ملتان‘ بہاولپور میں الگ الگ سیکرٹریٹ بنانے پر غور شروع 

  ملتان‘ بہاولپور میں الگ الگ سیکرٹریٹ بنانے پر غور شروع 

  

ملتان (نیوز رپورٹر) پنجاب حکومت نے ملتان اور بہاولپور کے مابین سیکرٹریٹ کے پیچیدہ مسئلہ کو حل کرنے کیلئے دونوں شہروں میں الگ الگ سیکرٹریٹ بنانے اور مساوی سطح پر محکمے تقسیم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا،  8 محکمے ملتان اور 8 محکموں کے دفاتر بہاولپور میں قائم کیئے جائیں گے جن کا اعلان جلد متوقع ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور تحریک انصاف کے ایم این اے ملک احمد حسین دیہڑ کی ملاقات کی اندرونی کہانی باہر آگئی۔ باوثوق ذرائع (بقیہ نمبر23صفحہ6پر)

کیمطابق حکومت پنجاب  ملتان اور بہاولپور میں سیکرٹریٹ اور دارلحکومت کے معاملہ پر تشویش کا شکار ہے خاص طور پر اہل ملتان کے شدید ردعمل نے حکومتی حلقوں میں پریشانی کی لہر پیدا کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی پنجاب نے اس صورتحال پر وزیر اعظم سے بھی مشورہ کیا تو وزیر اعظم نے بھی انہیں جواب دیا کہ جنوبی پنجاب کے اراکین کی کمیٹی سے مشورہ کریں جس پر وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ جنوبی پنجاب کمیٹی نے ہی بہاولپور میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے آفس کی منظوری دی تھی اور ملتان میں ایڈیشنل آئی جی آفس کی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کے ماتحت 16 محکمے ہوتے ہیں لہذا جس جگہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا آفس ہو گا یہ 16 محکمے بھی وہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ جنوبی پنجاب کمیٹی میں شاہ محمود قریشی کے سوا ممبران کی اکثریت کا تعلق بہاولپور سے تھا جس کی وجہ سے بہاولپور میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری آفس کے قیام کا فیصلہ ہوا۔وزیر اعظم نے اس صورتحال میں کمیٹی میں ملتان بہاولپور کے علاوہ ڈی جی خان ڈویژن سے بھی اراکین کی شمولیت کے لیئے کہا تاکہ پورے خطے کی نمائندگی ہو اور جو بھی فیصلہ ہو متفقہ ہو۔ گزشتہ رات تحریک انصاف کے ایم این اے ملک احمد حسین دیہڑ نے وزیر اعلی پنجاب سے تفصیلی ملاقات کی اور ملتان میں سیکرٹریٹ اوردارلحکومت کے حوالے سے بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلی نے کہا کہ ملتان اور بہاولپور میں سیکرٹریٹ کے مسئلے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے اور جنوبی پنجاب کمیٹی کے فیصلے کو بیلنس کرنے کیلئے ہم 8 محکمے ملتان اور 8 محکمے بہاولپور میں قائم کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایم این اے ملک احمد حسین دیہڑ نے کہا کہ ابھی ملتان اور بہاولپور میں آٹھ آٹھ محکمے تقسیم کرنے کا حتمی فیصلہ نہ ہوا ہے تاہم مسئلے کو حل کرنے کیلئے یہ تجویز  بھی زیر غور ہے اور وزیر اعلی سردار عثمان بزدار کے مطابق اس سے دونوں علاقوں میں محکمے ہونے سے عوام کو ان کی دہلیز پر سہولت ملے گی۔ ملک احمد حسین دیہڑ نے کہا کہ میں ذاتی طور پر اس تجویز سے متفق نہیں ہوں۔میں نے وزیر اعلی سے بھی کہا ہے کہ ملتان ہر لحاظ سے مکمل سیکرٹریٹ اور دارلحکومت کیلئے ہر میرٹ پر پورا اترتا ہے۔ہم ملتان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت نہ کریں گے۔

غور

مزید :

ملتان صفحہ آخر -