کرلی،وقفہ سوالات معطل کرنے پر بھی اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا،کورم کی کمی کے باعث اجلاس کی کارروائی نصف گھنٹہ معطل رہی۔ منگل کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت ہوا۔ اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 کیلئے تحریک سینیٹ میں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کی۔ سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہاکہ قائد ایوان آج کہتے ہیں یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے،پہلے قائد ایوان کہتے تھے یہ اپوزیشن کے ہیش کردہ مسائل ہیں، ہم تعاون کے لیے تیار ہیں لیکن یہ بتایا جائے کہ یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے یا نہیں؟۔ہم کیسے مان لیں یہ ڈیڈ لائینز میاں نواز شریف یا آصف زرداری کی وجہ سے ہیں،آج ہمیں بتایا جائے کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر دو دن پہلے وزادت خارجہ پر پابندی لگائی،اگر ہم ابھی مِل کر اس کو پاس کریں گے تو 5 منٹ بعد شہزاد وسیم کہیں گے کہ منی لانڈرنگ نواز اور زاردری کی وجہ سے ہے۔سینیٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ یہ نوکری پکی بنا رہا ہے اسے کرنے دیں،جو ایوان میں بات کی اسکے ہر لفظ پر کھڑا ہوں،اپوزیشن سے پوچھیں کہ انہیں منی لانڈرنگ سے کیا مسئلہ ہے۔جب منی لانڈرنگ کا لفظ آتا ہے تو فاضل دوست کیوں غصے میں آجاتے ہیں، لیڈر آف دی ہاؤس کی اس تقریر پر اپوزیشن اراکین نے شور شرابہ کیا۔اس دور ان قائد ایوان اور سینیٹر اسلام الدین شیخ کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔قائد ایوان نے آستینیں چڑھا کر اسلام الدین شیخ کو ایوان سے باہر نکلنے کے اشارے کئے۔مولا بخش چانڈیو نے کہاکہ قومی اسمبلی میں بھی ہم نے اس بل پر حکومت کا ساتھ دیا،بل منظور ہوتے ہی ایک مسخرے نے ہم پر تنقید شروع کردی،تین چار ممبر اس مسخرے کو داد دے رہے تھے،ہمارے قائد آصف زرداری پر تنقید کی گئی،اگر معافی نہ مانگی گئی تو ہم سینیٹ میں تعاون نہیں کریں گے،قومی مفاد ہمارا نہیں سب کا مشترکہ ہے۔ وزیر قانون دوسروں کو سمجھائیں حکومت چلائیں آگ نہ لگائیں،ہمیں پاکستان کا قومی مفاد عزیز ہے لیکن اپنی قیادت کو احترام بھی عزیز ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم شکر گزار ہیں اپوزیشن کے جنہوں نے پاکستان کا ساتھ دیاتاہم اسی دوران سینیٹر فیصل جاوید نے بلاول بھٹو کو بے بی قرار دیدیا اور کہا کہ یہ اپوزیشن کم اور چھوئی موئی زیادہ ہے۔بھارت اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ پاکستان ترقی نہ کرے،ہم اپوزیشن کو این آر او نہیں دینگے۔وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے کہاکہ یہ پاکستان کی قومی سلامتی کا بِل ہے،میں نے متعدد بار اپوزیشن کا شکریہ ادا کیا،یہ پی ٹی آئی یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ ملک کا معاملہ ہے۔ مشاہد اللہ خان نے کہاکہ ہمیں جو آنکھیں دکھائے گا اس کی آنکھیں نکال لیں گے اس پر قائد ایوان نے کہاکہ اپوزیشن کیلئے میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ اپوزیشن قومی سلامتی کے بجائے مالی تحفظ چاہتی ہیں۔ مشاہداللہ کی دھمکی ریکارڈ پر رکھیں،میں آپ کے لیے اکیلا کافی ہوں، یہ کسی غلط فہمی میں نہ رہیں؟،اصل میں مسئلہ ایف اے ٹی ایف بل میں ان کی کرپشن کا ہے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ اپوزیشن نے بہت گالیاں کھائیاں مزید مت کھائیں،ایک دفعہ ان لوگوں کو سبق سکھائیں یہ غیر جمہوری قوتوں کے وکیل ہیں،اْن قوتوں کی جانب سے ہی ان کو مسلط کیا گیاہے،پشتونخواہ عوامی پارٹی ان جمہوریت دشمنوں کا ساتھ نہیں دے گی۔لیڈر آف اپوزیشن راجا ظفرالحق نے کہاکہ جو ماحول آج خراب کیا اس پر تکلیف ہوئی،اپوزیشن کا موقف ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لے،اس کے بغیر کارروائی نہیں چلے گی،قائد ایوان صرف حکومت کا نہیں پورے ایوان کا ہوتا ہے،حکومتی ممبران سے کہتا ہوں کہ ہاؤس کی عزت اولین ہے،آپ سے گزارش ہے کہ انہیں سمجھا دے کہ الفاظ واپس لے۔ بعد ازاں سینٹ میں قائد ایوان شہزاد ایوان نے اپوزیشن سے معذرت کر لی۔ اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 سینیٹ میں مشیر پارلیمانی امور سینیٹر بابر اعوان نے پیش کیا،ایوان بالا نے اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل 2020 مسترد کردیا۔اپوزیشن کے احتجاج کے باعث اسلام آباد دارلخلافہ وقف املاک بل 2020بھی مسترد کر دیا گیا۔  منگل کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے تحریک پیش کی کہ 25 اگست کے لئے وقفہ سوالات معطل کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے ایوان سے تحریک کی منظوری لے کر وقفہ سوالات معطل کر دیا۔ اس دوران وقفہ سوالات معطل کرنے پر اپوزیشن نے احتجا ج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔ دریں اثناء ایوان بالا میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو اور اقتصادی امور کی رپورٹ پیش کرنے کی معیاد میں 24 اگست سے 30 ایام کار کی توسیع کی تحریک پیش کی گئی جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ جبکہ سینیٹ جلاس میں چھ قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹیں پیش کر دی گئیں۔بعد ازاں سینیٹ اجلاس (آج) بدھ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

بل مسترد 

مزید :

صفحہ اول -