شیخ زید ہسپتال، 850برطرف ملازمین کا دھرنا، احتجاجی ریلی، انتظامیہ کیخلاف نعرے 

شیخ زید ہسپتال، 850برطرف ملازمین کا دھرنا، احتجاجی ریلی، انتظامیہ کیخلاف ...

  

  رحیم یارخان(بیورو رپورٹ ) شیخ زید میڈیکل کالج وہسپتال کے برطرف ملازمین اور ہسپتال انتظامیہ میں ٹھن گئی، 850برطرف ملازمین نے او پی ڈی کے سامنے دھرنا دیا اور او پی ڈی کو 7ویں روز بھی بند رکھا، بعد ازاں احتجاجی ریلی نکالی ہسپتال کے مین گیٹ کے باہر دھرنا دیا اورہسپتال کا مین داخلی گیٹ بند رکھا ڈنڈابردار ملازمین نے گیٹ سے کسی بھی مریض اورباہرسے آنے والوں کو ہسپتال کے اندر داخل نہ (بقیہ نمبر34صفحہ6پر)

ہونے دیا۔ریلی  ہسپتال کے گیٹ سے روانہ ہوکر ڈپٹی کمشنر آفس کے سامنے پہنچی اور مین روڈ کو بند کردیا۔ہسپتال میں مریضوں اورلواحقین کو شدید اذیت کاسامنا ہے ایک ماہ سے نوکریوں سے برخاست کئے گئے ایڈہاک ملازمین جن میں ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل سٹاف، فارماسسٹ اوردرجہ چہارم کے ملازمین شامل ہیں تین ماہ سے ان ملازمین کی تنخواہیں بند ہیں اوران کا ایڈہاک بھی ایکسٹینڈ نہیں کیاجارہا جس کی وجہ سے یہ ملازمین روزانہ احتجاج کرتے ہیں اورہسپتال کی او پی ڈی بندکررکھی ہے۔متاثرہ ملازمین کا کہناہے کہ وہ عرصہ دس پندرہ سال سے ایڈہاک پرکام کررہے ہیں اب انہیں بغیر کسی نوٹس کے نوکریوں سے فارغ کردیا گیاہے اورانکی تنخواہیں روک دی ہیں جس کی وجہ سے ہمارے گھروں کے چولہے ٹھنڈے اورنوبت فاقوں پرآگئی ہے جبکہ ہسپتال انتظامیہ کا کوئی ذمہ دار ہماری بات سننے کو تیارنہیں، ریلی کی قیادت وائی ڈی اے کے چیف پیٹرن ڈاکٹر شبیراحمد وڑائچ، گرینڈہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹرامجد علی کررہے تھے، انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہسپتال انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے ان ملازمین کو یہ دن دیکھنا پڑے ہیں اور یہ سڑکوں پر آگئے ہیں اب اس احتجاج کا سلسلہ رکے گا نہیں اسکو صوبائی سطح تک لیکر جائیں گے کسی ڈاکٹر،اورملازمین کے ساتھ زیادتی نہیں ہونگے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ڈپٹی کمشنر علی شہزاد سے بھی ملاقات کریں گے وہ ہمارے احتجاجی دھرنامیں آکر ملازمین کے مسائل سنیں اورانہیں حل کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ہسپتال میں 1300سیٹیں خالی پڑی ہیں ان پر ان ملازمین کو بھرتی کیا جائے تاکہ ان کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ جائے اوریہ اپنی نوکریوں پربحال ہوسکیں بصورت دیگر حالات کی ذمہ داری ہسپتال انتظامیہ پر ہوگی اور تمام انڈور سروسز بند کریں گے۔

دھرنا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -