ضلع کچہری ملتان: مال خانے سے سکے‘ زیورات‘ پاکستان کی قدیمی کرنسی برآمد 

  ضلع کچہری ملتان: مال خانے سے سکے‘ زیورات‘ پاکستان کی قدیمی کرنسی برآمد 

  

ملتان (خصو صی رپورٹر)  ضلع کچہری ملتان کا چھ روز سے سیل کیا جانے والا مال خانہ گزشتہ روز آثار قدیمہ، عدالتی افسران اور ضلعی انتظامیہ کے نمائندوں کی موجودگی میں کھول دیا گیا۔ کئی دہائیوں سے بند مال خانہ کی عمارت سے قدیمی سکے، سونے اور چاندی کے زیورات،سونے کے بسکٹ اور پاکستان کی قدیمی کرنسی برآمد ہوئی، انتظامیہ اور دیگر حکام کی طرف سے میڈیا (بقیہ نمبر36صفحہ6پر)

کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی گئی، مال خانہ سے برآمد سامان کی ڈیوٹی پر موجود ایس ایچ او تھانہ چہلیک اور صدر ڈسٹرکٹ بار نے تصدیق کردی جبکہ ضلعی انتظامیہ اور دیگر حکام کی طرف سے کسی قسم کا موقف سامنے نہ آیا۔ تفصیل کے مطابق کئی دہائیوں سے بند ضلع کچہری کا مال خانہ سے تعمیراتی کام کے دوران مزدوروں کو چند سکے ملے تھے جس پر سات روز قبل مال خانے کی قدیمی عمارت کو سیل کردیا گیا تھا جسے گزشتہ روز پولیس اور دیگر حساس اداروں کی سخت سیکیورٹی اور ضلعی انتظامیہ، عدالتی افسران، آثار قدیمہ اور لاہور سے آنیوالی پنجاب حکومت کی ٹیموں کی نگرانی میں ڈی سیل کیا گیا۔ کمرہ میں موجود لکڑی کی پرانی الماری سے نکالی جانیوالی پوٹلیوں جن پر 1950،51، 52 کی تاریخیں لکھیں ہوئیں تھیں میں سے قدیمی سکے، سونے اور چاندی کے زیورات،سونے کے بسکٹ اور پاکستان کی قدیمی کرنسی نکالی گئی جس کی تصدیق میڈیا کے دباؤ دینے پر ایس ایچ او تھانہ چہلیک اختر شاہ نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کی، صدرڈسٹرکٹ بار عمران سلہری نے بتایا کہ کئی دہائیوں سے مال خانہ کی عمارت بند تھی جس میں موجود الماری کو کھولا گیا،الماری میں سے متعدد سفید پوٹلیوں کی صورت میں سامان نکلا ہے،تمام تھیلوں پر پولیس کے ایف آئی آر نمبر درج ہیں،نکلنے والے سامان میں ڈویثرن بھر کا مال مقدمہ موجود ہے،قدیمی سامان میں سونے کے پرانے سکے،سونے کے بسکٹ اور دیگر زیورات، چاندی کی پازیبیں اور پاکستان کی قدیمی کرنسی نکلی ہے،جس کا ریکارڈ مرتب کر کے دوبارہ سے پیک کیا جا رہا ہے،دوسری جانب ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے ضلعی انتظامیہ اور دیگر حکام کے حکم پر میڈیا کو موقع سے دور رکھا گیا اس دوران میڈیا کے نمائندوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان روکے جانے پر تلخ کلامی کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ متعدد بار ڈپٹی کمشنر عامر خٹک، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو طیب خان، ایڈیشنل اے ڈی سی ہیڈ کوارٹر رانا اخلاق اور دیگر حکام سے رابطہ بھی کیا گیا مگر کسی افسر کی جانب سے کمرہ سے برآمد ہونے والا سامان کے بارے میں کسی قسم کی وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ ضلع کچہری میں خزانہ نکلنے کی خبریں سنتے ہی بڑی تعداد میں شہریوں اور وکلاء  کا بھی رش لگ گیا۔کئی گھنٹوں انتظار کرنے کے بعد بھی کچھ دیکھنے کو نہ ملا۔ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کی جانب سے خزانے دیکھنے کے لیے آئے شہریوں کو دھکے بھی دیے گئے جس پر وہ مایوس ہوکر واپس لوٹ گئے۔

سکے

مزید :

ملتان صفحہ آخر -