حکومت مالکان کو ہراساں کرنے کے بجائے ٹھوس پالیسیاں بنائے‘ عبدالرؤف مختار 

حکومت مالکان کو ہراساں کرنے کے بجائے ٹھوس پالیسیاں بنائے‘ عبدالرؤف مختار 

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر) چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب عبدالرؤف مختار اور سابق چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن نواب لیاقت خان نے دیگر عہدیداران کے ہمراہ گزشتہ روز ملتان پریس کلب میں مشترکہ پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گندم کے حوالے سے حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی موجود نہیں ہے،پرائیویٹ سیکٹر 10 لاکھ ٹن گندم باہر سے (بقیہ نمبر50صفحہ6پر)

امپورٹ کر رہا ہے،گورنمنٹ باہر  سے پندرہ لاکھ ٹن گندم امپورٹ کر رہی ہے۔ حکومت کی سب پالیسیاں غلط ہیں۔ حکومت اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے زرمبادلہ کو ضائع کر رہی ہے انھوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے روز ایسی کارروائی کی جاتی ہے جس سے معاملات خراب ہورہے ہیں انھوں نے کہا کہ ملتان میں انتہا کر دی گئی ملوں کو سیل کر دیا گیاجس کے نتیجہ میں فلور ملز کی عزت کومٹی میں ملا دیا گیا۔انتظامیہ نے صبح ملیں سیل کیں اور اب چھ گھنٹوں کے بعد ملیں ڈی سیل کردی گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کے مطابق 20 کلو آٹے کا تھیلا آٹھ سو ساٹھ روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے بنائے گئے آن لائن پروگرام کے مطابق دکانوں پر آٹا فراہم کر رہے ہیں۔حکومت جتنی گندم فراہم کریں ہے اتنا ہی کوٹا واپس مارکیٹ میں بھجوایا جا رہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر حکومت اور بیوروکریسی نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو احتجاجاًفلور ملیں بند کردیں گے جس سے آٹے کی فراہمی کا شدید بحران پیدا ہوسکتاہے۔انھوں نے مزید کہا کہ نااہل بیوروکریسی نے فلور ملوں کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کیلئے ایسے اداروں کو مسلط کردیا ہے جو اس کام سے مکمل طور پر لاعلم و ناوفاقف ہیں انھوں نے کہا کہ فلور ملز مالکان کو ہراساں کرنے کی بجائے بہتر پالیسی بنائے تاکہ ملک میں آٹے کے حوالے سے صارف اورپروڈیوسر دونوں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔

مالکان

مزید :

ملتان صفحہ آخر -