نواز شریف کو واپس لانے کی منظوری، وفاقی کابینہ نے لیگل ٹیم کو ٹاسک دیدیا، اپوزیشن فٹیف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے، سابق وزیراعظم کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری: عمران خان 

      نواز شریف کو واپس لانے کی منظوری، وفاقی کابینہ نے لیگل ٹیم کو ٹاسک ...

  

   اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو وطن واپس لانے کی منظوری دیدی۔وفاقی کابینہ کااجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوا جس میں کابینہ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو واپس لانے کی منظوری دی۔ کابینہ نے فیصلہ کیاکہ نوازشریف قانون کے مجرم ہیں، واپس آکر مقدمات کا سامنا کریں کریں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کابینہ اجلاس میں ملک کی تازہ سیاسی صورت حال پر طویل مشاورت کی گئی  مریم نواز کی حالیہ سرگرمیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے مریم نواز کی عدم گرفتاری پر اظہار تشویش کیا اور کہاکہ مریم نواز نے نیب کے باہر جو کیا اس پر انہیں گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔ فیصل واوڈا نے کہاکہ کچھ بھی ہو جائے مریم نواز کو باہر نہیں جانے دیں گے۔ وزراء نے گزشتہ روز قومی اسمبلی اجلاس میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ بھی اٹھا یا۔ اراکین نے کہا کہ قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم کی جانب سے افسوس ناک زبان استعمال کی گئی۔ فیصل واوڈا نے کہاکہ عوام سے ووٹ گالیاں سننے کیلئے نہیں لئے تھے،آئندہ ہمیں گالی دی گئی تو منہ توڑ جواب دیں گے۔ وزراء نے کہاکہ سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کی عزت و تکریم کا بھی احساس نہیں کیا گیا، وزراء نے کہاکہ اسپیکر کو بدزبانی کے مرتکب ارکان کی رکنیت معطل کرنا چاہیے۔ اجلاس میں نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے قانونی طریقہ کار پر بھی مشاورت کی گئی۔حکومتی لیگل ٹیم نوازشریف کی واپس کے حوالے سے ٹاسک مل گیااجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خاننے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کو فوراً وطن واپس لایا جانا چاہیے اس کیلئے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے،۔ کسی بھی قسم کی کوئی بلیک میلنگ برداشت نہیں کرونگا، نواز شریف کو واپس لانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔جلاس کے دوران وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ ایم ایل ون منصوبہ میں پشاور تا طورخم سیکشن شامل کیا جائے۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے ایم ایل ون میں پشاور سے طورخم کا سیکشن بھی شامل کرنے کا حکم دیتے ہوئے مفصل رپورٹ طلب کر لی۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی پشاور تا طورخم سیکشن کو ایم ایل ون میں شامل کرنے کی حمایت کر دی،اْدھر وفاقی کابینہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے خلاف سیاسی محازتیز کرنے پر مشاورت بھی ہوئی، وفاقی کابینہ نے صارفین کی صحت اور تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے 61 فوڈ اور نان فوڈ آئیٹمز کو پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے کمپلسڑی سرٹیفیکیشن مارک سکیم میں ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کو مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوارڈینیشن بورڈ میں بطور ممبر تعینات کر نے،حکومت بلوچستان کی درخواست پر بلیدا ٹاؤن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ /پیکیج کیلئے فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) کی دو پلاٹونوں کی تعیناتی،چیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو بطور نمائندہ برائے پاکستان شپ اونرز ایسوسی ایشن کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں بطور ٹرسٹی تعینات کرنے اور سسٹینیبل ڈویلپمنٹ گولز اچیوومنٹ پروگرام کے حوالے سے گائیڈلائنز میں ترمیم کی منظوری دیدی وفاقی کابینہ نے حالیہ بارشوں کے نتیجے میں کراچی سمیت صوبہ سندھ کی عوام کو مشکلات کے حوالے سے اظہار تشویش۔ عوام کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے لئے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس کو کوٹا کے نظام خصوصاً سابقہ قبائلی علاقوں کے انضمام کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور ان علاقوں کی عوام کو ملک کے دیگر علاقوں کے برابر لانے کے حوالے سے کوٹا سسٹم کی افادیت پر بریف کیا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے کوٹا سسٹم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کم ترقی یافتہ اور پس ماندہ علاقوں اور طبقات کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کوٹا سسٹم پہلے کی طرح جاری ہے جس کا مقصد پس ماندہ لوگوں کو دیگر حصوں کے لوگوں کے برابر لانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوٹا سسٹم میں انصاف کو یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے آئین کے تقاضوں کے مطابق صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخواہ میں صوبائی مالیاتی ایوارڈ کمیشن کی تشکیل کے عمل میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔ کابینہ کو قانون کو مطلوب میاں نواز شریف کو وطن واپس لانے کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ کابینہ نے نوٹ کیا کہ میاں نواز شریف حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی رعایت کا ناجائز استعمال کے مرتکب ہوئے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ میاں نواز شریف کی جانب سے عدالت میں بیماری کو عذر بنا کر ضمانت کی درخواست کی گئی اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کی جانب سے بھی گارنٹی دی گئی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں 29اکتوبر 2019کو نواز شریف کو آٹھ ہفتے کیلئے ضمانت ملی، 16نومبر 2019کو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے میاں نواز شریف کا نام ای سی ایل سے ہٹانے اور چار ہفتوں کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی اس حوالے سے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف دونوں نے شخصی ضمانت دی۔ جس میں انہوں نے وطن واپسی، میڈیکل رپورٹس باقاعدگی سے جمع کرانے اور حکومت پاکستان کے نمائندے کی جانب سے میڈیکل رپورٹس کے معائنے پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرنے اور مکمل تعاون کرنے کی ضمانت دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ 23دسمبر2019کو میاں نواز شریف کے وکلاء کی جانب سے ضمانت میں توسیع کے لئے درخواست دی گئی۔ اس ضمن میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا اور 19,20اور 21فروری 2020کو پرسنل ہیرنگ کے لئے تین مواقع فراہم کیے گئے لیکن میاں نواز شریف نہ تو خود پیش ہوئے اور نہ کوئی نئی میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی۔ 27فروری 2020کو میاں نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست کو رد کر دیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ میاں نواز شریف کی روانگی کے وقت برطانوی حکومت کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے اور عائد شرائط سے آگاہ کیا گیا تھا۔ 02مارچ کو برطانوی حکومت کو حکومت پنجاب کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا۔ کوویڈ کی وجہ سے مختلف ملکوں کی طرح برطانیہ کے وزٹ ویزوں میں توسیع کی گئی میاں نواز شریف بھی وزٹ ویزے پر برطانیہ میں اسی توسیع کے تحت موجود ہیں۔۔کابینہ نے سابق سیکرٹری خزانہ ڈاکٹر وقار مسعود کو مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوارڈینیشن بورڈ میں بطور ممبر تعینات کرنے کی منظوری دیکابینہ نے حکومت بلوچستان کی درخواست پر بلیدا ٹاؤن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پراجیکٹ /پیکیج کے لئے فرنٹیئر کور بلوچستان (ساؤتھ) کی دو پلاٹونوں کی تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے چیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کو بطور نمائندہ برائے پاکستان شپ اونرز ایسوسی ایشن کراچی پورٹ ٹرسٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں بطور ٹرسٹی تعینات کرنے کی منظوری دی۔ یہ تعیناتی ان کے عہدے کی بقیہ مدت یعنی 03دسمبر2020تک ہے۔ وفاقی کابینہ نے صارفین کی صحت اور تحفظ کو مد نظر رکھتے ہوئے اکسٹھ (61) فوڈ اور نان فوڈ آئیٹمز کو پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے کمپلسڑی سرٹیفیکیشن مارک سکیم (Compulsory Certification Mark Scheme) میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے 12اگست، 19اگست اور 20اگست 2020کے اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 12اگست 2020کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ اس حوالے سے ایک فیصلہ نیو یارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کے حوالے سے لیا گیا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ اس وقت روز ویلٹ کے بقایا جات 1.25ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ بعض غلط فہمیوں کے برعکس موجودہ اقدامات کا مقصد اس اثاثے کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا اور مسلسل بڑھنے والے نقصانات کو روکنا ہے۔ وزیرِ صنعت حماد اظہر نے چینی کی قیمتوں میں کمی کے حوالے سے اقدامات اور ان کے نتائج کے بارے میں بریف کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک حکومتی اقدامات کی بدولت چینی کی قیمت میں چار سے پانچ روپے کمی آ رہی ہے جو آئندہ ایک دو روز میں پرچون کی سطح پر بھی سامنے آئے گی۔ حماد اظہر نے بتایا کہ نجی شعبے میں چینی کی درآمد کے حوالے سے مثبت رجحان پایا جاتا ہے۔ وزیرِ برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی سید فخر امام نے کابینہ کو مستقبل میں گندم، کپاس اور دیگر اہم فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے اقدامات جن میں میعاری بیج کی فراہمی، سپورٹ پرائس کے حوالے سے پیشگی اعلان کے حوالے سے تجاویز کابینہ اجلاس میں پیش کیں۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ فوڈ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے قلیل المدت، وسط اور طویل المدت پالیسی منصوبہ سازی کا عمل شروع کیا جائے۔ اجلاس کے دوران گیارہ ایجنڈا موخر کر دیا گیا۔ کابینہ نے سسٹینیبل ڈویلپمنٹ گولز اچیوومنٹ پروگرام کے حوالے سے گائیڈلائنز میں ترمیم کی منظوری دی۔ 

وفاقی کابینہ

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں احتساب کا عمل سخت ہو گیا، اپوزیشن فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کی کوششوں کو سبوتاڑ کر رہی ہے۔ یہ  رہتے تو ملکی معیشت کو تباہ کر کے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کروا دیتے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلقہ دو بل مسترد کر دیئے گئے۔ ان بلوں میں اینٹی منی لانڈرنگ اور اسلام آباد وقف املاک  بل شامل تھے۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے میں کہہ رہا ہوں اپوزیشن رہنماؤں کے مفادات ملکی مفادات سے متصادم ہیں ہیں، احتساب کا عمل سخت ہوگیا ہے۔ اب ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کی کوششوں کو سبوتاڑ کیا جا رہا ہے، اپوزیشن رہنما پارلیمنٹ کو کام کرنے سے روکنے کی کوشش کر کے اپنے کرپشن کے پیسے کو بچانے کے لئے سرگرم ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مؤثر کووڈ 19 حکمت عملی عالمی سطح پر کامیابی کی ایک پہچان بن چکی ہے، اپوزیشن نے پہلے کووڈ پالیسی کی کمزور کرنے کی کوشش کی۔ اب ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے باہر نکلنے کی کوششوں کو سبوتاڑ کیا جا رہا ہے۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں اپوزیشن اپنی لوٹ مار کو بچانے کے لئے جمہوریت کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہے، اپوزیشن نے این آر او حاصل کرنے کے لئے نیب کو بدنام اور حکومت کو بلیک میل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن این آر او حاصل کرنے کے لیے حکومت کو مسلسل دھمکا رہی ہے۔ یہاں واضح کرنا چاہتا ہوں کچھ بھی ہو جائے، این آر او نہیں ملے گا، این آر او دینا قوم کے اعتماد کے ساتھ غداری ہوگی۔با عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملکی دولت لوٹنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کا مینڈیٹ لیا ہے، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے دو این آر اوز دیے جس سے ہمارا قرض چار گنا بڑھا اور معیشت تباہ ہوئی، ملک مزید کسی این آر او کا متحمل نہیں ہو سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر اب ملک کو گرے لسٹ سے نہیں نکلنے دے رہے، اپوزیشن معیشت تباہ کرکے ملک میں غربت بڑھانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن نے پاکستان کو بلیک لسٹ کی طرف دھکیل دیا ہے۔

عمران خان

مزید :

صفحہ اول -